تحریر:ثمینہ عامر
کراچی میں ٹوٹے اور جگہ جگہ کھدائی ہونے کی وجہ سے نوجوان نسل جس عذاب اور کرب سے گزر رہی ہے اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں ایک تو پہلے ہی بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان پریشان ہیں اور اگر اپنی عزت نفس کو مار کر رائڈر کا کام کر بھی لیں تو انتہائی پریشانی کا سامنا کرتے ہیں.
ہفتے میں چار دن تو ان ان کی بائیک پنچر جیسی عذاب سے گزرتی ہے اوپر سے پنچر والوں کے نخرے برداشت کر کے ہر دوسرے دن نئی ٹیوب ڈلوانا ان بچوں کے بساط سے باہر ہے ان سڑکوں کی وجہ سے ہی وہ بچے نہ تو وقت پر اپنا ارڈر پہنچا پاتے ہیں اور اپنی ہی تنخواہ سے اپنے پیسے کٹواتے ہیں مجھے ذرا یہ تو بتائیے کہ یہ بچے اپنا گھر چلائیں یا اپنے روز کے خرچے پورے کریں۔
اوپر سے ان سڑکوں کی وجہ سے نہ صرف بزرگ پریشان ہیں بلکہ نوجوان نسلوں کی بھی ریڑھ کی ہڈی کے مسائل حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں خدا کے لیے اس نوجوان نسل کو تو بچا لیجئے۔حکومت سے التماس ہے کہ ایک ساتھ پورا کراچی کھودنے کی ایسی کیا ضرورت تھی یا تو سالوں کام نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو پورا کراچی ایک ساتھ کھود دیا تاکہ کہیں سے جانے کی جگہ ہی نہ ملے خدا کے لیے اچھے اچھے اونچی اونچی گاڑیوں سے نکل کر سڑکوں پر ا کر بھی دیکھیں کہ عوام کس کرب اور پریشانی سے گزر رہی ہے خدارا جلد ہی اس روشنیوں کے شہر کراچی کو تمام مسائل سے نجات دے دیں۔