تحریر:محمدشاہدحفیظ،لیکچراراُردو،گورنمنٹ گریجوایٹ کالج میلسی
پروفیسر شفیق الرحمن الہ آبادی،میلسی کے علمی وادبی افق پر ایک جگمگاتاستارہ ہیں جن سے سینکڑوں طلبہ وطالبات مستفیدہورہے ہیں۔ ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین ملک کے معتبررسائل وجرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں جنھیں پڑھ کرہم جیسے نوآموزطلبہ کوتحریک ملتی ہے بلاشبہ ان کی شخصیت اور تحاریر ہمارے ادبی ذوق کو مہمیزکرتی ہیں۔میری یہ خوش قسمتی ہے کہ مجھے پروفیسر شفیق الرحمن الہ آبادی جیسی شفیق،ہمدرد،مخلص اورعالم فاضل شخصیت کے حضورزانوائے تلمذ تہہ کرنے کااعزازحاصل ہوا۔یہ انہی کی صحبت کافیض ہے کہ میرے جیساکم علم اورطفلِ مکتب چندالفاظ کی خامہ فرسائی کے قابل ہوا۔بس یہ بات میرے لیے قابل ِ افتخار ہے اوریہی میرامتاعِ علم وہنر ہے۔بقول غالب:
اپنے آپ پہ رشک آجائے ہے مجھ کو
”اکیسویں صدی کااقبال،ڈاکٹرسیدقاسم جلال“ مجموعی طور پرپروفیسر شفیق الرحمن الہ آبادی کی آٹھویں کتاب ہے۔جس کایہ منفرداورچونکادینے والا عنوان سبط ِ جمال کے مضمون کے عنوان سے اخذکیاگیاہے۔اس کتاب میں ڈاکٹرسید قاسم جلال کی شخصیت اورفن پر لکھے گئے مضامین، مشاہیرِ ادب کی آراء، ڈاکٹرجاویداقبال کے ڈاکٹرسیدقاسم جلال کے نام خطوط،اردو،فارسی،سرائیکی اورپنجابی کلام کے نمونے،مطبوعہ کتب کی مکمل فہرست، اعترافاتِ خدماتِ جلال، انعامات واعزازت، ڈاکٹرسیدقاسم جلال کی ادبی خدمات پرمختلف جامعات میں لکھے جانے والے تحقیقی مقالات کی تفصیل کے ساتھ ساتھ ان کی خوب صورت اور یادگارتصاویرنے کتاب کوچارچاندلگادیے ہیں۔اس کتاب کا انتساب ”عہد ِ حاضرکے فکر ِ اقبال کے تمام توسیع کاروں کے نام“ہے جس سے ثابت ہوتاہے کہ مرتب کتاب بھی اپنے استاد محترم ڈاکٹرسیدقاسم جلال کی طرح عاشق ِ اقبال ہیں۔ جامعہ اسلامیہ بہاول پورکے شعبہ اقبالیات میں پی۔ایچ۔ڈی اقبالیات میں انھیں ڈاکٹر صاحب کی شاگردی میں آنے کااعزازحاصل ہواتوان کے درمیان پہلے سے موجودادبی تعلقی ایک قلبی تعلق میں تبدیل ہوگیا۔اس خوبصورت تعلق سے ہی ایسی یگانہئ روزگارکتاب منصہ شہودپرآئی۔کتاب کی اشاعت کاپس منظر اورمحرک بتاتے ہوئے شفیق الرحمن الہ آبادی لکھتے ہیں کہ:
”ڈاکٹرسیدقاسم جلال،علامہ اقبال کی شخصیت اورشاعری سے متاثرہیں اس لیے ان کی شخصیت، تہذیب، گفتگو اورشاعری میں فکر ِ اقبال کی جھلک ملتی ہے۔بالخصوص شعری مجموعوں ’رموزِعرفان،صورِاسرافیل، بانگ ِ جرس، پس ایں باید کرد‘ اور’قم باذن اللہ‘ میں وہ فکر ِ اقبال کے توسیع کارکی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔ میں نے جب پی۔ایچ۔ڈی کے تحقیقی مقالے (اردوشاعری میں فکر ِ اقبال کی توسیع)کے حوالے سے اقبالؔاورجلالؔ کے کلام میں مشترک موضوعات کی تلاش کے لیے جستجو کی تومجھے نہ صرف ان کے کلام میں فکر ِ اقبال کے حوالے سے اشعار ملے بلکہ ایسے ناقدین کے بہت سے مضامین بھی مل گئے جن میں ڈاکٹرسیدقاسم جلال کو بطوراقبال شناس یافکر ِ اقبال کے توسیع کارہونے کے حوالے سے موضوع بنایاگیاتھاتومیں نے ان تمام مضامین کو یکجاکرکے کتابی صورت میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔“
ڈاکٹرسیدقاسم جلال عہد ِ حاضر کے ایک نامورمحقق،نقاد اورمفکرہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے شاعربھی ہیں۔شاعری میں انھیں اردو، سرائیکی، فارسی اورپنجابی پربھی یکساں قدرت حاصل ہے۔انھوں نے ہرصنف ِ سخن میں اپنے فن کالوہامنوایاہے۔جدیدشعروادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے ان کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔جنوبی پنجاب کے شہربہاولپورکے مطلع سے طلوع ہونے والے یہ فنکاردیکھتے ہی دیکھتے قومی افق کے خورشید ِ فن پر جگمگانے لگے۔ان کی شاعری بالخصوص فکر ِ اقبال کی توسیع نے اردودنیامیں غیرمعمولی مقبولیت حاصل کی ہے۔ڈاکٹرسیدقاسم جلال ایک ہمت جہت شاعرہیں اس لیے ان کی شخصیت کامطالعہ کئی جہتوں اورمتعددزاویوں سے کیا جا سکتا ہے۔جدیدشاعری میں ان کا کلام بہت مؤثر اور سحر انگیز نظر آ تا ہے جس کااندازہ اردوشعروادب کی مؤقرشخصیات کی آراسے بخوبی ہوتاہے۔ ڈاکٹرقاسم جلال نے جہاں بڑوں کے لیے ادب تخلیق کرکے قوم کی فکری رہنمائی کافریضہ سرانجام دیاہے وہاں بچوں کے لیے بھی نظمیں اورگیت لکھ کر ان کی ذہنی تربیت کافریضہ کرنے سرانجام دینے کی بھرپورسعی کی ہے۔
ڈاکٹرسیدقاسم جلال ایک درویش منش اورکل وقتی شاعر وادیب ہیں جوستائش کی تمنا اورصلے کی پرواکیے بغیرشعروادب کے گیسوسنوارنے میں دل و جان سے مصروف ہیں۔ان کی پچھتر(۵۷) سالہ زندگی میں چالیس (۰۴)کتب شائع ہوکراہل علم وفن سے داد و تحسین حاصل کرچکی ہیں۔اس کے علاوہ تقریباً بیس اخبارات وجرائد ان پر خاص نمبراورخصوصی گوشے شائع کرکے ان کو خراج تحسین پیش کرکے عقیدت کے پھول نچھاور کرچکے ہیں۔ ان کے فن و شخصیت پر ایم۔فل اوربی۔ایس اردو سطح پر مختلف جامعات کے تحت 25مقالے بھی ان کی ہمہ جہت ادبی خدمات کی بھرپورعکاسی کرتے ہیں۔جب کہ اسلامیہ یونی ورسٹی بہاول پور کے شعبہ اقبالیات میں پروفیسرشفیق الرحمن الہ آبادی اپنے پی۔ایچ۔ڈی کے مقالہ بعنوان ”اردو شاعری میں فکر ِ اقبال کی توسیع۔تحقیقی وتنقیدی جائزہ“ میں ڈاکٹر سیدقاسم جلال کی شاعری میں فکر ِ اقبال کی توسیع کے نئے در واکرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔ڈاکٹرصاحب کی بنیادی شناخت ان کی شاعری کوہی قرار دیا جاتا ہے۔ شاعری میں ان کے تخلیقی رویے، ان کے فکری،سیاسی،اخلاقی اورگہرے سماجی شعورسے عبارت ہیں۔ ان کی شاعری ایک منفرداسلوب کی حامل ہے جو دورِ حاضر کے شعراء کی شاعری میں منفردآوازبھی ہے اور نئی جہت کی غمازبھی۔
ڈاکٹرسیدقاسم جلال کی شخصیت،شاعرانہ حیثیت اورفکر ِ اقبال کی توسیع کے حوالے سے متعدداہلِ قلم نے اظہارِ خیال کیا ہے۔ان لکھنے والوں میں بعض ایسی نابغہ روزگارشخصیات بھی شامل ہیں جنھیں اردوادب میں کلاسیک کادرجہ حاصل ہے لیکن ڈاکٹرسیدقاسم جلال اپنی منکسرمزاجی اورہمہ وقت ادبی خدمت میں مصروفیت کے باعث ان آراء اورنقد و نظرکویک جاطورپرمنظر عام پرنہیں لاپائے۔یہ فریضہ ان کے شاگردعزیزپروفیسرشفیق الرحمن الہ آبادی نے زیرِ نظر کتاب مرتب کرکے بخوبی انجام دیاہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ مضامین اورتحریریں ڈاکٹرقاسم جلال کی شاعری کی طرح اردوادب اورقارئین دونوں کی امانت ہیں جنھیں پروفیسر شفیق الرحمن الہ آبادی نے ”اکیسویں صدی کااقبال،ڈاکٹرسید قاسم جلال“جیسے خوبصورت گلدستے کی صورت میں پیش کرکے یہ امانت ہم تک پہنچادی ہے۔
مجھے یہ کہتے ہوئے دلی مسرت ہو رہی ہے کہ پروفیسر شفیق الرحمن الہ آبادی نے اپنے پی۔ایچ۔ڈی کے مقالے کی تکمیل سے قبل ہی اپنے استادمحترم کے فن اورشخصیت کوخراج تحسین پیش کرکے کراپنی شاگردی کاحق اداکردیاہے۔ان خوبصورت اورجامع مضامین سے نہ صرف ڈاکٹرسیدقاسم جلال کی شخصیت اور فن کے مختلف گوشے قارئین ِ ادب کے سامنے آئیں گے بلکہ ان کی شاعری اورفکر ِ اقبال کوبھی بہترطورپر سمجھنے میں مددملے گی۔یہی اس مجموعے کی ترتیب وتدوین کا بنیاد ی مقصدہے جس میں شفیق الرحمن الہ آبادی کامیاب نظر آتے ہیں۔