تحریر :نعیم الحسن نعیم
5 فروری وہ دن ہے جب کیلنڈر کے اوراق بھی ٹھہر کر سوچتے ہیں جب لفظوں کے معنی بدل جاتے ہیں جب خاموشی بھی سوال بن جاتی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کے نقشے پر ایک ایسی سرزمین موجود ہے جہاں سورج طلوع تو ہوتا ہے مگر خوشی نہیں لاتا جہاں رات اترتی ہے تو نیند نہیں بلکہ خوف ساتھ لاتی ہے۔ اس سرزمین کا نام کشمیر ہے کشمیر یہ صرف پہاڑوں جھیلوں اور وادیوں کا نام نہیں۔ یہ ماؤں کی اجڑی گودوں بہنوں کے ٹوٹے خوابوں بچوں کی چھینی ہوئی مسکراہٹوں اور نوجوانوں کے لہولہان جذبوں کی داستان ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں آزادی جرم ہے سچ بولنا بغاوت ہے اور جینا ایک مسلسل امتحان۔ آج یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ہمیں صرف ہاتھوں میں بینر اٹھانے یا چند جذباتی جملے دہرانے کی نہیں بلکہ اپنے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ بحیثیتِ قوم ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا اور خود سے یہ تلخ سوال پوچھنا ہوگا کہ کیا ہم ان امیدوں پر پورا اتر سکے ہیں جو کشمیری شہداء کی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں نے ہم سے باندھ رکھی ہیں؟ وہ مائیں جو اپنے بیٹوں کو کفن کے بجائے سبز ہلالی پرچم میں لپٹا دیکھتی ہیں۔ وہ بہنیں جو راکھ ہوتے گھروں میں بھائیوں کی لاشیں تلاش کرتی ہیں۔ وہ بیٹیاں جو بچپن میں ہی یتیمی کا بوجھ اٹھا لیتی ہیں۔ ان سب کی نظریں پاکستان پر جمی ہوئی ہیں۔
وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ان کی آخری امید ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیری شہداء قبر میں بھی اپنے جسموں پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لپیٹ کر اترتے ہیں۔ یہ کوئی علامت نہیں یہ عقیدت ہے یہ اعتماد ہے یہ یقین ہے۔یہ کلمے کی بنیاد پر ایک مظبوط رشتہ ہے یہ ایمان کا رشتہ ہے. مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے حکمران بھی اس پرچم کی حرمت کا پاس رکھتے ہیں؟ یا ہم نے سفارتی مصلحتوں وقتی مفادات اور عالمی دباؤ کے آگے جھک کر کشمیری شہداء کے خون سے بے وفائی کر لی ہے؟ آج مقبوضہ کشمیر بارود کی بو میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہاں کی فضاؤں میں چیخیں ہیں سناٹا نہیں۔وہاں کی گلیوں میں بچے نہیں بندوقیں گشت کرتی ہیں وہاں کے اسکولوں میں کتابوں سے زیادہ خوف پڑھایا جاتا ہے۔
گمنام قبریں اجتماعی قبریں جبری گمشدگیاں پیلٹ گنز سے چھینی گئی بینائی عصمت دری کا نشانہ بننے والی کشمیری خواتین اور ہزاروں یتیم بچے. یہ سب بھارت کی نام نہاد جمہوریت کے ماتھے پر لکھا ہوا سچ ہے۔بھارت جو دنیا کے سامنے خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے نے مقبوضہ وادی میں دس لاکھ سے زائد غیر قانونی فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔ یہ فوج کسی بیرونی دشمن سے نہیں لڑ رہی یہ فوج نہتے کشمیریوں سے برسرِ پیکار ہے۔ یہ تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جہاں بندوق کے سائے میں ووٹ نہیں لاشیں گنی جاتی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں ہر سمت ظلم ہے مگر اس کے باوجود کشمیریوں کا حوصلہ زندہ ہے۔وہ آج بھی جرات کے ساتھ ہندوستان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ وہ آج بھی آزادی کا نعرہ سینے میں دفن کیے ہوئے ہیں زبان پر نہیں۔ خطہ کشمیر ارض فلسطین کی طرح دنیا کا مظلوم ترین گوشہ ہے۔ پون صدی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے مگر کشمیریوں کی آزمائش ختم نہیں ہوئی۔
نسلیں بدل گئیں زخم نہیں بدلے۔ یومِ یکجہتی کشمیر ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم محض ہمدرد نہ بنیں بلکہ ذمہ دار بنیں۔ہم کشمیر کو اپنی قومی ترجیحات کے مرکز میں رکھیں نہ کہ فائلوں کے حاشیے میں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت محض یکجہتی کے رسمی نعروں سے آگے بڑھے۔کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی میں عملی فیصلہ کن اور جرات مندانہ کردار ادا کیا جائے. سیاسی قیادت کو چاہیے کہ کشمیر کو محض تقریروں کی زینت نہ بنائے۔ سفارتی محاذ پر خاموشی اب جرم بن چکی ہے۔عالمی عدالتوں میں بھارت کے جنگی جرائم کو چیلنج کرنا ہوگا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو جھنجھوڑنا ہوگا۔میڈیا کی جنگ میں سچ کو ہتھیار بنانا ہوگا۔ عسکری قیادت کو بھی یہ یاد رکھنا ہوگا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اور شہ رگ پر وار برداشت نہیں کیا جاتا۔بحیثیتِ قوم ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم تاریخ میں کس صف میں کھڑے ہوں گے۔ظالم کے ساتھ یا مظلوم کے ساتھ؟ خاموشی کے ساتھ یا حق کے ساتھ؟
پانچ فروری ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر آج بھی ہم نے صرف تقریبات پر اکتفا کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ کشمیر زندہ ہے کیونکہ کشمیری مزاحمت زندہ ہے۔ اور کشمیری مزاحمت اس دن کامیاب ہوگی جس دن پاکستان صرف یکجہتی نہیں بلکہ قیادت کرے گا۔1990ء سے پانچ فروری ایک علامت نہیں بلکہ ایک تاریخی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب دنیا یہ منظر دیکھتی ہے کہ پاکستانی قوم بڑے شہروں کی مصروف شاہراہوں سے لے کر چھوٹی چھوٹی بستیوں قصبوں اور دیہات تک اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا عملی اظہار کر رہی ہوتی ہے۔ ہاتھوں میں کشمیر کا پرچم لبوں پر آزادی کے نعرے اور آنکھوں میں کشمیریوں کے لیے درد لیے یہ قوم اس عہد کی تجدید کرتی ہے کہ کشمیر تنہا نہیں۔یہ دن کسی ایک حکومت کسی ایک جماعت یا کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ پوری قوم کا دن ہے۔ اس یوم کے تعین کے لیے جن لوگوں نے سوچ بچار کی جنہوں نے اس مقصد کے لیے دستِ تعاون بڑھایا اور جنہوں نے کشمیریوں کے درد کو اپنا درد سمجھا ان سب کا یہ عمل عنداللہ باعثِ اجر ہے۔ جو جتنا اخلاص سچائی اور قربانی کے جذبے سے مظلوم کشمیریوں کے لیے کام کرے گا وہ اتنا ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب کا مستحق ہوگا۔آج دنیا کا منظرنامہ بدل رہا ہے طاقت کے توازن تبدیل ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں ہر جانب بیداری کی لہریں موجزن ہیں۔
وہ قوم جو ایک طویل عرصے تک خوف مایوسی اور انتشار کا شکار رہی اب آہستہ آہستہ اپنے مقام اپنی ذمہ داری اور اپنے مقصد کو پہچاننے لگی ہے۔ فلسطین ہو یا کشمیر مظلوم اقوام کی صدائیں اب دبائی نہیں جا سکتیں۔ سچ کو زیادہ دیر قید میں نہیں رکھا جا سکتا۔کشمیر کی جدوجہدِ آزادی بھی اسی بیداری کا حصہ ہے۔ یہ جدوجہد کسی وقتی ردِعمل کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل صبر آزما اور ایمان افروز قربانیوں کی داستان ہے۔ کشمیری نوجوان جنہوں نے بندوقوں قید و بند تشدد اور شہادت کو گلے لگایا دراصل وہ تاریخ رقم کر رہے ہیں جو آنے والی نسلوں کو حوصلہ دے گی۔ہمیں چاہیے کہ ہم جذبہ جہاد اور شوقِ شہادت سے سرشار مجاہدینِ کشمیر کا ساتھ دیں۔
یہ ساتھ صرف نعروں کا نہیں بلکہ دل سوچ دعا اور عملی کردار کا ساتھ ہونا چاہیے غلامی کی زنجیریں ان شاء اللہ ٹوٹ گریں گی جبر و استبداد کا یہ سیاہ دور ختم ہو جائے گا اور وہ دن ضرور آئے گا جب وادیٔ کشمیر میں اذانیں خوف کے بغیر گونجیں گی بچے مسکرائیں گے اور مائیں اپنے بیٹوں کو لاشوں کے بجائے خوابوں کے ساتھ رخصت کریں گی۔پانچ فروری محض یاد منانے کا نہیں بلکہ تجدیدِ عہد اور عزمِ نو کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ جہاد کرنے والوں کا ساتھی ہے۔ اور ہم اس نبیِ آخرالزمان ﷺ کے امتی ہیں جنہوں نے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کو ایمان کا تقاضا قرار دیا۔نبی کریم ﷺ کی امت ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم مظلوم کے ساتھ اور ظالم کے خلاف کھڑے ہوں خاموش نہیں بےحس نہیں۔