رنگلہ (راجہ عثمان سلیمان سے )آزاد کشمیر کی عوامی حکومت کی جانب سے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے دعوے عملی طور پر دھرے کے دھرے رہ گئے، جبکہ محکمہ برقیات کی من مانیاں تاحال ختم نہ ہو سکیں۔رنگلہ فیڈر کا 40 سالہ پرانا نظام ترسیل عوام کے لیے درد سر بن گیا ذرا سی ہوا اور بارش سے بجلی کا بریک ڈاؤن کئی گھنٹوں طویل ہو جاتا ہے۔ محکمہ برقیات سب ڈویژن دہیرکوٹ کی سنگین نااہلی کے باعث رنگلہ اور گرد و نواح میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، لو وولٹیج اور بوسیدہ نظام ایک مستقل عذاب بن چکے ہیں، جس نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہےبالخصوص رنگلہ فیڈر پر صورتحال نہایت تشویشناک ہے جہاں بجلی کی ترسیل کا نظام تقریباً چالیس سال پرانا ہو چکا ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق اس فیڈر پر نصب بجلی کی تاریں، کھمبے اور دیگر آلات انتہائی خستہ حال اور بوسیدہ ہو چکے ہیں، جس کے باعث معمولی سی بارش یا برفباری کی صورت میں بجلی کی لائنیں متاثر ہو جاتی ہیں اور کئی کئی گھنٹوں بلکہ کئی کئی دنوں تک بجلی مکمل طور پر بند رہتی ہے۔
دن بھر بجلی کی آنکھ مچولی معمول بن چکی ہے۔ کبھی گھنٹوں بجلی غائب رہتی ہے تو کبھی وولٹیج اس قدر کم ہوتا ہے کہ برقی آلات محض شو پیس بن کر رہ جاتے ہیں۔ اس بدترین صورتحال نے کاروباری طبقے، دکانداروں اور آن لائن کام سے وابستہ افراد کو شدید مالی نقصان سے دوچار کر دیا ہے۔ سرکاری و نجی اداروں میں کام کرنے والے افراد کی پیشہ ورانہ سرگرمیاں مفلوج ہو چکی ہیں، جبکہ امتحانات کی تیاری میں مصروف طلبہ و طالبات شدید ذہنی اذیت اور تعلیمی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔شدید سردی کے موسم میں بجلی کی عدم دستیابی نے گھریلو زندگی کو بھی اجیرن بنا دیا ہے اور بزرگوں، بچوں اور مریضوں کے لیے حالات مزید کٹھن ہو گئے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث روزمرہ کے ضروری امور میں تاخیر معمول بن چکی ہے، مگر متعلقہ حکام شکایات کے ازالے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ نہ تو پیشگی لوڈشیڈنگ شیڈول دیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی واضح وضاحت سامنے آتی ہے، جو محکمہ برقیات کی غیر ذمہ دارانہ روش کا کھلا ثبوت ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے حکومتِ آزاد کشمیر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر محکمہ برقیات سب ڈویژن دہیرکوٹ کی ناقص کارکردگی کا نوٹس لے، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے اور رنگلہ فیڈر سمیت ملحقہ علاقوں میں بجلی کے چالیس سالہ فرسودہ نظام کو فوری طور پر اپ گریڈ کیا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ جب تک نظام کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جاتا، بارش اور برفباری کے موسم میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی ممکن نہیں ہو سکے گی۔
عوام نے واضح کیا ہے کہ اگر بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے فوری عملی اقدامات نہ کیے گئے تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومتِ آزاد کشمیر اور متعلقہ محکمہ پر عائد ہو گی۔ عوام اب محض وعدوں نہیں بلکہ عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔