یوم یکجہتی نہیں آزادی آزادی آزادی

239

تحریر :خواجہ قاریعہ تمکین حفیظ
ریاست جموں و کشمیر ہمالیہ اور قراقرم کے دامن میں واقع ہے شاہراہ کشمیر پر رام پور کے قریب چونے کے پتھروں کی اُونچی بالکل کھڑی چٹانیں ہمیں تاثر دیتی ہیں کہ اِن چٹانوں کا وجود نازک سمندری مچھلیوں کے خولوں کے جمے ہوئے مواد کی یاد تازہ کرواتا ہے۔ان چٹانوں کے مشاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ آج کی یہ بالکل کھڑی چٹانیں کسی زمانے میں نیچے سمندر کی سطح پر بچھی ہوئی تھی ۔یہ خطہِ کشمیر صدیوں سے ایک مملکت کی حیثیت سے اپنا جداگانہ وجود اور شناخت رکھتا ہے . 84471 مربع میل پر پھیلی ہوئی ریاست جموں و کشمیر دنیا کے 351 ممالک اور بلحاظ رقبہ 111 ممالک سے بڑی ریاست جموں کشمیر 1947 تک ایک وحدت اور اِکائی کی حیثیت سے قائم رہی .

لیکن 1947 میں برعظیم کی تقسیم کے نتیجے میں ہندوستان کے مسلح جاہلیت کے سبب ریاست بھی جبری تقسیم سے دوچار ہوئی ساری ریاست تقیسم کر کے پڑوسی ممالک کے قبضے میں ہے .یوں ہزاروں سال سے قائم ریاست جموں و کشمیر کی وحدت پارہ پارہ ہو گئی ۔۔نہایت تابناک اور پر شکوہ ماضی کی حامل یہ ریاست جموں و کشمیر کا 39 فیصد حصہ بھارت کے زیر تسلط ہے .بھارت کے ناکام عزائم کے سبب یہ خطہِ کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے بد ترین مصائب کا شکار ہے ۔آج بڑے دُکھ کے ساتھ لکھ رہی ہوں کہ فردوس بریں کشمیر کی حسین وادیاں، روئی کے گالوں میں چھپی چٹانیں ،لہلہاتے مرغزار کِھلتے مہکتے اور دمکتے ہوئے سبزہ زار کھیت، ساز بجاتی ندیاں اور رنگ و سرور میں نہاتے ہوئے دل کش دل فریب نظاروں کی سرزمین جنت نظیر آج انسانی خون سے تر ہے جہاں آنکھوں کے آگے موت ناچ رہی ہے .

جہاں چاروں طرف آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں ،جہاں بارود کی بُو پھیلی ہوئی ہے ،جہاں ظلم و جبر کی حد پار ہو چکی ہے ،جہاں معصوم پھولوں، بھری جوانیاں اور بوڑھے والدین کو موت کی تاریکیوں میں دھکیل دیا گیا ہےلیکن یہاں پرانی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس سال بھی پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کے نام سے پوسٹیں ہو رہی ہیں، چھٹی کے نوٹیفکیشن جاری ہوئے،سیمینار کی تاریخ مختص ہوئی ،ریلیاں نکالنے کے اعلانات ہوئے وہی تقریریں ،وہی نعرے، وہی زنجیریں بنائی جائیں گی میرا سوال ہے اقوام عالم سے اور پاکستان جو بڑے بھائی کی حیثیت سے ہماری پُشت پناہی کر رہا ہے اگر آپ یکجہتی کشمیر کا نعرہ لگاتے ہیں تو پھر کشمیر جو ریزہ ریزہ ہو کے ٹکڑوں میں تقسیم ہے اس ٹوٹے ہوئے کشمیر کو جوڑنے کے لیے آپ کے پاس 73 سالوں سے کوئی حل نکلا ہے یا آنے والے وقت میں کوئی حل نکلے گا ۔

کب تک اُس پار کشمیر کی بیٹیاں صدائیں بلند کرتی رہیں گی ؟ہے کوئی ہے صلاح الدین ایوبی جو ہمیں ہندوستان کے درندوں کہ ظلم و جبر سے نجات دلوائے۔ہے کوئی محمد بن قاسم جو آ کے ہمیں ہندوستان سے آذاد کروائے۔کون بنے گا محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی ؟کون اُن جنگجو جیسے کردار ادا کریں گے؟یوم یکجہتی کا مطلب تو یہ ہے کہ بولیں ہندوستان کو کشمیر چھوڑ دو .کشمیر صرف کشمیریوں کا ہے کشمیر کو کشمیریوں کے حوالے کرو یا پھر بین الاقوامی سطح پہ مسئلہ کشمیر کو حل کروائیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو اُن کا حق دیا جائے یوم یکجہتی منانے کا تو یہ عزم ہونا چاہیے .ہر سال مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں نوجوان بنا کسی جرم کے شہید ہوتے ہیں، کئی والدین بے سہارا ہوتے ہیں ،کہ بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جا رہی ہیں، کئی ماؤں کی گود خالی ہوتی ہے .

کئی بوڑھے باپ اپنے لخت جگر کی کڑیل جوانی میں لاش کو کاندھا دیتے ہیں، کئی نوجوانوں پہ قید و بند کی صُحبتوں کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ ظالم ہندوستان نے اِنسانی حقوق کی بدترین پامالی میں مشغول ہے ۔کشمیری 77 برسوں سے قربانیاں دے کر چیخ رہے ہیں، چلا رہے ہیں فریاد کر رہے ہیں، آزادی آزادی آزادی کشمیری قوم پہ انسانیت سوز مظالم ڈھاۓ جا رہے ہیں ہندوستان کے ظلم و جبر استحصال اور فرسودگی کے خلاف سینہ سُپر ہیں لیکن پھر بھی کشمیر کے غیور اور بہادر مرد و زن برسر پیکار ہندوستان کے مظالم فوج کے سامنے نہتے لڑ رہے ہیں کشمیری آزادی چاہتے ہیں بس آزادی آزادی اس سے کم وہ کسی چیز پہ آمادہ نہیں
زمانہء حال کا کشمیر جل رہا ہے ،فریاد کر رہے ہیں، ماتم کدہ بن چکا ہے.

انصاف کی دہی دے رہا ہے، جموں کے میدانوں سے لے کر سرگرم سخن چوٹیوں تک ایک ہی آواز ہے آزادی آزادی آزادی ہم ریلیاں ،نعرے بازی اور زنجیریں بنانے کو یوم یکجہتی کہتے ہیں اور یوم یکجہتی مناتے ہیں .اقوام عالم کو کشمیر میں روا رکھے جانے والے ظلم و جبر پر خاموش نہیں رہنا چاہیے آگے بڑھ کر اُن کی مدد کرنی چاہیے .آخر یہ سوا دو کروڑ انسان بھی تو اِسی عالمی برادری کا حصہ ہیں مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کریں ۔نسل در نسل ظلم و جبر اور انسانیت سلوک سے گزرنے کے باوجود ریاست جموں و کشمیر کے غیور اور آزادی پسند عوام اپنی مادر وطن کو آزاد متحد اور خود مختار اور خوشحال بنانے کی عدیم المثال جدوجہد میں مصروف ہیں ۔اس جدوجہد کی کامیابی کے نتیجے میں انشاءاللہ ریاست جموں و کشمیر ایک بار پھر دنیا میں اپنے جداگانہ تشخص، اہمیت و عظمت کا لوہا منوائیں گی۔

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک غلامی پسماندگی ظلم و جبر کی چکی میں پستے ہوئے نہ تو قائم رہ سکتا ہے اور نہ ہی ترقی کر سکتا ہے
غلامی ایک ایسی لعنت ہے جو ملکوں اور قوموں سے ان کا عزت وقار چھین کر انہیں تباہی و بربادی کے گھڑے میں پھینک دیتی ہے. اس کے برعکس قوموں اور ملکوں کے لیے آزادی بہت بڑی نعمت ہے۔ آزادی عزت ہے ۔آزادی آبرو ہے آزادی ترقی ہے ۔آزادی سر اُٹھا کر جینے کا سبق دیتی ہے ۔آزادی دوسروں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کرتی ہیں۔ آزادی زمانے کی رفتار کے شانہ بشانہ چلتی ہے .ہم اپنے وطن کے تابناک اور روشن مستقبل سے مایوس ہرگز نہیں ۔ کیونکہ قدرت کے کارخانے میں دیر ہے اندھیر نہیں۔

ہمارا عزم ہے کہ ہم ہر حال میں اپنے وطن کی عزت و آزادی کے لیے سرگرداں رہیں گے اور اس وقت تک جدوجہد کرتے رہیں گے جب تک ایک آزاد خوشحال اور خود مختار کشمیر کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو جاتا یہ خواب ہماری نسلوں کا خواب ہے۔ ہم اپنے خواب کی تعبیر پیدا کر کے رہیں گے انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں کشمیر میں آذادی کا سورج طلوع ھو گا .دعا گو رہیے قلم اور فکر کے محاذ پہ ہیں ہم اپنا سفر انشاءاللہ جاری رکھیں گے اس وقت جاری رکھیں گے جب تک ہمارے جسم میں روح باقی ہیں .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں