تحریر: نعیم الحسن نعیم
کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری آج 5 جنوری کو یومِ حقِ خودارادیت مناتے ہیں مگر یہ صرف ایک دن کی یادگار نہیں بلکہ قربانیوں سے رقم کی گئی ایک ایسی جدوجہد کا تسلسل ہے جو نسلوں سے جاری ہے۔ یہ دن اس عہد کی تجدید کا لمحہ ہے کہ جب تک کشمیر کے باسیوں کو ان کا تسلیم شدہ ناقابلِ تنسیخ حق حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا تب تک یہ تحریک نہ رُکے گی نہ جھکے گی۔پانچ جنوری 1949ء کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی تھی جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ کشمیریوں کو آزادانہ استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے گا۔ یہ قرارداد صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ عالمی برادری کا اخلاقی اور قانونی عہد ہے۔مگر افسوس سات دہائیاں گزر گئیں نہ وہ استصواب ہوا نہ کشمیریوں کو آزادی ملی۔ اس کے برعکس بھارت نے اس خطے کو خون میں نہلا دیا۔ پیلٹ گنوں سے معصوم آنکھیں چھینی گئیں گھروں کو آگ لگائی گئی نوجوانوں کو لاپتہ کیا گیا اور خواتین کی حرمت پامال کی گئی۔ ہر در و دیوار چیخ چیخ کر گواہی دے رہا ہے کہ ظلم اپنی آخری حدوں کو چھو چکا ہے۔
ہندوستانی قابض افواج نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک ایسی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے جہاں انسانیت آزادی اور بنیادی حقوق کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) جیسے کالے قوانین اس بربریت کو قانونی جواز دینے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں جن کے تحت کشمیریوں کو بلا وجہ غیر معینہ مدت کے لیے گرفتار کیا جا سکتا ہے حتیٰ کہ بغیر کسی عدالتی کارروائی کے قتل کیا جا سکتا ہے۔کشمیری عوام کو ان کے بنیادی انسانی حقوق جان مال صحت آزادیٔ اظہار اور پُرامن اجتماع جیسے عالمی طور پر تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ 5 اگست 2019 کے بعد سے بھارت کی مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی یکطرفہ اور استعماری اقدامات کے ذریعے خوف خاموشی اور مزاحمت کا خونی امتزاج پیدا کیا ہے۔حقِ خودارادیت اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت ہر قوم کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔ اس حق کی پامالی نہ صرف اقوامِ متحدہ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور ضمیر پر ایک سنگین حملہ بھی ہے۔
پانچ جنوری ایک تاریخ نہیں ایک ادھورا وعدہ ہے۔ ایک ایسی گونج جو اقوامِ متحدہ کے ایوانوں میں آج بھی بازگشت کر رہی ہے۔ 1949 کو منظور ہونے والی وہ تاریخی قرارداد جس میں کشمیریوں کو ان کا بنیادی اور ناقابل تنسیخ حق حقِ خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا آج بھی عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔یہ دن ہمیں صرف ماضی یاد دلانے نہیں آیا بلکہ حال کے زخم دکھانے اور مستقبل کے سوالات اٹھانے آیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ دہائیوں گزرنے کے باوجود کشمیری عوام آج بھی بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں؟ کیا اس خاموشی کے پیچھے طاقتوروں کی مفاد پرستی چھپی ہے؟حقِ خودارادیت کشمیریوں کے لیے پانی کی طرح ضروری ہے وہ سانس جس کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں۔ جب تک اس حق کو تسلیم نہیں کیا جاتا کشمیر جلتا رہے گا اور جنوبی ایشیا میں امن ایک خواب ہی رہے گا۔ بھارت جتنا چاہے کہانی بدلنے کی کوشش کرے لیکن سچائی نہ جھکتی ہے نہ چھپتی ہے۔
پانچ جنوری صرف تقاریر کا دن نہیں یہ دن ہے ضمیر جگانے کا وعدے یاد دلانے کا اور دنیا کو باور کرانے کا کہ کشمیری قوم کی جدوجہد کوئی دہشت نہیں بلکہ آزادی کا وہ مقدس سفر ہے جس کی منزل انصاف ہے۔کشمیر ایک خواب نہیں ایک ایمان ہے۔یہ کوئی سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ تاریخ کا وہ سچ ہے جو شہیدوں کے لہو سے لکھا گیا ہے جو ماؤں کی آہوں اور بیٹیوں کی چادر سے لپٹی ہوئی امید ہے۔ کشمیری عوام نے اپنا کل پاکستان پر قربان کر دیا اور آج بھی ہر ظلم سہہ کر یہی صدا دیتے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان لیکن کب تک وہ تنہا قربانی دیتے رہیں؟کب تک ہم صرف قراردادوں بیانات اور پریس کانفرنسوں پر اکتفا کرتے رہیں گے؟اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت صرف بیانات تک محدود نہ رہے۔ کشمیر کے معاملے پر محض مذمت تعزیت یا تصویری ہمدردی کافی نہیں۔ اب عملی اقدام، بین الاقوامی سطح پر جارحانہ سفارت کاری اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے مستقل منظم اور بھرپور حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔کشمیری عوام نے اپنے خون سے پاکستان سے محبت کا ثبوت دیا۔ وہ سبز ہلالی پرچم کو اپنا مقدر سمجھتے ہیں اور ہر ظلم سہہ کر بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ لیکن کب تک وہ صرف دعاؤں اور دلاسوں پر جیتے رہیں گے؟
اب وقت ہے کہ پاکستان ایک قدم آگے بڑھے دنیا کو باور کروائے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور شہ رگ پر وار کسی صورت برداشت نہیں۔کشمیر کی آزادی ہماری ریاستی ترجیحات میں سرفہرست ہونی چاہیے۔یہ قومی غیرت ایمانی تقاضا اور تاریخی وعدے کا سوال ہے۔ان شاء اللہ کشمیر کی آزادی کا وہ سنہرا سورج جلد طلوع ہوگا جو ظلمت کے اندھیروں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ وہ دن دور نہیں جب یہ مقدس سرزمین اپنے حق و حریت کا جشن آزادی بھرپور جوش و جذبے سے منائے گی۔ تب تک ہمارے دلوں میں امید کی شمع روشن رکھنی ہوگی کیونکہ ہر ظلم کے بعد روشنی ضرور آتی ہے۔ کشمیر کے لئے دعا اور جدوجہد جاری رہے گی اور یقیناً حق کی فتح مقدر ہوگی۔