تحریر: ایم شیراز انجم لاہور کینٹ
رحمت اللعالمین، رسولِ کائنات،اِنسانِ کامل، فخرِ موجودات، خاتم النبین حضرت محمد رسولِ عٙرٙبیﷺ نسلِ آدمؑ کے لیے نمونہءکامل ہیں۔ خالقِ ارض و سما نے اُن کےاُسوہءِحٙسٙنہ کی مکمل پیروی میں ہی نجات رکھی ہے۔ رسولِ عربی حضرت محمدؐ کے معمولاتِ زندگی ہی قیامت تک کے لیے شعار و معیار ہیں۔ سیرتِ خیرالبشر حضرت محمدؐ کا ہر گوشہ ہمہ گِیر اور تابناک ہے۔ آپ کی تابناک زیست کا ہر لمحہ قدرت نے لوگوں سے محفوظ رکھا اور کمال انداز سے ہم تک پہنچایا ہے۔ دُنیائے اِنسانیت کی کِسی بھی عظیم المرتبت ہستی کے حالاتِ زندگی، انداز و اطوارِ زندگی، مزاج و رُحجان، اُٹھنا بیٹھنا، کھانا پِینا اور دیگر معمولاتِ زندگی اِتنے کامل اور مدلل نہیں حِس طرح سیرت النبی ﷺ کا ایک ایک جُز دُنیا کے سامنے ہے۔
اِس عالمِ نابقاء میں ایک عُمدہ زندگی گزارنے کے لیے ربِ کائنات نے دِینِ حق اِسلام کو مکمل نظامِ حیات اور فخرِ موجودات حضرت محمدؐ کو نمونہء حیات بنا کر بھیجا ہے۔ سیرت النبی ﷺ کا عنوان ہمیشہ نیا سے نیا ہوتا جاتا ہے جو کبھی پرانا نہیں ہوتا کیونکہ “وٙرٙفٙعٙنٙا لٙکٙ ذِکرٙک”سیرت النبی ﷺ کا معجزہ اور تفسیر ہے۔
وٙرٙفعٙنٙالٙکٙ ذِکرٙک کا معجزہ جب ایک الہامی کیفیت بن کر اِنسانی فہم و فِکر پر حاوی ہوتا ہے تو سیرت النبی ﷺ کے حوالہ سے الفاظ کا نزول شروع ہو جاتا ہے جِن سے لفظوں کی ایک مالا سی بنتی ہے اور جب یہ الفاظ مکمل روپ دھار لیتے ہیں تو وہ نعت کہلاتی ہے اور یوں وہ نعت کہنے والا شاعر سیرت النبی ﷺ کے ہر گوشہءِ فِطرت سے اپنی فہم و فِکر کو معطر کرتا جاتا یے۔
اِس بار ماہانہ نعتیہ مُشاعرہ کے ساتھ فنِ نعت بیٹھک کا اہتمام بھی کِیا گیا تھا جِس میں نعت پر ایک نیا تحقیقی سلسلہ شروع کِیا گیا جو نعت کے حوالہ سے ایک نئی جُستجو عطاء کر گیا۔ ۸۰ ویں ماہانہ مشاعرہ کی دو نشستیں تِھیں ۔۔ نظامت کے فرائض حسبِ سابق مدیرِ اعلیٰ ماہنامہ کاروانِ نعت جناب محمد ابرار حنیف مُغل صاحب نے ادا کیے۔ آغاز تلاوت کلامِ پاک فُرقانِ حمید قُرآنِ پاک سے محمد حسین مرتضیٰ مُغل نے اپنی دِلنشِیں آواز سے کیا ۔ تلاوتِ کلام پاک کے بعد ایک ننھے منھے نونہال محمد ابراہیم نے بہت عمدگی سے نعتِ رسول ﷺ پیش کر کے ایک سحر سا طاری کر دیا ۔اُن کے بعد پہلی نشست میں فنِ نعت کے حوالہ سے مفتی محمد عِمران انیس طاہری صاحب نے ایک مکمل تحقیقی مقالہ پیش کِیا ۔اُنہوں نے شعراء کے حوالہ سے قرآن پاک کی سورةالشعراء کی تفسیر بیان کرتے ہوے کئی پہلووں سے آگہی دی ۔ اور نعت کی شاعری کے حوالہ سے قلوب کو ایک فکر عطا کر گئے ۔
حمد ربِ کائنات ، نعتِ رسول ﷺ کے حوالہ سے شاعری کو پزیرائی بخشتے ہوے نعتِ رسول ﷺ کے مختلف حوالے دے کر فنِ نعت کو تقویت دی۔ اُن کے بعد دوسری نشست نعتیہ مشاعرہ کا باقاعدہ آغاز حسبِ روایت صاحبِ نظامت جناب محمد ابرار حنیف مُغل صاحب نے اپنی لکھی نعت ترنم سے دربارِ رسالت ﷺ میں پیش کر کے کِیا اور خوب داد سمیٹی۔نعتیہ مشاعرہ میں سیرت پر صدارتی ایوارڈ یافتہ ممتاز شاعر جناب محمد طفیل اعظمی صاحب نے اپنی خوبصورت نعت پیش کر کے خوب داد وصول کی ۔ کاروانِ نعت کے مشاعرہ میں پہلی بار میری دعوت پر حاضری دینے والے معروف شاعر ڈائریکٹر پاکستان ادبی فورم جناب ولایت احمد فاروقی صاحب نے اپنی پُرکیف مترنم آواز میں اپنی نعت ،
کِسی نے چاند کہا ہے تو کوئی ستارا کہے
نبیؐ ہے جان سے پیارا جہان سارا کہے
پیش کر کے ماحول پر ایک سحر طاری کیے رکھا ۔ ہر فرد نے اُن کی اِس نعت پر کُھل کر داد دی ۔ راقم ایم شیراز انجم نے اپنی نئی نعت دربارِ رسالت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جِس کو بہت پسند کیا گیا اور کمال حوصلہ افزائی سے نوازا گیا ۔ نعت کا مطلع،
” جہانِ رنگ و بُو میں سب محمدؐ کا اُجالا ہے
شِکم میں رِزق ہے اُن کا، اُنہِیں کا بس نوالا ہے
مشاعرہ میں جناب غلام عباس ولی نظامی، جناب محمد طاہر شاہجانی، جناب محمد ارسلان ارشد ارسلان ، جناب محمد الیاس چاک شاہ اور جناب محمد عمران اشفاق نے اپنی نعتیں پیش کر کے قلوب کو منور فرمایا اور خوب داد سمیٹی۔ سامعین میں محمد حسن مرتضیٰ مغل ، محترم اعجاز صاحب اور نو نہالانِ ملّت بھی موجود رہے
آخر میں رجناب رضا نقشبندی نے سلام بحضور حضرت محمد ﷺ پیش کیا اور محمد طفیل اعظمی صاحب نے دعا سے پروگرام کا اختتام کیا اور پھر ظہرانہ دیا گیا۔
اللّه پاک جملہ ثنا خوانِ مصطفیٰؐ کو شاد آباد رکھے اور الفاظِ مدحت عطاء کرتا رہے ۔آمین