مظفرآباد(سٹیٹ ویوز )وزیراعظم فیصل ممتازراٹھور کی زیر صدارت آزاد جموں وکشمیر کابینہ کے اجلاس میں پیش کردہ قرارداد کو منظور کر لیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کابینہ کا یہ اجلاس بھارت کے یومِ جمہوریہ کو یومِ سیاہ منانے پر کشمیری عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ اجلاس آزاد جموں و کشمیر، مقبوضہ جموں و کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیریوں کی جانب سے بھارت کے یومِ جمہوریہ کو یومِ سیاہ کے طور پر منانے کو کشمیری عوام کے اجتماعی شعور، سیاسی بیداری اور غلامی کے خلاف بھرپور احتجاج کا مظہر قرار دیتا ہے۔ اجلاس اس امر کی توثیق کرتا ہے کہ کشمیری عوام نے احتجاجی مظاہروں، نعروں اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی سرگرمیوں کے ذریعے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ بھارت ایک جابر ریاست ہے جو مقبوضہ جموں و کشمیر پر غیر قانونی اور جبری فوجی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اجلاس عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلوانے کے لیے مؤثر اور عملی کردار ادا کرے۔ قرارداد میں تحریکِ آزادی کشمیر سے غیر متزلزل وابستگی کا اظہار کیا گیا۔ کابینہ کا اجلاس مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی جدوجہدِ آزادی کو سلام پیش کرتا ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ آزادی کے اس سفر میں آزاد جموں و کشمیر کی سرزمین ہمیشہ تحریکِ آزادی کشمیر کا سیاسی اور سفارتی مرکز رہے گی۔ اجلاس واضح کرتا ہے کہ کوئی بھی ریاستی، عسکری یا عالمی دباؤ کشمیری عوام کی جدوجہد اور ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کو دبا نہیں سکتا۔
قرارداد میں حریت رہنما محمد یسین ملک کی غیر قانونی اسیری کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اجلاس ممتاز حریت رہنما محمد یسین ملک کی غیر قانونی، غیر انسانی اور سیاسی بنیادوں پر طویل اسیری کی شدید مذمت کرتا ہے۔ اجلاس اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ محمد یسین ملک کو بھارتی جیلوں میں صحت کی سہولیات سے محروم رکھ کر ان کی جان کو سنگین خطرات لاحق کیے جا رہے ہیں، جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کابینہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ محمد یسین ملک کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے ان کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
قرارداد میں پاک فضائیہ کے دفاعی نظام “تیمور” پر مبارکباد پیش کی گئی اور کہا گیا کہ کابینہ اجلاس پاک فضائیہ کے جدید دفاعی نظام “تیمور” کے کامیاب تجربے پر پاک فضائیہ کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہے۔ اجلاس اس امر کو سراہتا ہے کہ یہ جدید کمانڈ، کنٹرول اور ایئر ڈیفنس نیٹ ورک پاکستان کی فضائی حدود کے مؤثر تحفظ اور ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ قرارداد میں لیپہ ویلی میں ہیلی ریسکیو آپریشن پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔کابینہ اجلاس لیپہ ویلی میں شدید موسمی حالات کے دوران ایک خاتون کو علاج کی غرض سے ہیلی ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کے ذریعے راولپنڈی منتقل کرنے پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتا ہے۔
اجلاس برفباری سے متاثرہ علاقوں میں سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر پاک فوج کی جانب سے جاری امدادی کارروائیوں کو قابلِ ستائش قرار دیتا ہے۔ قرارداد میں بھارت میں مذہبی مقدس مقامات پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ کابینہ اجلاس بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے علاقے دہرادون میں بابا بلھے شاہؒ کے نام سے منسوب درگاہ پر ہندو انتہاپسندوں کے حملے، درگاہ کو نقصان پہنچانے اور بابرکت اوراق نذرِ آتش کرنے کے واقعے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ اجلاس اس تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں کے مقدس مقامات محفوظ نہیں رہے۔ اجلاس عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا فوری نوٹس لے۔ قرارداد میں صدر آزاد جموں وکشمیر کی صحت یابی کے لیے دعا کی گئی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ کابینہ اجلاس صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعاگو ہے۔ اجلاس آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی اور تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے صدر ریاست کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ قرارداد میں سخت موسمی حالات کے پیش نظر وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی قیادت میں دور افتادہ علاقوں میں اشیائے خوردونوش بالخصوص آٹے کی فراہمی، طبی سہولیات اور بنیادی ضروریات کی بلاتعطل دستیابی یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔کابینہ اجلاس وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی قیادت میں آزاد جموں و کشمیر میں جاری سیاسی استحکام، شفاف طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل کو سراہتا ہے۔ اجلاس اس امر کا اعتراف کرتا ہے کہ موجودہ حکومت نے مختصر مدت میں شفاف حکمرانی اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے اور یہ سفر پوری قوت سے جاری رہے گا۔