کرپشن پاکستان کا دائمی ناسور

67

تحریر: نعیم الحسن نعیم
کرپشن پاکستان کا وہ گہرا زہر ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے خوابوں کو چیرتا ہمارے روشن مستقبل کو سیاہ و تاریک کر دیتا ہے۔ یہ محض ایک عام معاشرتی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کی روح کو کھوکھلا کرنے والا ہمارے اندرونی نظام کو دیوالیہ کر دینے والا قاتل ہے جو خاموشی سے ہر رگ و پے میں اپنا زہر گھول رہا ہے۔ کرپشن نے انصاف کے ترازو کو متوازن ہونے سے روک دیا دیانتداروں کی آواز دبا دی، اور ناانصافی کو وہ جگہ دی جہاں وہ پروان چڑھ سکے۔ یہی کرپشن ہے جس نے محنت کرنے والے طبقے کے ہاتھوں سے اُن کے حقوق چھین لیے اور امیر و غریب کے درمیان اتنا گہرا خندق کھود دیا کہ اب کوئی پُل نہیں بچا جو انہیں ملائے کرپشن کی اس سیاہ آگ نے ہماری قوم کی تقدیر کو جلا ڈالا ہے جب حکمران طبقہ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ملک کے خزانے کو لوٹتا ہے تو عام آدمی کی زندگی غربت مایوسی اور ظلم کی زنجیروں میں جکڑ جاتی ہے۔

پاکستان کی تاریخ کا سب سے کڑا اور کڑوا سچ یہ ہے کہ یہاں کرپشن محض ایک جرم نہیں بلکہ ایک نظام کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایسا نظام جس نے انصاف میرٹ محنت اور دیانت سب کچھ نگل لیا ہے۔ ریاست کا ہر طبقہ ہر گریڈ ہر محکمہ اور ہر عہدہ اپنی طاقت کے مطابق اس بیماری میں مبتلا ہے۔گریڈ 1 سے گریڈ 10 تک چھوٹے ہاتھوں کی بڑی لوٹ مار
یہ وہ طبقہ ہے جو دفاتر میں عام شہری کا پہلا سامنا بنتا ہے۔ چپڑاسی، کلرک، نان گزٹڈ اسٹاف یہ لوگ سرکاری مشینری کا پہیہ چلاتے ہیں مگر اسی پہیے پر عام آدمی کو پیس دیتے ہیں۔ فائل آگے بڑھانے کے لیے چائے پانی مانگا جاتا ہے اسپتال میں مریض کا علاج تب ہوتا ہے جب نذرانہ دیا جائے، اور تھانے میں ایف آئی آر کی قیمت مقرر ہے۔

گریڈ 11 تا 12 سسٹم کے اصلی نگران
یہ طبقہ کرپشن کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اکاؤنٹنٹس انسپکٹرز اسسٹنٹس یہ لوگ وہ کڑیاں ہیں جو اوپر والوں کے لیے رشوت جمع کرتے ہیں۔ ہر محکمہ، چاہے وہ ریونیو ہو، ٹیکس، واپڈا یا پولیس سب کی اپنی ریٹ لسٹ موجود ہے۔ ان کے لیے دیانت داری کمزوری اور رشوت روزگار بن چکی ہے۔

گریڈ 17 تا 19 سفید پوش کرپشن
یہ افسران تعلیم یافتہ نفیس گفتار اور قانون کے ماہر ہوتے ہیں مگر نظام کے سب سے خطرناک کردار ہیں۔ یہ کرپشن کو قانون کے پردے میں چھپانے کے ماہر ہیں۔ ٹینڈرز، منظوریوں اور پالیسیوں کے نام پر کمیشن کھاتے ہیں۔ ان کے دستخط ایک غیر قانونی کام کو قانونی رنگ دے دیتے ہیں۔

گریڈ 20 تا 21 طاقت کی کرپشن
یہ بیوروکریسی کا بادشاہ طبقہ ہے۔ سیکریٹری، کمشنر، چیئرمین اور ڈی جی حضرات جن کے فیصلوں سے قوموں کی سمت طے ہوتی ہے۔ یہ لوگ رشوت نہیں لیتے، بلکہ پالیسی بیچتے ہیں۔ ان کے دستخط اربوں روپے کے منصوبوں کو اپنی مرضی کے لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ ان کے لیے ریاست ایک ادارہ نہیں بلکہ ذاتی جاگیر بن چکی ہے۔

سیاستدان بدعنوانی کے ٹھیکیدار
یہ طبقہ قوم کے مقدر کے فیصلے کرتا ہے مگر ان کے فیصلے عوام کے نہیں، ذاتی مفاد کے لیے ہوتے ہیں۔ وزارتوں کی بندربانٹ سے لے کر ترقیاتی فنڈز کی تقسیم تک ہر قدم پر کمیشن، سفارش، اور اقربا پروری غالب ہے۔قومی خزانہ ذاتی تجوریوں میں جاتا ہے اور پھر یہی لوگ قوم سے قربانی مانگتے ہیں۔

پولیس، عدلیہ، تعلیم، صحت، کرپشن کے مرکز
پولیس عوام کی محافظ نہیں طاقتور کی آلہ کار بن چکی ہے۔ قانون عام آدمی کے لیے قید اور طاقتور کے لیے ڈھال ہے۔ عدلیہ انصاف اب فیصلے سے نہیں بلکہ تعلقات، سفارش اور دباؤ سے تقسیم ہوتا ہے۔ تعلیم ڈگریاں بکنے لگی ہیں میرٹ دم توڑ چکا ہے، اور نقل نے علم کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ صحت اسپتال علاج نہیں کمیشن اور سفارش کے مراکز ہیں۔ ڈاکٹر مریض کی بیماری سے زیادہ دوا ساز کمپنیوں کے مفاد کے وفادار ہیں۔ہر ڈاکٹر کا اپنا ایک مخصوص میڈیکل سٹور اور مخصوص لیبارٹری ہے جہاں سے میڈیسن لینے اور ٹیسٹ کروانے کے لیے مریض کو سختی سے پابند کیا جاتا ہے.

تاجر سبزی منڈی سے 15 یا 20 روپے کلو کے حساب سے بینگن خرید کر 110 روپے کلو بیچنے والا سبزی فروش کہہ رہا تھا چینی کو تو آگ لگی ہوئی ہے، پھر 750 روپے ریٹ والا بڑا گوشت 1200 روپے کلو بیچنے والے قصاب کو کہتے سنا کہ ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے، 40 کلو خالص دودھ میں 20 کلو پانی اور پاؤڈر ملا کر بیچنے والا بھی شکایت کر رہا تھا کہ پوری نہیں پڑتی دال میں کنکر ملانے والا تاجر چاول میں کنکر ملانے والا آڑھتی لال مرچ میں لکڑی کا بُورا ملانے والی فیکٹری کا مالک، کچے آڑو کو لال رنگ کر کہ بیچنے والا، صرف فیوز خراب ہونے پر فریج کا کمپریسر خراب بول کر 8 ہزار حرام کمانے والے، عمرہ اور حج کے مسافروں کو بھی ویزے اور ٹکٹ پر ذلیل کر کہ پیسا بٹورنے والا یہ طبقہ ٹیکس چوری کو سمجھداری کہتا ہے.عوام بجلی چوری کو مجبوری اور جھوٹ بولنے کو چالاکی.

جو رکشہ ڈرائیور دن بھر کھڑا رہ کر باری کا انتظار کرتا ہے آوازیں لگاتا ہے، وہی رات کو لیٹ نائٹ بلیک میل کر کہ منہ مانگے پیسے لیتا ہے. سکول ٹیچر بچے کو صرف اسلیئے کم نمبر دے دیتا ہے کہ وہ اس سے پرائیویٹ ٹیوشن نہیں پڑھتا مزدور سہ پہر 4 بجے سے آدھا گھنٹہ پہلے ہی کپڑے جھاڑ لیتا ہے مستری 3000 روپے دیہاڑی لیکر بھی شرطیں رکھتا ہے کہ بلڈنگ کے اندر والا کام ہے تو بتاو دھوپ والا نہیں کرنا. ہم سب کسی نہ کسی درجے میں اس جرم کا حصہ بن چکے ہیں۔ کرپشن اب صرف دفتر میں نہیں، ضمیر میں اتر چکی ہے۔
پاکستان کی تباہی کی جڑ کوئی غیر ملک نہیں خود ہم ہیں۔ہم نے امانت کو کاروبار، قانون کو مذاق، اور عہدے کو منڈی بنا دیا ہے. جب تک کرپشن کو قانون نہیں بلکہ گناہ سمجھ کر جڑ سے نہیں اکھاڑا جاتا، اس ملک میں نہ انصاف آئے گا، نہ ترقی نہ سکون۔آخر میں سوال یہ ہے کہ کیا ہم کرپشن سے نفرت کرتے ہیں یا صرف اُس کرپشن سے جو ہمیں حصہ نہیں دیتی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں