ڈاکٹر عمیر پرویز خان نے Selçuk University میں پی ایچ ڈی مقالے کا کامیاب دفاع کر لیا

110

قونیہ، ترکیہ (سٹیٹ ویوز) ڈاکٹر عمیر پرویز خان نے Selçuk University میں اپنے پی ایچ ڈی مقالے بعنوان “Hindutva and the Transformation of Indian Strategic Culture” کا کامیاب دفاع کر لیا، جو بین الاقوامی تعلقات اور اسٹریٹجک اسٹڈیز کے میدان میں ایک نمایاں علمی کامیابی ہے۔

اس تحقیق میں ہندوتوا کی نظریاتی بنیادوں اور بھارتی اسٹریٹجک کلچر میں آنے والی تبدیلی کا تنقیدی جائزہ لیا گیا۔ مطالعے کے مطابق ہندوتوا بھارتی معاشرے اور ریاستی اداروں میں گہرائی تک ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس کا نظریاتی رخ بڑی حد تک ناقابلِ واپسی ہے۔

مزید برآں، اس تبدیلی کے پاکستان اور چین کے لیے نہایت اہم اسٹریٹجک اور سیکیورٹی مضمرات ہیں، خصوصاً علاقائی استحکام، عسکری حکمتِ عملی اور خارجہ پالیسی کے تناظر میں۔ڈاکٹر عمیر اس وقت National Defence University کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں بطور لیکچرار خدمات انجام دے رہے ہیں۔

وہ جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی سے متعلق علمی و پالیسی مباحث میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں اور مسئلہ کشمیر کو قومی اور بین الاقوامی فورمز پر مؤثر انداز میں اجاگر کر چکے ہیں۔انہوں نے اپنے سپروائزر ڈاکٹر نیزیر آکیشیلمن کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی رہنمائی اور تنقیدی بصیرت اس تحقیق کی تکمیل میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

اسی طرح اپنے شریک سپروائزر ڈاکٹر خرم اقبال کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جن کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہ تھی۔ڈاکٹر عمیر نے اس کامیابی کو اپنے خاندان، خصوصاً اپنے والدین کے نام منسوب کیا جن کی دعاؤں اور قربانیوں نے انہیں اس مقام تک پہنچایا۔

انہوں نے حکومتِ ترکیہ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اسکالرشپ کے ذریعے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔یہ کامیابی جنوبی ایشیا کی اسٹریٹجک سوچ میں نظریاتی تبدیلی کو سمجھنے کے حوالے سے ایک اہم علمی اضافہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں