مظفرآباد(سٹیٹ ویوز)ہیومن رائٹس کونسل آف آزاد جموں و کشمیر، جہلم ویلی کی نئی تنظیم سازی کے بعد کامران کنول کیانی بطور صدرِ جہلم ویلی کی قیادت میں ایک اہم اور بامقصد اجلاس ہیٹاں بالا کے لاثانیہ ہوٹل میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں جنرل سیکرٹری سید اکمل ہمدانی، سینئر نائب صدر نمرہ راجہ، نائب صدر دانش بخاری،کواڈینیٹر عامر روشن اعوان، سوشل میڈیا ایڈوائزر حسن ہمدانی، سیکٹری لیگل آفیئر اسد چغتائی اور طیبہ ہمدانی۔ سی ای او کشمیر اسٹوڈیو نیٹ ورک سید احمد ہمدانی سمیت دیگر معزز اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران نئی باڈی کو مبارکباد پیش کی گئی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جہلم ویلی میں انسانی حقوق کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور مظلوم طبقات کی داد رسی کے لیے عملی اور مؤثر کردار ادا کیا جائے گا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ تنظیم بیانات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ادارہ جاتی روابط، عوامی آگاہی اور قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے سنجیدہ اقدامات کرے گی۔اجلاس میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان، گمشدہ بچیوں اور خواتین و بچوں کو درپیش مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور انتظامیہ سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
مزید برآں، اجلاس میں اس امر پر بھی سنجیدہ گفتگو کی گئی کہ بلاوجہ تعلیمی اداروں کی بار بار بندش سے طلبہ کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہو رہا ہے اور ان کا تعلیمی حرج ہو رہا ہے۔ موجودہ حالات میں جہاں مہنگائی، پٹرول کی قیمتوں اور دیگر معاملات کے باوجود نظامِ زندگی معمول کے مطابق جاری ہے، وہاں تعلیم کو بار بار متاثر کرنا تشویش ناک ہے۔ بچوں کی تعلیم کو کسی بھی صورت نشانہ نہیں بننا چاہیے، کیونکہ یہی قوم کے مستقبل کی بنیاد ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل مطالبہ کرتی ہے کہ تعلیمی سلسلے کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے سنجیدہ اور پائیدار حکمتِ عملی اپنائی جائے تاکہ طلبہ کے بنیادی حقِ تعلیم کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ہم قانون کی بالادستی، سماجی انصاف اور ہر شہری کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور جہلم ویلی کو ایک محفوظ، باوقار اور منصفانہ معاشرہ بنانے کے لیے متحد رہیں گے۔