فلسطین جل رہا ہے

93

نقطہء نظر،اقراء نیاز
سن اے جلتی ہوئی وادی فلسطین
مردہ لوگوں کو آواز دیتے نہیں
خون واں تیرے بچوں کا ہوتا ہے جب
خون روتا ہے یاں میرا
قلبِ حزیں گوسوا ارب سے بھی زیادہ ہیں
ہم زندہ لاشیں ہیں
کر لو ہمارا یقین تیرا دکھ جانتا ہوسمجھتا ہوں
میں پر میں خود بھی ہوں دشمن کے زیرِ نگیں
اب فقط ایک حل ہے جو موجود ہے
آگ دشمن پر برسائے عرشِ بریں
اپنے بچوں کے ٹکڑے ہمیں نہ دکھا
اس کو آواز دے جو ہے تیرے قریں
چھوڑ دیں تیری خاطر بھلا لئے
نرم و نازک بدن بسترِ مخملیں
ہم وہ پہلے سے مردِ مجاہد نہیں
کل تھے افلاک پر اب ہیں زیرِ زمیں
ہم ہیں عاجز ہیں ،مجبور ،لاچار ہیں
اپنی غیرت کو ہم کھو چکے ہیں کہیں ۔

آج لکھنے کو کا دل چاہ رہا تھا ۔آج فلسطین پر لکھنے کا دل چاہ رہا تھا ۔ دل تو بہت دنوں سے تھا لیکن ہمت نہیں ہو پا رہی تھی کہ لکھیں بھی تو کیسے لکھیں ۔ صرف نعرہ بازی اور قلم کے ساتھ بھی ہم ان کی مدد نہیں کر سکتے کیوں کہ انہیں تو خوراک چاہیے پانی چاہئے گھر چاہیے ،سکون چاہیے جو اُن کے پاس مفقود ہے۔ ہم صرف جلسے جلوس کر کے ان کے حمایت میں نعرہ لگا کر گھر آکر سو جاتے۔ ہیں لمبی تان کے۔ لیکن اُن کا کیا، ان کا کیا قصور ہے جو وہ ظلم وستم برداشت کر رہے ہیں کیا قصور ہے آج فلسطین اور غزہ ہم سے پوچھ رہے ہیں بلکہ اُسی طرح جس طرح پچھلے پچھتر برس سے کشمیر پوچھ رہا ہے کہ کیا قصور ہے ہمارا کیوں ہمیں اس صدی میں بھی سکون نہیں کیوں ہم آزادی کے ساتھ بھی سانس نہیں لے سکتے ؟ کیوں؟ ان سوالوں کے جواب دینے کے بجائے پوری دنیا خاموش ہے کسی کے پاس ان سالوں کے جوابات موجود نہیں ہیں فلسطین پچھلے سات دنوں سے چل رہا ہے ۔ اسرائیلی فورسز کی بربریت جاری ہے فلسطین پر، لیکن دنیا خاموش بیٹھی ہوئی ہے اسرائیلی فورسز غزہ میں عورتوں اور بچوں کو بے رحمی سے میزائیلوں اور راکٹوں سے اُڑا رہے ہیں ، اُن کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ اُن پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ، اُنھیں بے گھر کیا جا رہا ہےپچھلے تین چار دن سےغزہ کا پانی اور بجلی بند ہے انہیں خوراک میسر نہیں ہے اُن کے سروں پر چھت نہیں اس وقت اُن کے پاس زندہ رہنے کے کوئی وسائل نہیں لیکن پھر بھی وہ دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں اپنے دفاع کے لئے کر رہے ہیں ، امن و سلامتی کے پیروکار اس وقت شدت انتہا پسند اسرائیل فورس کی مدد میں لگے ہوئے ہیں اور ہم اُن کا تماشا دیکھنے میں مصروف –

فلسطین کی حمایت میں ہم جلسے جلو س ، ریلیاں نکال رہے ہیں اور پھر نعرےبازیاں کر رہے ہیں لیکن اُن کی مدد کو کوئی نہیں پہنچ رہا ا نہیں صرف نعروں اور جلسوں سے حوصلہ دے رہے ۔ ہم انسان ہونے کے ناطے اُن کی مددتو کر سکتے ہیں ناہم انہیں خوراک پانی مہیا کر سکتے ہیں لیکن نہیں ہم سے یہ بھی نہیں ہو سکتا ہم نے اگر فلسطینی بھائیوں کی مدد کی تو ہم سے ہمارے دوست یہودی ناراض ہو جائیں گے اُن کی ناراضگی مول لی تو ڈالر کہاں سے آئیں گے ہمارے پاس۔ مسلمانوں جاگو یہ وقت تمھارے ہوش میں آنے کا ہے اُٹھو اور ساتھ دو اپنے مسلمان بھائیوں کا کل کو تم نے حشر میں خدا کو بھی منہ دیکھانا ہے ، یہ زندگی تو چنددنوں کی زندگی ہے فانی زندگی ہے ۔ ڈرو اُس وقت سے جب رب نے میدان حشر میں تمھارے فلسطینی بھائیوں کے سامنے تم سے سوال کرنا کہ ” بتاؤ کہاں تھے تم جب ان پر ظلم ہو رہا تھا۔ جب ان پر گولے برسائے جا رہے تھے جب انہیں بے گناہ قتل کیا جا رہا تھا کہاں تھے تم نے کیوں نہیں مدد کی اپنے بھائیوں کی تو اُس وقت کیا جواب دوگے تم اُس ذاتِ باری تعالیٰ کو کہ ہم ڈالر کے پیچھے لگ گئے تھے یا ہم انڈیا پاکستان کے میچ میں اُلجھے ہوئے تھے یہی جواب ہوگا تمھارے پاس۔ اُٹھو مسلمانوں وقت ہے تمھارے پاس اپنے فلسطینی مسلمان بھائیوں ، عورتوں اور بچوں کی شہادتوں کا بدلہ لو۔ یہ نا ہو کہ کل میدان حشر میں تمھارے ہاتھ خالی اور زبان گنگ ہو اور کچھ بول بھی نا سکو اور شرم سے سر جھکجائیں تمھارے۔ بس اتنا کام کرو دشمن کو للکا رو اُسے وار ننگ دو کہ ہم بھی فلسطینیوں کے ساتھ ہیں ہم بھی اپنے بھائیوں کے ساتھ ہیں . اس وقت غزہ میں بہت نازک صورت حال ہے اور ہماری میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ اس وقت یہ مسئلہ صرف امت مسلمہ کا یا فلسطین کا نہیں بلکہ انسا نیت کا مسئلہ ہے ۔ عالم اسلام اپنی چپ کا روزہ توڑو تا کہ کل کو تمھیں اپنے رب اور نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں