یاسین ملک: پرامن جدوجہد، سزائے موت کی سازش اور کشمیری عوام کی فیصلہ کن آواز

172

تحریر:سردار عمر ریاض
یاسین ملک کوئی عام نام نہیں بلکہ کشمیری عوام کی اُس پرامن، نظریاتی اور سیاسی جدوجہد کی علامت ہیں جو بندوق کے بجائے بات چیت، تشدد کے بجائے امن اور نفرت کے بجائے دلیل پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کشمیر کی آزادی کے لیے وہ راستہ اختیار کیا جسے مہذب دنیا میں قابلِ احترام سمجھا جاتا ہےیعنی عدم تشدد اور سیاسی مکالمہ۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ یاسین ملک نے برسوں قبل مسلح جدوجہد کو خیرباد کہہ کر مکمل طور پر پرامن سیاسی جدوجہد کا اعلان کیا۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) کے پلیٹ فارم سے انہوں نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ کشمیر کا مسئلہ گولی سے نہیں بلکہ مذاکرات، سیاسی عمل اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ مگر افسوس کہ آج اسی امن کے داعی کو دہلی کی تہاڑ جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔

انتہائی تشویشناک اطلاعات کے مطابق 28 جنوری کو یاسین ملک کو سزائے موت دیے جانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ایک ایسے شخص کو تختۂ دار پر لٹکانے کی تیاری ہو رہی ہے جس کا واحد “قصور” یہ ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بات کرتا ہے۔ جھوٹے اور سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات، قیدِ تنہائی، بگڑتی ہوئی صحت اور بنیادی انسانی حقوق سے محرومی اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ مقدمہ انصاف نہیں بلکہ سیاسی انتقام ہے۔

اس نازک صورتحال میں یہ حقیقت بھی نہایت اہم ہے کہ یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک اور ان کی بیٹی گزشتہ دو ماہ سے پورے پاکستان میں یاسین ملک کی رہائی کے لیے بھرپور سٹریٹ موومنٹ چلا رہی ہیں۔ اس تحریک کے پھیلاؤ کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ لاہور میں 28 مقامات، کراچی میں 36 اور راولپنڈی میں 15 مارکیٹوں میں سٹریٹ موومنٹس ہوئیں۔ ان سرگرمیوں کو نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا نے نمایاں طور پر ہائی لائٹ کیا.

جبکہ قومی سطح کے معروف پوڈکاسٹرز نے بھی مشعال ملک کے خصوصی پوڈکاسٹس ریکارڈ کیے جن میں یاسین ملک کے مقدمے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔گزشتہ روز راقم کی مشعال ملک سے ملاقات بھی ہوئی۔ اس ملاقات میں ان کے حوصلے، عزم اور استقامت نمایاں تھی۔ انہوں نے نہایت پُراثر انداز میں کہا:“مجھے فخر ہے کہ میں ایک شہید ماں کی بیٹی اور غازی یاسین ملک کی اہلیہ ہوں۔ اس تحریک میں میری والدہ کو شہید کیا گیا، لیکن مجھے کوئی افسوس نہیں یہ تحریک جاری رہے گی۔

یہ الفاظ ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک قربانی اور ایک مسلسل جدوجہد کی ترجمانی کرتے ہیں۔اسی تسلسل میں 27 جنوری کو پورے آزاد کشمیر میں یاسین ملک کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ لمحہ آزاد کشمیر کی عوام کے لیے ایک تاریخی امتحان ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ تمام سیاسی وابستگیاں، جماعتی اختلافات اور ذاتی مفادات ایک طرف رکھ کر سڑکوں پر نکلا جائے اور دنیا کو یہ واضح پیغام دیا جائے کہ کشمیری عوام اپنے حقیقی، پرامن اور نظریاتی لیڈر کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ہم عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر یاسین ملک کے معاملے کا نوٹس لیں، بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ سزائے موت کی سازش روکی جائے، قیدِ تنہائی ختم کی جائے اور یاسین ملک کو شفاف و منصفانہ عدالتی عمل کے ذریعے انصاف فراہم کیا جائے۔

یاسین ملک کی رہائی دراصل امن، مکالمے اور انسانی وقار کی فتح ہوگی۔ اگر آج کشمیری قوم، پاکستان اور عالمی ضمیر خاموش رہے تو تاریخ نہ صرف ظالموں بلکہ خاموش تماشائیوں سے بھی ضرور سوال کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں