اسلام آباد (سٹیٹ ویوز)بھارت کے نام نہاد یومِ جمہوریہ کے موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس اور جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیرِ اہتمام وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کی قیادت کنوینئر حریت کانفرنس سینئر رہنما محمود احمد ساغر نے کی۔ احتجاج کا بنیادی مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا تھا کہ بھارت جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر مقبوضہ کشمیر میں بدترین استعماری اور جارحانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں سیاہ جھنڈے اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر بھارتی فوجی قبضے کے خلاف نعرے درج تھے، جبکہ شرکاء کی جانب سے “بھارتی نام نہاد جمہوریت ہائے ہائے” اور “گو انڈیا گو بیک” کے فلک شگاف نعروں سے اسلام آباد کی فضا گونجتی رہی۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی پر شدید تشویق کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری ہر سال 26 جنوری کو ‘یومِ سیاہ’ اس لیے مناتے ہیں تاکہ عالمی ضمیر کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ بھارت ایک غاصب ریاست ہے جس نے طاقت کے بل پر سوا کروڑ کشمیریوں کی آزادی سلب کر رکھی ہے۔ مقررین کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے کشمیریوں کو ان کے بنیادی سیاسی، مذہبی اور سماجی حقوق سے محروم کر رکھا ہے اور وہاں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور اجتماعی سزائیں روز کا معمول بن چکی ہیں، جبکہ بھارت خود اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ میں لے کر گیا تھا مگر 78 برس بیت جانے کے باوجود اپنے وعدوں سے منحرف ہے۔
سینئر حریت رہنما محمود احمد ساغر نے پاکستان کی جانب سے کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کو سراہتے ہوئے پاکستان کو مسئلہ کشمیر کا اصل وکیل قرار دیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے سوال کیا کہ اگر مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان جیسے دیرینہ تنازعات حل ہو سکتے ہیں تو کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دینے میں عالمی ضمیر کیوں ناکام نظر آتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہ کیا گیا تو جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کا سنگین خطرہ موجود رہے گا جس کے اثرات پوری دنیا کے امن کو لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی جبر و ستم کے باوجود کشمیری اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
احتجاجی مظاہرے میں سینئر حریت رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی جن میں سید فیض نقشبندی، سید یوسف نسیم، میر طاہر مسعود، الطاف حسین وانی، میڈم شمیم شال، سید اعجاز رحمانی، داؤد خان یوسفزئی، حسن البناء ، جموں و کشمیر لبریشن سیل کے ڈائریکٹر راجہ خان افسر خان ، نجیب الغفورخان، راجہ راشد رضا، شیخ عبدالمتین، ثناءاللہ ڈار ،چوہدری شاہین، نثار مرزا، راجہ خادم حسین، نظیر احمد کرناہی، زاہد صفی، عبدالمجید لون، شفیع ڈار، میاں مظفر، محمد اشرف ڈار، سید گلشن شاہ احمد، عدیل مشتاق، منظور احمد ڈار، امتیاز بٹ، عبدالرشید بٹ، ریئس میر ،خالد شبیر ،سمیت کثیر تعداد میں افراد اور میڈیا نمائندگان شامل تھے۔
مظاہرے کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو دنیا کے ہر فورم پر اجاگر کرتے رہیں گے اور بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔