تحریر: نزہت سردار
ہم سب سے زیادہ اُن چنندہ وبرگزیدہ، پاک ومقدس ہستیوں کے شکرگذار ہیں کہ جن کوہم انبیاء علیہم السلام کہتے ہیں، جن کی اس دنیا میں آمد کی برکت سے دنیا میں جہاں کہیں بھی ایک اللہ کی پرستش، عبادت کی مختلف شکلیں، نیکی کی روشنی، اچھائی کا نور، اخلاص وللّٰہیت کی عملی شکل وصورت، دل کی صفائی کا اجالا، رحم وکرم، عدل وانصاف، غریبوں کی مدد، یتیموں کی پرورش، بے واؤں کا سہارا، بیماروں کی تیمارداری، محتاجوں وضرورتمندوں کی مدد ونصرت، اخلاق کی بہتری، مختلف حالتوں میں انسانی قویٰ میں اعتدال ومیانہ روی پیدا کرنے کی کامیاب کوششیں ملتی ہیں؛ خواہ وہ پہاڑوں کے غاروں، جنگلات کے جھنڈوں، ریگستانوں کے کھلے میدانوں، دریاؤں وسمندروں کے کناروں پر ہوں یاشہروں وبستیوں کی آبادیوں میں وہ سب کی سب اِنہی انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نہ کسی فرد سے منسلک ہوں گی؛ اورانہی کی ہدایات وتعلیمات ہی کا نتیجہ ہوگا کہ جن کے ذریعہ ہماری اندرونی حرص وھویٰ کی چالیں درست ہوئیں اور انہوں نے ہی ہمارے روحانی بیماریوں کے علاج کے نسخے ترتیب دیے اور ہمارے جذبات، احساسات اور ارادوں کے نقشوں کودرست کیا اور ہمارے نفوس وقلوب کے عروج ونزول کی کیفیات کوحداعتدال میں رکھنےکے فن ترتیب دیے.
جن سے مادی وروحانی زندگی کے صحیح تمدن وحسنِ معاشرت کی تکمیل ہوئی، اچھی سیرت وحسنِ اخلاق، انسانیت کا جوہر قرار پایا؛ نیکی وبھلائی، ایوانِ عمل کے نقش ونگار ٹھہرے، اللہ وبندہ کے درمیان باہم روابط مضبوط ہوئے؛ الغرض ہرزمانہ میں لوگ انبیاء علیہم السلام ہی کی عملی زندگی کودیکھ دیکھ کراپنی دنیوی زندگی کے تمدن، حسنِ معاشرت وحسنِ معاملگی کوسیکھ کراس پر عمل کرتے رہے اور منشائے خداوندی کے مطابق اپنی زندگی کے شب وروز گذارتے رہے تاکہ اخروی دائمی زندگی کے چین وسکون کورضائے الہٰی وجنت کی شکل وصورت میں پاسکیں۔خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے اسوۂ حسنہ میں قیامت تک آنے والی انسانیت کی نجات ہے.یہ دنیا امتحان گاہ ہے ایک دن اِس کو ختم ہونا ہے توجس طرح ایک دن یہ ختم ہوگی اُسی طرح اُس میں پیدا ہونے والی انسانیت کوبھی ختم ہونا ہے اور انبیا علیہ السلام کی آمد کا سلسلہ انسانوں میں ہی ہوا کرتا تھا؛ لہٰذا اِس آمدِ انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ کوبھی ختم ہونا تھا تویہ سلسلہ آدم علیہ السلام سے لیکر محمد ﷺ تک چلتا رہا؛ چونکہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ ہی کو وجہِ کائنات، سرورِ دوعالم، اشرف الانبیاء اورخاتم الانبیاء بنایا ہے اس لیے اس کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ آپ ﷺ کی تشریف آوری سب سے اخیر میں ہو؛ تاکہ لوگوں پر بھی ظاہرہوجائے کہ آپ ﷺ کس طرح اشرف الانبیاء، افضل الانبیاء اور خاتم الانبیاء ہیں، یہ ہم اپنے مذہبی عقیدہ کی بنیاد پرمحض کوئی دعویٰ نہیں کررہے ہیں؛ بلکہ یہ ایک واقعی حقیقت ہے جس کی بنیاد دلائل وشواہد پر قائم ہے۔
آپ ﷺ کی بعثت کے بعد سے قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے اگرکوئی کامل ومکمل لائقِ عمل وقابل تقلید زندگی ہے تووہ صرف اور صرف محمد ﷺ کی حیاتِ مبارکہ ہے آپ ﷺ کے علاوہ کسی نبی ورسول کی زندگی اس طرح مضبوط طریقہ پر محفوظ نہیں ہے جس طرح آنحضرت ﷺ کی سیرت محفوظ ہے، دیگرانبیاءعلیہم السلام کی مکمل سیرت محفوظ رکھنے کی اب چنداں ضرورت بھی نہیں ہے؛ اس لیے کہ ہر نبی ورسول کا وقت، علاقہ، قوم وبستی متعین ومحدود تھی؛ اس لیے اللہ تعالیٰ اس وقت تک، اس قوم کی حد تک، اُن کی زندگیوں کومحفوظ رکھا تھا؛ اب چونکہ اُن کی نبوت ورسالت کا دور ختم ہوچکا ہے؛ اس لیے اُن کی تاریخی زندگیاں بھی تکوینی طور پرمحفوظ نہیں رکھا گیا ؛ اب چونکہ محمدﷺ کی نبوت ورسالت کا دور ہے جو کہ آپﷺ سارے عالَموں کے، رہتی دنیا تک کے، جن وانس کے نبی ورسول ہیں؛ اِس لیے آپﷺ کی پوری عملی زندگی مختلف انداز وطریقوں سے محفوظ کی گئی؛ تاکہ جن وانس کے مختلف احوال ومصروفیات کے اعتبار سے ایک کامل ومکمل، بہترین نمونۂ حیات ثابت ہو، آپ ﷺ کی سیرتِ پاک میں ہر آدمی کواس کے اپنے احوال ونسبتوں کے اعتبار سے ایک بہترین زندگی گذارنے کا طریقہ میسر آئے۔
محمد ﷺ کے سیرت کی اہمیت اسلام کی نظر میں
اسلام میں سیرتُ النبیﷺ کی اہمیت اور مقام ومرتبہ اُتناہی اہمیت کا حامل ہے جتنا کہ کتاب اللہ کا یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہبری ورہنمائی اور زندگی گذارنے کے دستور کوکتاب یعنی قرآن مجید کی شکل میں نازل فرمایا اُسی طرح اُس پر عمل آوری کی بہترین شکل وصورت اور انسانوں کے لیے سب سے عمدہ اُسوہ ونمونہ صاحبِ کتاب یعنی حضرت محمدﷺ کی شکل وصورت میں مبعوث فرمایا، جس طرح پورا قرآن کریم انسانی زندگی کے لیے کتابی دستور کی حیثیت رکھتا ہے اُسی طرح آنحضرتﷺ کی پوری عملی زندگی عملی دستور وقانونِ الہٰی کی حیثیت رکھتی ہے؛ اسی کوبتلانے اورسمجھانے کے لیے خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
“وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىo إِنْ هُوَإِلَّاوَحْيٌ يُوحَىo”۔
(النجم:۴،۳)
یعنی آپﷺ قرآنِ مجید کے علاوہ جوبات بھی ارشاد فرماتے ہیں وہ وحی الہٰی ہی ہوتی ہے، یعنی آپﷺاپنی طرف سے کچھ نہیں فرماتے جوکچھ بھی ارشاد فرماتے ہیں وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے، بس!فرق صرف اتنا ہے کہ وہ وحی غیرمتلو یعنی حدیث ہوتی ہے جس کونماز میں قرآنِ شریف کے طور پر نہیں پڑھ سکتے، باقی حکم وعمل کے اعتبار سے دونوں برابر درجہ کے ہیں، وحی غیرمتلو میں حکم وعمل کے اعتبار سے جوتخفیف ہوئی ہے وہ قوتِ دلیل میں کمی کی وجہ سے ہے؛ ورنہ توقرآن اور آپﷺ کی عملی زندگی اعتقاد، حکم اورعمل کے اعتبار سے دونوں برابردرجہ کے ہیں؛ اس کو سمجھنے کے لیے دل میں عشقِ نبیﷺ وحب حبیب اللہﷺ کی چنگاری کی ضرورت ہے، جب وہ چنگاری سُلگ کربڑھتے بڑھتے ایک شعلہ جوّالہ بن جاتی ہے تواس وقت جب ایک سچے امتی کو صحیح طریقہ پر معلوم ہوجاتا ہے یہ آنحضرتﷺ کا قول وفعل ہے توآنحضرتﷺ کی ہراداء کی نقل اتارنے کوباعثِ فخر وسعادت اورقرب خداوندی میں رفعِ درجات کا سبب سمجھتا ہے توپھر وہ حضراتِ صحابہؓ ہی کی طرح عشقِ نبیﷺ وحب نبیﷺ میں ڈوب کرسرکارِ دوعالم ﷺ کی ایک ایک اداء کی نقل اُتارنے کوفرضِ لازمی کےدرجہ میں لیکر پوری کیفیات واحساسات کے ساتھ ادائیگی پرمرمٹنے کوہروقت وہمہ تن تیار ہوجاتا اور وہ اپنی زندگی کے اُن احوال اور اُن اعمال پر فخر کرتا ہے جن میں عشقِ مصطفی ﷺ میں غرق ہوکر آنحضرت ﷺ کے اداء کی نقل اتاری ہو.