رنگلہ (راجہ عثمان سلیمان سے )آزادکشمیر میں جمہوریت کے نام پر مذاق ہے ہے وہی قائدایون کو ووٹ دے کر وہی قائد حزب اختلاف یہ فرینڈلی اپوزیشن سرعام شروع ہوگئی جو حیران کن اور نئی مثال لگتا نہیں کہیں دنیا میں ایسی مثال ہو ۔ریاست اور حلقہ غربی باغ کی محرومیوں کے ازالہ کے لیے فرسودہ نظام کو بدلنا چہرے بدلنے سے محرومیوں کاازالہ ممکن نہیں ۔اداروں محکموں میں کرپشن ہورہی ہے اور یہ اس فرسودہ نظام کی وجہ سے اس وقت ڈھک شکرپڑیاں روڈ جو اپنی مدد اپ بنائی گئی جس کا معیار عالمی ہے اور اس کا تخمینہ بھی سرکاری تخمینے سے کہیں کم لیکن معیار ان محکموں سے کئی گنا زیادہ ہے۔
ان خیالات کا اظہار رہنما جماعت اسلامی حلقہ غربی باغ راجہ عاشق خان نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ازادکشمیر کے اندرسیاست کو گالی بنا دیا گیا جمہوریت کے نام پر ضمیروں کے سودے ہوتے ہیں ہرروز کوئی نئی مثال ریاست کی سیاست میں قائم ہوتی ہے ۔اس سے قبل تین وزیراعظم اب چوتھا وزیراعظم ہے لیکن کابینہ سب کی وہی وزیر مشیر وہی تو ایسے سیاسی نظام پر کون اعتبار کرے سیاستدانوں نے اس نظام کو مزید بگاڑ کر سیاست کو عبادت کے بجاے گالی بنا دی جمہوریت کو اجارہ داری بنا کر رکھ دیا جو کہ انتہائی شرمناک عمل ہے ۔وہی لوگ قائد ایوان کو منتخب کرتے اور پھر وہی ملکر قائد حزب اختلاف کو منتخب کرتا اور قائد حزب اختلاف بھی قائد ایوان کوووٹ دیتا جو پارلیمانی تاریخ کی پہلی مثال ہوگی شاید ۔
حکمرانوں کو خداخوفی کرنی چاہیے اور عوام کی خدمت کریں ناکہ یہ کرسی اقتدار کاکھیل کھیلا جاے ریاست اپنے اصل اغراض ومقاصد سےکوسوں دور چلی گئی۔ کہیں سیاسی اجارہ داری تو کہیں اداروں کی چودہرائیٹ ہے کہیں کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں اس وقت انفراسٹرکچر بدحال ہر بار خطیر بجٹ مختص کیے جاتے لیکن وہ بجٹ ان کی عیاشیوں اور کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے ۔اس کے علاوہ کوئی ادارہ محکمہ نہیں جہاں معقول محاسبےکا نظا ہو چیک اینڈ بیلنس ہو ۔راجہ عاشق خان کامزید کہنا تھا اس فرسودہ نظام کو ختم کرنا اداروں میں اصلاحات عام ادمی کا معیارزندگی بہتر بنانا بنیادی سہولیات کو عوام کی دہلیز پر لانا یہ اصل سیاست ہے۔
اس وقت ڈھک شکر پڑیاں روڈ جو مقامی لوگوں کے تعاون سے بنی اس کا تخمینہ اس کی لاگت اس کا معیار سرکاری کنٹریکٹرز محکمہ کی لاگت اور معیار سے مختلف اس ایک کلومیٹر روڈ جس کا معیار ریاست کے اندر اپنی مثال اپ ہے اس کا تخمینہ ڈیڑھ کروڑ ہے جبکہ حکومت یہی روڈ ڈھنگ ٹپاو پالیسی سے دوگنا بجٹ سے بناتی لیکن اس کامعیار ایک بارش میں عیاں ہوجاتا ہے ۔جماعت اسلامی چہروں کی نہیں نظام کی تبدیلی کے جدوجہدکررہی جہاں سب کو جوابدیی کے عمل سے گزرنا پڑے ۔راجہ عاشق خان محکمہ تعمیرات حلقہ ایم ایل اے اوروزیراعظم کو اس روڈ کا دورہ کرنا کا مشورہ دیا کہ وہ اپنے کنٹریکٹرز اور محکمہ کے حکام حو لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات لیتے ان کو اس روڈ کا وزٹ کروائیں ۔جماعت اسلامی نظام کی تبدیلی کی جدوجہد ہر فورم میں جاری رکھے گی۔