یوم یکجتی کشمیر،،،حقِ خودارادیت کے عزم کی تجدید، آئی ایس ایس آئی میں سیمینار کا انعقاد

139

اسلام آباد (ذیشان گردیزی)کشمیر یکجہتی دن کے موقع پر انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) کے انڈیا اسٹڈی سینٹر کے زیرِ اہتمام ایک سیمینار منعقد ہوا، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا گیا۔

سیمینار کی مہمانِ خصوصی سابق معاونِ خصوصی برائے انسانی حقوق و خواتین مشعال حسین ملک تھیں، جبکہ وزارتِ خارجہ کے ترجمان سفیر طاہر اندرابی نے بطور خصوصی مہمان شرکت کی۔ دیگر معزز مقررین میں چیئرمین بورڈ آئی ایس ایس آئی سفیر خالد محمود، ڈاکٹر ماریہ سیف الدین ایفندی اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کی رہنما شمیم شال شامل تھیں۔

تقریب کے آغاز میں صدر آزاد جموں و کشمیر سردار سلطان محمود چوہدری کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور مسئلہ کشمیر کے لیے ان کی طویل جدوجہد اور خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سفیر خالد محمود نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک زندہ بین الاقوامی تنازعہ ہے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی اپنی مکمل قانونی حیثیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے بھارتی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حقِ خودارادیت کشمیری عوام کا بنیادی، ناقابلِ تنسیخ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حق ہے۔مہمانِ خصوصی مشعال حسین ملک نے کہا کہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی المیہ اور عالمی امن کے لیے ایک خطرناک ایٹمی فلیش پوائنٹ ہے۔ انہوں نے کشمیری سیاسی قیدیوں، بالخصوص یاسین ملک، آسیہ اندرابی اور مسرت عالم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بدترین انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ کشمیری عوام کے تحفظ اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان سفیر طاہر اندرابی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کا مؤقف مضبوط بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2019 کے بعد بھارتی غیر قانونی اقدامات کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جن میں جبری گرفتاریاں، شہری آزادیوں پر پابندیاں، خواتین اور بچوں کے حقوق کی پامالی اور قدرتی وسائل کا استحصال شامل ہے۔

انڈیا اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خرم عباس نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے عالمی برادری کی فوری توجہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل میں شعور بیدار کرنے کے لیے کشمیر سے متعلق مضمون نویسی کے مقابلے کے انعقاد کا بھی ذکر کیا۔

ڈاکٹر ماریہ سیف الدین ایفندی نے کہا کہ آرٹیکل 370 اور 35-A کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر کا سیاسی، سماجی اور آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل کر دیا گیا ہے، جس سے آزادانہ اور منصفانہ استصوابِ رائے کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

شمیم شال نے کہا کہ کشمیری عوام، بالخصوص خواتین، بھارتی جبر و استبداد کے باوجود ثابت قدم ہیں اور ان کی جدوجہد کسی ہمدردی نہیں بلکہ عالمی انصاف کی متقاضی ہے۔تقریب کے اختتام پر مسئلہ کشمیر پر منعقدہ مضمون نویسی کے مقابلے میں کامیاب ہونے والے شرکاء میں انعامات تقسیم کیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں