تحریر: عبدالباسط علوی
جموں و کشمیر کا مسئلہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان متنازعہ معاملہ رہا ہے۔ اس تنازعہ کی ابتدا 1947 میں تقسیم ہند سے ہوئی جب ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم کے اصولوں کے مطابق ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرنے کا انتخاب پیش کیا گیا۔ جموں و کشمیر کا اس وقت کا مہاراجہ ہری سنگھ جو ایک ہندو حکمران تھا، نے اکتوبر 1947 میں سیاسی عدم استحکام اور قبائلی مداخلتوں کا بہانہ بنا کر ہندوستان سے الحاق کرنے کا فیصلہ کیا، جو بالآخر ایک مکمل تنازعہ کی شکل اختیار کر گیا۔ پاکستان اور ساتھ ہی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں جانب کشمیری عوام کا ماننا ہے کہ یہ الحاق زبردستی کیا گیا تھا اور یہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی مرضی کی حقیقی عکاسی نہیں کرتا تھا۔ اقوام متحدہ بھی اس معاملے میں شامل ہوا اور کئی قراردادیں منظور کی گئیں جن میں خطے کے مستقبل کی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے رائے شماری کے انعقاد کی تجویز پیش کی گئی۔
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 1972 کا شملہ معاہدہ مسئلہ کشمیر کو دو طرفہ اور پرامن ذرائع سے حل کرنے کی ایک کوشش تھی۔ بھارت کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے اور جموں و کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت دینے پر آمادہ نہیں ہوا۔ برسوں کے دوران بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر میں ظلم و ستم کی کارروائیوں کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے جنہیں جارحیت کی کارروائیوں کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ ان اقدامات میں اگست 2019 میں ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35A کی منسوخی شامل ہے۔ آرٹیکل 370 نے جموں و کشمیر کو خصوصی خود مختار حیثیت دی تھی، جب کہ آرٹیکل 35A نے ریاستی مقننہ کو مستقل رہائشیوں کی تعریف کرنے اور انہیں خصوصی مراعات دینے کی اجازت دی تھی۔ کشمیری عوام کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر کی آبادی کی رضامندی کے بغیر ان آرٹیکلز کو یکطرفہ طور پر منسوخ کرنا ایک اشتعال انگیز اقدام تھا۔ مزید برآں، ہندوستانی حکومت نے خطے میں کافی تعداد میں فوجیوں کو تعینات کیا جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بیشمار الزامات سامنے آئے۔
آزادی اظہار پر پابندیاں، تشدد کے واقعات، جنسی حملوں، بڑے پیمانے پر نظربندیوں اور مواصلاتی بندش کے لاتعداد واقعات دیکھنے کو ملے۔ ان اقدامات نے مقامی آبادی میں عدم اطمینان کو مزید بڑھا دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے جموں و کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کا خطہ بھارت کی جانب سے ماورائے عدالت قتل، تشدد اور من مانی نظربندیوں کے انتہائی سنگین واقعات سے شدید متاثر ہوا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ایک انسانی بحران پیدا ہوا ہے، جس نے عام کشمیری آبادی کی زندگیوں کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔ اس بات پر زور دینا ناگزیر ہے کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کے کسی بھی حل کے لیے خطے میں رہنے والے لوگوں کے حقوق، تحفظ اور فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ جموں و کشمیر میں بھارتی جارحیت کا معاملہ ایک کثیر الجہتی مسئلہ ہے جس کی جڑیں تاریخ، قانونی پیچیدگیوں اور انسانی حقوق کے حوالے سے گہری ہیں۔ پاکستان متعدد بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر مقامی آبادی پر پڑنے والے اثرات اور پرامن حل کی ضرورت پر تشویش کا اظہار کرتا رہتا ہے۔
ہندوستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات اب بھی ایک انتہائی پریشان کن معاملہ ہے۔ اس صورت حال کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کے لیے ایک کثیر جہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے جو تنازعہ کی بنیادی وجوہات سے نمٹے اور انسانی حقوق اور کشمیری عوام کے وقار کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ اس عمل میں بین الاقوامی دباؤ، جوابدہی کے طریقہ کار اور بامعنی مکالمے کو اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری اور انسانی حقوقِ کی فراہمی میں دلچپسی نہیں دکھا رہا۔مودی کی حکومت میں بھارت اب کھلم کھلا ہندوتوا نظریے کی پیروی کر رہا ہے جو ہندوازم کی بالادستی پر یقین رکھتا ہے۔ بھارت اقلیتوں کو حقوق دینے کے بجائے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیراعلیٰ نے حال ہی میں کہا ہے کہ بھارت کو سندھ کا علاقہ پاکستان سے واپس لینا چاہیے۔
اس سے قبل بھارتی وزیر دفاع نے بھی آزاد کشمیر کے بھارت میں انضمام کی بات کی تھی۔ بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ اگر ایودھیا میں رام جنم بھومی پانچ سو سال بعد مسلمانوں سے واپس لی جا سکتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ بھارت سندھو یعنی سندھ کا صوبہ نہ لے۔ اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے، جو ایک کٹر ہندو قوم پرست جماعت ہے اور ریاست کے وزیر اعلیٰ کو پارٹی میں سب سے کٹر ہندو رہنما سمجھا جاتا ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعلیٰ دو روزہ قومی سندھی کنونشن سے خطاب کر رہے تھے اور انہوں نے اس دوران یہ الفاظ کہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سو سال بعد ایودھیا میں بھگوان رام کا عظیم الشان مندر تعمیر ہو رہا ہے۔ جلد ہی وہاں رام کی مورتی دوبارہ نصب کی جائے گی۔ اس مندر کا افتتاح وزیر اعظم مودی جنوری میں کریں گے۔ “اگر رام جنم بھومی کو پانچ سو سال بعد واپس لیا جا سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم سندھو (انڈس ریجن) کو واپس نہ لے سکیں،”۔
اس حوالے سے یوگی آدتیہ ناتھ کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب انہوں نے یہ تبصرہ کیا تو آڈیٹوریم میں بیٹھے سامعین نے اتنی زور سے تالیاں بجائیں کہ ہال گونج اٹھا۔ اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے سندھی برادری کو اپنی موجودہ نسل کو اپنی تاریخ اور ورثے کے بارے میں بتانے کی ضرورت ہے۔ اگر انہیں اپنی تاریخ اور بزرگوں کے بارے میں معلوم ہو کہ ان کی اصل سرزمین کون سی تھی تو وہ اسے کبھی نہ کبھی حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ تقسیم ہند کے بعد سب سے زیادہ نقصان سندھی برادری کو ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صرف ایک شخص کی ضد ہندوستان کی تقسیم کی وجہ بنی۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم کی وجہ سے ہندوستان کا ایک بڑا علاقہ پاکستان بن گیا۔ سندھی برادری کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا کیونکہ اسے اپنا مادر وطن چھوڑنا پڑا۔ آج بھی ہمیں دہشت گردی کی شکل میں تقسیم کے سانحے کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔
چند ماہ قبل بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی جموں میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دینی چاہیے اور بھارت کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو واپس لینے کے لیے مزید کچھ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ضرورت پڑے گی، ’’بھارت سرحد پار کرکے عسکریت پسندوں کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں ختم کرتا رہے گا‘‘۔ اس موقع پر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ میں پاکستان کو واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ کشمیر کا مسئلہ بار بار اٹھانے سے اسے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کو واپس لینے کے لیے زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ بھارت کے ساتھ اتحاد کا مطالبہ خود وہیں سے شروع ہو جائے گا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے جموں و کشمیر کے کئی علاقوں پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ ان اشتعال انگیز بیانات سے بھارتی قیادت کی ہندوتوا سوچ واضح طور پر ظاہر ہوتی ہے۔
اسلامی دنیا میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا اہم کردار ہے۔ 1969 میں قائم ہونے والی او آئی سی ایک بین الحکومتی تنظیم ہے جس میں مسلم دنیا کے مختلف حصوں سے 57 رکن ممالک شامل ہیں۔ سالوں کے دوران اس نے اپنے رکن ممالک کے درمیان تعاون، اتحاد اور ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مزید برآں، OIC نے عالمی امن، سلامتی اور سماجی و اقتصادی ترقی میں خاطر خواہ تعاون کیا ہے۔او آئی سی کے بنیادی مقاصد میں سے ایک مسلم اکثریتی آبادی والے ممالک کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔اسلامو فوبیا، مذہبی امتیاز اور ثقافتی غلط فہمیوں سمیت بڑھتے ہوئے چیلنجوں کے پیش نظر یہ مشن خاص طور پر اہم ہے۔ او آئی سی اپنے اراکین کے لیے ایک پلیٹ فارم پیش کرتا ہے کہ وہ اکٹھے ہوں اور مشترکہ طور پر ان مسائل کو حل کریں جو مسلم دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ اجتماعی اتحاد عالمی سطح پر امن، استحکام اور مسلمانوں کے حقوق اور وقار کے تحفظ میں خاطر خواہ اثر ڈال سکتا ہے۔
او آئی سی نے تنازعات کے حل اور ثالثی میں فعال کردار ادا کیا ہے اور یہ اپنے رکن ممالک کے درمیان تنازعات کو روکنے اور حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ مثال کے طور پر، تنظیم نے صومالی خانہ جنگی اور جنوبی فلپائن کے تنازعات جیسے تنازعات میں ثالثی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بات چیت اور گفت و شنید میں سہولت فراہم کرنے کی اس کی کوششوں نے ان خطوں میں امن اور استحکام لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔مزید برآں، OIC کے پاس قدرتی آفات، تنازعات اور دیگر بحرانوں سے دوچار ممالک کو انسانی امداد فراہم کرنے کا ٹریک ریکارڈ ہے۔ تنظیم کے انسانی ہمدردی کے ادارے، اسلامی یکجہتی فنڈ نے صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور آفات سے نجات جیسے شعبوں پر مشتمل متعدد منصوبوں کے لیے مالی اعانت فراہم کی ہے۔ بحرانوں پر او آئی سی کا فوری ردعمل انسانی مصائب کے خاتمے اور سماجی بہبود کو آگے بڑھانے کے لیے اس کی لگن کو واضح کرتا ہے۔
تعلیم اور ثقافتی تبادلے او آئی سی کے مشن میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ یہ تعلیمی معیارات کو بڑھانے، سائنسی تحقیق کو فروغ دینے اور اپنے رکن ممالک کے درمیان ثقافتی تفہیم کو گہرا کرنے کے لیے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ یہ پروگرام نوجوان نسلوں کو بااختیار بنانے، بین الثقافتی مکالمے کی حوصلہ افزائی، اور سماجی و اقتصادی ترقی کو تحریک دیتے ہیں۔او آئی سی نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف بھی سخت موقف اپنایا ہے اور اسلامی تعلیمات سے ان کی عدم مطابقت پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے یہ دہشت گردی سے نمٹنے، سلامتی کو مضبوط بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ او آئی سی کے انسداد دہشت گردی کے اقدامات سب کے لیے محفوظ دنیا کو فروغ دینے میں اہم ہیں۔
مزید برآں، OIC اپنے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، تجارتی تعلقات کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کے مواقع اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ اسلامی ترقیاتی بینک (IDB) جیسے اقدامات رکن ممالک میں ترقیاتی منصوبوں، غربت میں کمی اور اقتصادی ترقی کے لیے مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔ اقتصادی ترقی کے لیے OIC کا عزم لاکھوں لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کشمیر کا جاری اور پیچیدہ تنازعہ ایک طویل مدت سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا باعث رہا ہے۔ اس پیچیدہ تناظر میں، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بات چیت کو فروغ دے کر اور کشمیری آبادی کے حقوق اور فلاح و بہبود کی حمایت کرتے ہوئے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک تعمیری کردار ادا کیا ہے۔
او آئی سی مسلسل سفارتی ذرائع سے مسئلہ کشمیر کے حل پر بات کر رہی ہے۔ اس نے متعلقہ فریقوں کے درمیان بات چیت کی سہولت کاری فراہم کی ہے اور اس تنازع کو حل کرنے کے راستے کے طور پر پرامن بات چیت پر زور دیا ہے۔ تنظیم نے کشمیری عوام کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے مذاکرات کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور اس کے پرامن حل کی وکالت کی ہے۔ مزید برآں، او آئی سی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اس نے کشمیری عوام کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملات میں جوابدہی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ او آئی سی کی وکالت کی کوششیں کشمیری آبادی کی حالت زار کی طرف بین الاقوامی توجہ دلانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔
او آئی سی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں بیان کردہ اصولوں کے مطابق کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کی ہے۔ یہ اصولی موقف بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھنے اور کشمیری عوام کی جمہوری امنگوں کی حمایت کرنے کے لیے تنظیم کی لگن کو واضح کرتا ہے۔مزید یہ کہ او آئی سی نے فعال طور پر کشمیر کے لوگوں کو خاص طور پر بحران کے وقت میں انسانی امداد فراہم کی ہے۔ اس امداد میں قدرتی آفات اور تنازعات کے دوران صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور امدادی سرگرمیاں شامل ہیں، جس کے نتیجے میں کشمیری عوام کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
او آئی سی نے اپنی وکالت اور سفارتی کوششوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عالمی سطح پر بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تنظیم کے اقدامات نے کشمیر کی صورتحال پر بین الاقوامی بات چیت کا آغاز کیا ہے اور متعلقہ فریقوں پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ پرامن حل کے لیے بامعنی اقدامات کریں۔
تاہم، یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر اب بھی ایک حساس اور گہرا تنازعہ ہے۔ اس حوالے سے کشمیری عوام کے حقوق اور امنگوں کا احترام کرتے ہوئے ایک پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے سفارتی مصروفیات، بات چیت اور تمام فریقوں کے درمیان مشترکہ دلچسپی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مسئلہ کشمیر میں اسلامی تعاون تنظیم کی شمولیت اس کے تعمیری کردار کی مثال ہے، جس کی خصوصیت اس کے پرامن مذاکرات کو فروغ دینے، انسانی حقوق کی حمایت اور انسانی امداد کی فراہمی سے ہے۔ یہ امر بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھنے اور کشمیری آبادی کی فلاح و بہبود کو آگے بڑھانے کے لیے تنظیم کی لگن کے ثبوت کے طور پر کام کرتا ہے۔
مسلسل تنازعات کی زد میں رہنے والی دنیا میں امن اور حل کے حصول میں سفارت کاروں، سفیروں اور نمائندوں کا اکثر نظر انداز کیا جانے والا اہم کردار ناقابل تردید ہے۔ ایسے ہی ایک فرد جنہوں نے دیرینہ مسئلہ کشمیر میں امن اور انصاف کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، وہ ہیں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے کشمیر کے لیے نمائندے یوسف الدوبے۔ کشمیر کے لیے او آئی سی کے نمائندے کے طور پر یوسف الدوبے کی تقرری نے اس گہرے تنازعے کے لیے بین الاقوامی برادری کے نقطہ نظر میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔یوسف الدوبے اپنی کوششوں کے ضمن میں قابل تعریف رہے ہیں۔ ان کا سب سے قابل تعریف کردار مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے بنیادی ذریعہ کے طور پر بات چیت اور سفارت کاری کو غیر متزلزل فروغ دینا ہے۔انہوں نے کشمیری عوام کی دیرینہ شکایات کو دور کرنے کے لیے پرامن مذاکرات کی وکالت کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان دونوں کو مذاکرات کی میز پر آنے کی ترغیب دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اپنے پورے دور میں الدوبے نے انسانی حقوق کے لیے غیر متزلزل وابستگی کا مظاہرہ کیا اور کشمیری عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے خطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا، کشمیری شہریوں کے مصائب کی طرف بین الاقوامی توجہ مبذول کروائی اور بدسلوکی کے معاملات میں جوابدہی کی ناگزیر ضرورت پر زور دیا۔ الدوبے کی قیادت میں او آئی سی نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت میں ثابت قدمی برقرار رکھی ہے۔ یہ اصولی موقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں سے ہم آہنگ ہے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور کشمیری آبادی کی جمہوری امنگوں کی حمایت کرنے کے لیے او آئی سی کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔
یوسف الدوبے کشمیر کے لوگوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد فراہم کرنے میں بھی سرگرم عمل رہے ہیں، خاص طور پر بحران کے وقت۔ یہ امداد قدرتی آفات اور تنازعات کے تناظر میں صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، اور امدادی کوششوں کے لیے معاونت پر مشتمل ہے۔ ان کے اقدامات نے کشمیری باشندوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالا ہے، جس سے انہیں تکلیف کے وقت انتہائ راحت ملتی ہے۔اپنی غیر متزلزل وکالت اور سفارتی کوششوں کے ذریعے الدوبے نے مسئلہ کشمیر کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر بیداری پیدا کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے مؤثر طریقے سے کشمیر کی صورت حال پر عالمی بات چیت کی حوصلہ افزائی کی ہے اور اس میں شامل فریقوں پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ پرامن حل کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
یوسف الدوبے کے مثبت کردار کے باوجود یہ تسلیم کرنا ناگزیر ہے کہ مسئلہ کشمیر اب بھی ایک گہرا اور پیچیدہ تنازعہ ہے۔ حل کا راستہ چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے اور اس میں مسلسل سفارتی مصروفیات، بات چیت اور کشمیری عوام کے حقوق اور امنگوں کا احترام کرنے والے پائیدار حل تک پہنچنے کے لیے تمام فریقین کی جانب سے غیر متزلزل عزم کی ضرورت ہے۔ کشمیر کے لیے او آئی سی کے نمائندے کے طور پر یوسف الدوبے نے مسئلہ کشمیر میں امن، انسانی حقوق اور انصاف کے لیے ایک اہم اور قابل تعریف کردار ادا کیا ہے۔ بات چیت کو فروغ دینے، انسانی حقوق کی وکالت کرنے اور انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے ان کی لگن نے کشمیری عوام کی زندگیوں پر بامعنی اثر چھوڑا ہے۔ کشمیر کے ابھرتے ہوئے تناظر میں، امن کو فروغ دینے اور انصاف اور خود ارادیت کی وکالت کرنے میں ان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
مسئلہ کشمیر پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے یوسف ایم الدوبے نے حال ہی میں ایک وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے حق خودارادیت کے لیے کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ محمد سائرس سجاد قاضی سے بات چیت کے بعد کیا۔ الدوبے نے کشمیری عوام کے حوالے سے او آئی سی کے موقف کی توثیق کی اور مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ان کی حالت زار کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کا عزم کیا۔
مزید برآں، یوسف ایم الدوبے نے اس بات پر زور دیا کہ او آئی سی نے 5 اگست 2019 کو بھارت کی طرف سے کیے گئے غیر قانونی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے اور ان کو واپس لینے کا مسلسل مطالبہ کرتی آئ ہے۔جواب میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ نے کشمیری کاز کے لیے مسلسل اور غیر متزلزل حمایت پر او آئی سی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کا حوالہ دیتے ہوئے محمد سائرس سجاد قاضی نے نشاندہی کی کہ موجودہ بھارتی قیادت خطے پر بھارت کے قبضے کو طول دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کی ایک قابل ذکر تعداد کو غیر قانونی حراست میں لیا گیا ہے، جن کی کل تعداد چار ہزار کے لگ بھگ ہے۔ 5 اگست 2019 کو اٹھائے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان اقدامات کا حتمی مقصد کشمیریوں کو بے اختیار کرنا اور انہیں اپنے ہی وطن میں اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ او آئی سی کی قراردادوں کے تحت کیے گئے فیصلوں اور رابطہ گروپ کی جانب سے اختیار کیے گئے ایکشن پلان پر بروقت اور مکمل عمل درآمد کشمیریوں کے مصائب کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور جموں و کشمیر کے تنازعہ کے دیرپا حل کا باعث بن سکتا ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے وفد نے آزاد جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول چکوٹھی کا بھی دورہ کیا اور بھارتی جارحیت کے متاثرین سے ملاقات کی۔ وفد نے مظفرآباد میں یادگار شہداء اور مظفرآباد کے قریب مہاجر کیمپ کا دورہ بھی کیا اور آزادکشمیر کی سیاسی قیادت سے ملاقات بھی کی۔ وفد کو لائن آف کنٹرول کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی گئی ۔ اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی برائے جموں وکشمیر یوسف محمد الدوبے نے وفد کی قیادت کی ۔ او آئی سی کے وفد کو چکوٹھی اوڑی کراسنگ پوائنٹ پر جی او سی چنار ڈویژن میجر جنرل محمد عرفان نے خوش آمدید کہا اور کنٹرول لائن کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے مظالم اور مقبوضہ وادی میں جاری برپریت سے آگاہ کیا۔ او آئی سی کے وفد کو آزاد کشمیر کے عوام کی بہتری کے لیے کئے گئے فلاحی اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وفد نے ایل اوسی پرہندوستانی جارحیت سے متاثرہ افراد سے بھی ملاقات کی۔
متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے یوسف الدوبے نے کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف کشمیریوں کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے۔ OIC کے آئندہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے گا اور کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچائی جائےگی ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر او آئی سی کا حصہ ہے، مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کروانا ہماری ذمہ داری ہے۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد میں ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج ہمیں ایل او سی کا دورہ کرنے اور بھارتی جارحیت کے متاثرین سے بات کرنے کا موقع ملا ہے۔ دنیا کو بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں مزید بتانے کی ضرورت ہے۔ ہم اس مسئلے کو دوست ممالک کے ساتھ مل کر حل کریں گے تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
او آئی سی سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے یوسف الدوبے نے مظفرآباد میں جموں وکشمیر مونومنٹ پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر افواج پاکستان کی جانب سے یادگار شہداء پر سلامی دی گئی۔او آئی سی کے وفد نے مظفرآباد میں ایک مہاجر کیمپ کا بھی دورہ کیا جہاں وفد کو مہاجرین کی سماجی و اقتصادی ترقی کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔وفد کو اس موقع پر خصوصی ڈاکو منٹری بھی دکھائی گئی۔ او آئی سی وفد نے مہاجرکیمپ میں قائم ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کا بھی دورہ کیااور وہاں تیارکردہ کشمیری مصنوعات میں گہری دلچسپی لی ۔
قارئین، او آئی سی کے خصوصی ایلچی کے دورے کے حوالے سے جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پر دونوں اطراف کے زمینی حقائق کا تجزیہ کیا، اور انہیں ایک طرف آزاد جموں و کشمیر کے مثالی اور پرامن حالات جبکہ دوسری جانب بھارتی ظلم و ستم کے اقدامات کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے حالات کے درمیان نمایاں فرق کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ وہ کشمیر کی صورتحال پر ایک جامع رپورٹ بھی مرتب کر کے او آئی سی رابطہ گروپ کو پیش کریں گے۔ ان کے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے اس اہم دورے کو لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کے لوگوں نے بہت سراہا ہے اور اسے ایک مخلصانہ کوشش کے طور پر دیکھا گیا ہے جو کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے استعمال کے امکانات کو حقیقت بنانے اور بھارتی ہٹ دھرمی کو ختم کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہو گی۔