دھیرکوٹ، رنگلہ، رحیم کوٹ ، کٹکیر اور گردونواح میں موبائل فون انٹرنیٹ سروسز کی عدم دستیابی اور انتہائی سست رفتاری کی شکایت

147

رنگلہ (نمائندہ خصوصی)حکومت آزاد کشمیر ووفاقی حکومتوں کے وعدوں کے باوجودآزاد کشمیر بھر کی طرح دھیرکوٹ، رنگلہ، رحیم کوٹ ، کٹکیر اور گردونواح میں موبائل فون انٹرنیٹ سروسز کی عدم دستیابی اور انتہائی سست رفتار نیٹ ورک نے عوام الناس کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ آزاد کشمیر کے دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی جدید دور کی بنیادی سہولت یعنی انٹرنیٹ عوام کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگے پیکجز خریدنے کے باوجود صارفین معیاری انٹرنیٹ سروس سے محروم ہیں، جس پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

علاقے میں زیادہ تر صارفین زونگ اور ٹیلی نار نیٹ ورک استعمال کر رہے ہیں، تاہم دونوں کمپنیوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی انٹرنیٹ سروس نہایت ناقص اور سست ہے۔ کئی علاقوں میں تو سگنل مکمل طور پر غائب ہو جاتے ہیں جبکہ بعض مقامات پر انٹرنیٹ اس قدر کمزور ہے کہ سادہ سا پیغام بھیجنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایسے میں آن لائن تعلیم، فری لانسنگ اور دیگر ڈیجیٹل سرگرمیاں تقریباً ناممکن ہو چکی ہیں .انٹرنیٹ کی خراب صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر طلبہ و طالبات ہو رہے ہیں جو آن لائن امتحانات، اسائنمنٹس اور تعلیمی مواد تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔

اسی طرح آن لائن کام کرنے والے نوجوانوں کو روزگار کے شدید مسائل کا سامنا ہے، جس کے باعث ان کی آمدن متاثر ہو رہی ہے اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔علاقہ مکینوں نے حکومت آزاد کشمیر اور متعلقہ ٹیلی کام اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیں، موبائل ٹاورز کی تعداد میں اضافہ کریں اور انٹرنیٹ سروس کے معیار کو بہتر بنائیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ اب عیش نہیں بلکہ بنیادی ضرورت بن چکا ہے، لہٰذا اس سہولت کی فراہمی میں کوتاہی کسی صورت قابل قبول نہیں۔

اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ نہ صرف تعلیمی اور معاشی ترقی میں رکاوٹ بنے گا بلکہ عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی پیدا کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ محکمے عملی اقدامات کرتے ہوئے عوام کو معیاری اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ سہولت فراہم کریں۔ عوامی حلقوں کا ان مسائل کا سنجیدگی سے حل کا مطالبہ بصورت دیگر عوام اس کا سخت ردعمل دیں گے کیوں کہ عوام کے صبرکا پیمانہ لبریر ہوتا جارہا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں