جہلم ویلی کی سیاست میں اہم پیش رفت مشتاق احمد ڈار کی دونوں حلقوں سے انتخابی دوڑ، سیاسی درجہ حرارت بلند

47

ہٹیاں بالا (نمائندہ خصوصی)آزاد جموں و کشمیر کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما اور سابق امیدوارِ اسمبلی مشتاق احمد ڈار نے آئندہ عام انتخابات 2026 کے لیے ضلع جہلم ویلی کے دونوں انتخابی حلقوں ایل اے 32 مظفرآباد (6) جہلم ویلی (حلقہ چکار) اور ایل اے 33 مظفرآباد (7) (حلقہ لیپہ) سے باضابطہ طور پر جمعیت علماء اسلام کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے سامنے اپنی درخواستیں جمع کرا دی ہیں، جس کے بعد مقامی سیاسی ماحول میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق مشتاق احمد ڈار نے پارٹی قیادت کے سامنے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ نہ صرف تنظیمی اور عوامی سطح پر مقبول، مضبوط اثر و رسوخ رکھتے ہیں بلکہ انہیں طویل سیاسی تجربہ، عوامی رابطہ مہم اور حکومتی پالیسی سازی کا عملی ادراک بھی حاصل ہے، جو انہیں اس انتخابی معرکے میں ایک مضبوط امیدوار کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔

انہوں نے اپنی درخواست میں واضح کیا ہے کہ ضلع جہلم ویلی کے دونوں حلقہ جات سیاسی و نظریاتی اعتبار سے انتہائی اہم اور فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں، جہاں کامیابی صرف اسی صورت ممکن ہے جب ایک منظم، متحرک اور عوامی سطح پر مضبوط گرفت رکھنے والا امیدوار میدان میں اتارا جائے۔

مشتاق احمد ڈار نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر جماعتی قیادت ان پر اعتماد کرتی ہے تو وہ انتخابی میدان میں بھرپور قوت کے ساتھ اتر کر جمعیت علماء اسلام کے نظریات، منشور اور جماعتی پالیسیوں کو گھر گھر پہنچائیں گے اور عوامی مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے۔

گزشتہ الیکشن میں حلقہ لیپہ سے جماعت کی کارکردگی انتہائی مایوس کن تھی جمعیت علماء اسلام کے امیدوار نے کل 67868 ووٹوں میں سے صرف 284 ووٹ حاصل کر سکے تھے جو جماعت کیلئے شرمندگی اور ہزیمت کا باعث رہا.

سیاسی مبصرین کے مطابق گزشتہ انتخابات میں حلقہ لیپہ سے جماعت کی انتہائی پست کارکردگی کے بعد اس حلقہ میں تنظیمی اور انتخابی حکمتِ عملی پر خصوصی توجہ کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی ۔ اسی تناظر میں مشتاق احمد ڈار کی جانب سے دونوں حلقوں سے درخواستیں جمع کرانے کے بعد نہ صرف مرکزی جماعتی سطح پر بھرپور پزیرائی ملی بلکہ ضلع جہلم ویلی کی انتخابی سیاست میں بھی ایک نیا اور فیصلہ کن مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ کیونکہ حلقہ 7 لیپہ میں اکثریت کشمیری قبیلے کی ہے جو اس امیدوار کی قریبی فیملی ہے اور جملہ برادری جمعیت علماء اسلام سے نظریاتی ہم آہنگی اور ہمدردی رکھتی ہے
اب تمام نظریں پارلیمانی بورڈ کی آئندہ تجاویز اور مرکزی قیادت کے فیصلے پر مرکوز ہیں، جو آئندہ انتخابات میں اس اہم ضلع کے سیاسی نقشے کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں