اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،سٹیٹ ویوز)کشمیری قائدین نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے کشمیر بارے حالیہ بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ بیانات سے ہٹ کر عملی اقدامات اٹھائیں جائیں اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے ایک مربوط کشمیرپالیسی بنائی جائے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں بھارتی ایجنسی کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں بھارت کے خلاف مقدمہ دائر کیاجائے ، مقبوضہ جموں وکشمیر کی عسکری تحریک کو منظم کرکے دشمن کے گھر تک لے جانے کی ضرورت ہے ،ان خیا لات کا اظہار آزاد جموں وکشمیر جماعت اسلامی کے سابق امیرعبدالرشید ترابی ،کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر پاکستان کے کنوینئر محمود احمد ساغر اور دیگر کشمیری قائدین نے یہاں تحریک حریت جموں وکشمیر کے قائد شہید محمد اشرف صحرائی کے یوم شہادت کے سلسلے میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے سابق امیر عبدالرشید ترابی نے شہید قائدکو خراح عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میںشہید قائد کا تاریخی کردار ہے انہوں نے تحریک آزادی کے حوالے سے کشمیری نوجوانوں کو منظم کیا اسلامی جمعیت طلبہ کے پیلٹ فورم سے خاصکر نوجوانوں کی تربیت کے حوالے ان کا بہت بڑا کردار ہے ،ایک ایسے دور میں جب کشمیرمیں عسکریت شروع ہوچکی ہے.
انہوں نے کل جماعتی حریت کانفرنس جیسا سیاسی فورم قائم کرنے کی بنیاد ڈالی ان کی تجویز تھی کہ عسکری محاز کے علاوہ کشمیریوں کی آواز کو بیرونی دنیا تک پہنچانے کے لئے ایک ایساسیاسی فورم ہونا چاہیے جو کشمیری عوام کی نمائندگی کرتا ہو،وہ قائد تحریک آزادی سید علی گیلانی کے دست راست اور سب سے قابل بھروسہ شخصیت سمجھے جاتے تھے ،عبدالرشید ترابی نے کہاکہ اس وقت دنیا میں فلسطین اور کشمیریوں کی تحاریک قربانیوں کے حوالے سے ایک مثالی اور عظیم تاریخ رقم کررہیں ،دونوں تحاریک حضرت ابراہیم علیہ السلام ،امام حسین علیہ السلام اور صحابہ کرام کے احسوہ حسنہ پر عمل پیر ا ہیں جس کی مثال محمد اشرف صحرائی اور ان کے لخت جگر کی شہادت ، اسماعیل ہنیہ اور ان کے صاحبزادوں سمیت پورے خاندان کی شہادتیں ہے کشمیری اور فلسطینی لاکھوں شہداء کی قربانیاں پیش کرچکے ہیں دونوں میں یہ مماثلت ہے کہ شہداء میں قائدین پیش پیش ہیں۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کی سب سے پہلی ترجیح تحریک آزادی کشمیر ہے ہم اس تحریک سے کبھی بھی لاتعلق نہ رہ سکتے ہمیں بھی موجودہ حالات پر تشویش ہے ۔
نائن الیون کے بعد خاص کر حالات نے اچانک جو رخ اختیار کیا ،پاکستان کا اس تحریک میں جوبڑا کردار ہونا چاہیے تھے وہ اس وقت نظر نہیں آرہا انہوں نے کہاکہ کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں اور کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے جو قائد اعظم کا نظریہ ہے اور اسی نظریہ کے تحت جدوجہد جاری ہے ،سابق امیر جماعت نے کہاکہ موجودہ حالات میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے کشمیر بارے بیانات حوصلہ افزاء ہیں ،سابق آرمی چیف باجوہ کی ڈاکٹرائن سے جو شکوک و شبہات پیدا ہوئے تھے ،آرمی چیف کے بیانات سے مایوسی دور ہوئی ہے تاہم اب بیانات سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی دنیا کے بدلتے ہوئے موجودہ حالات میں آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے مشاورتی عمل کا آغاز کررہی ہے اس میں بیرونی دنیا میں سرگرم قائدین بھی پاکستان آرہے ہیں اور اسی مشاورت کے تحت سولہ یا سترہ مئی کو اسلام آباد میں کشمیر کے حوالے سے عالمی کانفرنس ہوگی جس میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے قائدین کو بھی مدعو کیا جائے گا تاکہ باہمی مسائل پرمشاورت کرکے آئندہ کے اقدامات پر غوروفکر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ نئے امیر جماعت اسلامی پاکستان کے ساتھ بھی کل جماعتی حریت کانفرنس کی ایک نشست کرانے کی کوشش ہوگی تاکہ مل بیٹھ کر ایک مربوط کشمیر پالیسی کے تحت آگے چلا جائے ۔
انہوں نے کشمیری قیادت کو یقین دلایا کہ جماعت اسلامی ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے حالات بدل رہے ہیں بھارت کی دہشت گردی اب دنیا میں بے نقاب ہورہی ہے پاکستان سمیت دنیا میں بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کا آپریشن اس کا اعتراف جرم ہے یہ آپریشن بھارت کا دہشت گردی کے حوالے سے کھلم کھلااعتراف ہے حکومت پاکستان کو اس موقع کو اب ضائع نہیں کرناچاہیے اور موقع کا فائدہ اٹھاکر بھارت کی اس دہشت گردی کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں جانا چاہیے ۔بھارت نے کبھی بھی پاکستان کے خلاف موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا چاہیے وہ ایف اے ٹی ایف ہو یا نائن الیون کا واقعہ ہو ۔ بھارت نے ایف اے ٹی ایف کو پاکستان کے ساتپ جھکڑ دیا تھا اب وقت آگیا ہے کہ آپس میں متحد اور قومی یکجہتی کے ساتھ دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے ایک مربوط پالیسی کی ضرورت ہے ،اس موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینئر محمود احمد ساغر نے کہا کہ امن سے تحریکیں کامیاب نہیں ہوتیں اس کے لئے امن کو درہم برہم کرنا پڑتا ہے انہوں نے کہاکہ کشمیر کے اندر عسکریت کو لانا ایک بڑی غلطی تھی جس کی وجہ سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا .
ہمیں دشمن کے گھر بندوق لانی چاہیے تھی نہ کہ ہمارے گھرکے باہر۔ممبی کا ایک واقعہ پوری تحریک پر بھاری ہے اپنے گھر میں لڑائی سے ہمیں زیاد شہادتوں کا سامنا کرنا پڑا ،غزہ کی تازہ مثال اس حوالے سے ہمارے سامنے ہے جہاں ابھی تیس ہزار سے زائد شہادتیں جبکہ کشمیر صرف موجودہ جدوجہد میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی شہادتیں ہیں،انہوں نے کہاکہ مزید جانی نقصان سے بچنے کے لئے ہندوستان جاکر لڑنا ہوگا اور اس وقت ایک منظم عسکریت کی ضرورت ہے ،جذبہ اور حوصلہ پیدا کرنے کے ضرورت ہے ،کشمیر میں سوسال بھی لڑیں پھر بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا،انہوں نے کہاکہ ایک مضبوط پاکستان ہی ہماری تحریک کے مفاد میں ہے اس کے لئے ہم کب تک انتظارکریں اس میں حوصلے کی ضرورت ہے ۔انہو ں نے کہاکہ باہر سے قیادت دورے پر آرہی ہے ان سے ایک خصوصی نششت ہوگی جسمیںان کے ساتھ ایک مربوط لائحہ عمل طے کرنے کے لئے مشاورت ہوگی .
تحریک آزادی کشمیر میں جماعت اسلامی کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میںکردار کے حوالے سے ہم جماعت اسلامی کو ماں کی طرح سمجھتے ہیں۔انہوں نے شہید محمد اشرف صحرالی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ دنیا میں اشرف صحرائی جیسے رہنماء بہت ہی کم ہوتے ہیں جو اپنے لخت جگر کو ایک عظیم مشن کے لئے قربان کرتے ہیں وہ صبر واسقامت کا ایک پہاڑاتھے ایک اصول پرست شحصیت جو ہمارے جذبات کو سمجھتے تھے جس نے کبھی بھی اپنے اصولوںپر سمجھوتہ نہیں کیا۔ دیگر کشمیری قائدین نے شہید قائد اشرف صحرائی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کو دہرایا کہ جس مشن کے کئے شہید قائد نے اپنی جان کے ساتھ اپنے لخت جگر کو قربان کیا وہ منزل کے حصول تک جاری رکھا جائے گا۔