“نئے امکانات ایک مطالعہ

52

تحریر: محمد عمران
بنی نوع انسان روز اوّل سے ہی متجسس جبلت کا حامل ہے۔کیا،کیوں اور کیسے جیسے لفظوں نے اسے ہمیشہ تحقیق و تنقید کی طرف راغب کیا۔اور یوں اس نے ان الفاظ سے تشفی کی اورحیات وکائنات کے بہت سے سربستہ رازوں اور پہلوؤں سے پردہ اٹھایا۔اس کی متجسس جبلت نے ہی حیات و کائنات کے مادی،حیاتیاتی اور سماجی پہلوؤں کے متعلق ایسی معلومات دیں جن کی بدولت آج دنیا ایک ایسی شکل میں موجود ہے جو کہ ایک بحر رواں کی مانند رواں دواں ہے۔تاہم انسانی جبلت اسے کہیں ٹکنے کی بجائے ہمیشہ متحرک رکھتی ہے ۔اسی بناء پر بنی نوع انسان خوب سے خوب تر اور نئی دنیاؤں کی تلاش میں ہمیشہ سرگرداں رہتا ہے اور رہے گا۔اردو ادب میں اگر ہم تحقیق و تنقید کی روایت کا جائزہ لیں تو یہ ایک لمبی روایت چلی آ رہی ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑیوں میں پروفیسر ڈاکٹر شکیل پتافیؔ سرزمین خواجہ غلام فرید ‫﷫ سے تعلق رکھنے والے عصر ِ حاضر کے محقق،نقاد،شاعر،غالب شناس ، ماہر عروض اور کئی زبانوں پر عبور رکھنے والی شخصیت ہیں۔ان کی اب تک گیارہ شعری و نثری تصانیف منظر عام پر آ چکیں ہیں۔ان تصانیف میں انہوں نے کئی اصناف سخن پر تحقیقی و تنقیدی بحثیں لکھیں ہیں۔ان کی جو تصانیف تحقیق و تنقید کے متعلق زیور طبع سے آراستہ ہو چکیں ہیں ان میں ”جنوبی پنجاب میں اردو شاعری“،”نئے امکانات“،”سرائیکی ادبی مقالات“،”پاکستان میں غالب شناسی“،”تہذیبی خدوخال“اور ”اردو ادب اور مغربی رجحانات“قابل ذکر ہیں۔‬‬‬‬

”نئے امکانات“ پہلی بار ۲٠٠۸ء میں اور دوسری بار ۲٠١۷ء میں المجاھد پبلشرز گوجرانولہ سے شائع ہوئی جس کے کل ١۹٠ صفحات ہیں۔اس کا انتساب انہوں نے استاذی ذی فخر پروفیسر ڈاکٹر محمد فخر الحق نوری کے نام لکھا ہے۔اس میں کل تین ابواب ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
01۔باب اوّل:نقوشِ اردو
02۔باب دوم:اوراقِ پارینہ
03۔باب سوم:شخص و عکس

پہلے باب میں پروفیسر ڈاکٹر شکیل پتافیؔ نے نقوش ِ اردو کے حوالے سے چار ضمنی عنوانات پر بحث کی ہے۔ان میں پہلا ضمنی عنوان ”ملتان میں اردو“ ہے۔اس میں ڈاکٹر صاحب نے اردو زبان کے آغاز کو وادئ سندھ (ملتان) سے منسوب کیا ہے۔ان کے مطابق سید سلمان ندوی کا سندھ میں اردو کا نظریہ کچھ ماہرین لسانیات نے صرف اس لیے رد کیا کہ وادئ سندھ کی تہذیب و معاشرت پر عرب فاتحین کے اثرات مرتب تو ہوئے مگر وہ وقتی تھے اس لیے انکی زبان کے اثرات یہاں کی زبان پر گہرے نہ تھے کہ ایک نئی زبان تشکیل پاتی۔دراصل وجہ یہ ہے کہ ان ماہرین لسانیات نےسندھ کو صرف سندھ تک ہی محدود رکھا اگر وہ اس میں ملتان کی سرحد کو بھی شامل کرتے تو یقیناً اس کے مثبت اثرات ہوتے۔چونکہ عرب فاتحین کے یہاں قیام نے ملتان کی تہذیب و معاشرت اور زبان پر گہرے اثرات چھوڑے ۔عربی کے بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو تھوڑے سے فرق یا ہو بہو سرائیکی میں مستعمل ہیں۔اسی طرح سے فارسی کے بھی بہت سے الفاظ اپنی اصل شکل و صورت یا تھوڑی سی تبدیلی کیساتھ ملتانی(سرائیکی) زبان میں استعمال ہو رہے ہیں۔مثال کے طور پر
عربی سرائیکی اردو
خرچ خرچ خرچ
مِخ مِکھ مِکھ
یَصل وَصل وَصل
فارسی خیش کھیس کھیس
زلابی جلیبی جلیبی
شگون شگن شگون

ڈاکٹر صاحب کے مطابق فارسی مصادر اور سرائیکی کے مصادر ایک ہی طرح کے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے اپنی اس لسانی تحقیق سے جو نظریہ اخذ کیا ہے اس کے مطابق ملتان،بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان کی قدیم زبان سرائیکی تھی جسے مختلف ناموں سے پکارا جاتا رہا۔یہی وہ سرائیکی زبان(ملتانی) تھی جس نے عربی اور فارسی کے ساتھ ملکر اردو کو جنم دیا۔اردو اور سرائیکی دونوں زبانوں میں اسماء افعال،حروف علت،ماضی مطلق،فعل،فعل امر،کلمات و حروف،ایجاب و انکار کے کلمات،حروف جار عطف،فجائیہ اور ندائیہ وغیرہ کا استعمال ایک طرح سے ہوتا ہے۔لہذا جس زبان کو ہم آج اردو کے نام سے جانتے ہیں اس کا ہیولیٰ وادئ سندھ وملتان میں تیار ہوا اور اس کا خمیر سرائیکی زبان سے ہی اٹھا۔اس باب کا دوسرا ضمنی عنوان ”اردو املا کی معیار بندی“ سے متعلق ہے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک کسی زبان کے املائی قواعد مقرر نہ ہوں تو اس وقت تک املاء کی الجھنوں سے بچنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔

اردو املاء کی معیار بندی میں بد قسمتی سے آج تک کوئی خاطر خواہ قواعد مقرر نہیں کیے گئے۔اس کے لکھاری خود کو ہر قید سے آزاد تصور کرتے ہیں اور جو جی میں آئے جیسے دل کرے لکھتے جاتے ہیں۔۔کچھ لوگوں نے اس ضمن میں انفرادی سطح پر عہد بہ عہد کام کیا ہے۔جن کی خدمات کو ڈاکٹر صاحب نے مختصراً بیان کیا ہے۔ان میں خان آرزو احمد خان پہلے شخص ہیں جنہوں نے الفاظ کے تلفظ اور املاء کے بارے میں تصریحات لکھیں ہیں۔ان کے بعد انشاء اللہ خان انشاء نے ”دریائے لطافت“ میں املاء بندی کے متعلق لکھا ہے۔تیسرے نمبر پر مولانا احسن مارہروی نے اپنے رسالہ ”فصیح الملک“میں املاء پر زور دیا ہے اور پہلے سے جو اصول و ضوابط موجود تھے ان پر سختی سے عمل پیرا ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ ڈاکٹر عبد اللہ صدیقی،مولوی عبدالحق،ڈاکٹر ابو محمد سحر،پروفیسر مسعود حسن رضوی کے نام قابل ذکر ہیں۔

تیسرا ضمنی عنوان”اردو کا موزوں ترین رسم الخط“ ہے۔رسم الخط کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسم الخط اور زبان میں جسم و جان کا تعلق ہے۔اس بحث میں ڈاکٹر صاحب نے عربی و فارسی کے رسم الخط جیسا کہ خطِ کوفی اور پھر اس سے اخذ شدہ کئی خطوں ،خطِ محقق،خطِ ریحان،خطِ ثلث،خطِ توقیع،خطِ رقاع اور خطِ نسخ وغیرہ پر بحث کی ہے۔پھر ہندوستان کے عربوں اور ایرانیوں کیساتھ تعلقات کی بنا پر خطِ نسخ اور ایرانیوں کے خطِ تعلیق سے جوخط (خطِ نستعلیق ) بنااس پر بحث ہوئی ہے۔اس کی بنا پر یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اردو کا خطِ نسخ اور نستعلیق سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے اس میں دیوناگری رسم الخط،رومن رسم الخط کی بجائے اردو رسم لخط کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔

اس باب کے آخر میں مخطوطہ شناسی کے اصولوں اور ان کی ضرورت و اہمیت کو بیان کیا ہے۔ان کے مطابق کسی بھی مخطوطہ کی شناخت کے لیے چند خارجی اور داخلی شواہد کی ضرورت ہوتی ہے۔خارجی شواہد میں جلد،کاغذ،روشنائی،عہد بہ عہد کی زبان سےواقفیت،رسم الخط،طرز املاء اور تذکروں سے واقفیت کسی بھی مخطوطے کی شناخت کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اسی طرح داخلی شواہد میں متن،تاریخ،خط،ترقیمہ،تزئین،تملیکہ،دستخط اور مہریں اور آخر میں حواشی وغیرہ اہم ہیں۔”نئے امکانات“کا دوسرا باب اوراقِ پارینہ کے نام سے ہے۔اس میں ڈیرہ غازی خان کی قدیم اور تہذیبی روایات کو دوسری تہذیبوں مثلاً ہڑپہ،ٹیکسلا، اور موہن جوداڑو سے مماثلت دی گئی ہے۔جو کہ راجن پور کے علاقے سے پانچ کروڑ سال پہلے کے آثار قدیمہ دریافت ہونے کی بنا پر دی گئی ہے۔یہ خطہ قدیم، منفرد تہذیب اور آب و ہوا کی بدولت مختلف قوموں کا مسکن رہا ہے لیکن اس خطے کی بدقسمتی ہے کہ یہاں پر جتنے بھی حکمران آئے انہوں نے یہاں کے علمی و ادبی سرمائے کی حفاظت کیے بغیر صرف حکمرانی ہی کی۔دسویں صدی ہجری سے پہلے حضرت سخی سرور ﷫ کی آمد کا ذکر ضرور ملتا ہے مگر ان سے کوئی تصنیف منسوب نہیں۔دسویں صدی ہجری میں صوفیا ءاکرام ﷫ کی آمد کا سلسلہ چلتا ہے جس سے یہاں علمی و ادبی سرمائے کی باقاعدہ بنیاد پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ان صوفیا ء اکرام﷫ میں خواجہ نور محمد مہاروی نے ڈیرہ غازی خان اور ان کے قابل قدر رفقاء جن میں عاقل محمد کوریجہ نے کوٹ مٹھن ،خواجہ سلمان تونسوی نے تونسہ اور خواجہ نور محمد نارووال نے حاجی پور میں تعلیمات کا سلسلہ بڑھایا۔ان علمائے اکرام کی خدمات کے اعتراف میں آخری مغل بادشاہ نے اپنی شاعری میں عاقل محمد کے متعلق یوں ذکر کیا ہے۔
صحبتِ پیر مغلاں ہم کو خوش آئی ہے بہت
ہم ہیں عاقل ربط سے دلی رکھتے ہیں

ان کے علاوہ جن صوفیاء اکرام اور شخصیات نے ڈیرہ غازی خان کے علمی سرمائے میں گراں قدر اضافہ کیا ہے ان میں خواجہ غلام فرید ﷫،مرزا محمد اختر،مولوی ابراہیم فریدی،خواجہ محمد بخش نازک،مولانا عبدالعزیز پرہیاوری،قاضی امام بخش امام مرحوم،گل محمد چشتی،پیر بخش پیر،منشی حکم چند،رائے ہتوم رام،مولوی احمد بخش اور سلطان محمد کانجو جیسے لوگ شامل ہیں۔جنہوں نے اپنی تصنیفات کے ذریعے ڈیرہ غازی خان کے علمی سرمائے میں گراں قدر اضافہ کیا۔اس باب میں دوسرا ضمنی عنوان ”سرائیکی زبان کے مآخذ کا خلاصہ“ کے متعلق ہے۔اس میں ڈاکٹر صاحب نے سرائیکی زبان کے مآخذ کے متعلق تحقیقی بحث کی ہے۔انہوں نے سرائیکی زبان کے ماہرین ِ لسانیات کے دو گروہوں کی بحث کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ان میں سے پہلےگروہ نےسرائیکی زبان کا مآخذ سریانی زبان کی ایک شاخ ”اسورکی“ زبان کو کہا ہے۔جبکہ دوسرے گروہ نے پساچی زبان کی ایک قسم ”وارچڈاپ بھرنش“ کو اس کا منبع ٹھہرایا ہے۔ماہرین لسانیات نے ان دونوں مآخذات پر اپنی اپنی دلیلیں بھی پیش کیں ہیں جن کو ڈاکٹر صاحب نے اس میں بیان کیا ہے۔ہاں البتہ ان محققین کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ سرائیکی زبان ملتان (ڈیرہ غازی خان،تونسہ،بہاولپور اور گردونواح) کی قدیم زبان ہے۔ان میں اختلاف صرف مآخذ کا ہے۔

تیسرا اور آخری باب ”شخص و عکس“ کے نام ہے۔اس میں “فارسی ادبیات اور شیخ سعدی”،”خواجہ فرید کی پسندیدہ بحر”،”اقبال اور اسلامی امّہ”،اور “کلام غالب کی تفہیم کا مسٔلہ” جیسے ضمنی عنوانات شامل ہیں۔اس باب میں شیخ سعدی﷫ کی فارسی زبان کے ادبی سرمائے میں بیش بہا اضافے پر بحث کی گئی ہے۔چاہے وہ نظم ہو یا نثر انہوں نے جو کچھ لکھا صاف گو،سادہ،حسن ترتیب،خوبصورت استعاروں اور کنایوں غرض کہ اپنے اسلوب و بیان سے اسکو بلندیوں کی سطح پر پہنچایا۔اس کے بعد خواجہ فرید﷫ کی پسندیدہ بحر،بحر متقارب اور پھر زحافات کی تمام شکلوں کو بیان کیا ہے۔ان کے نزدیک بحر متقارب خواجہ فرید ﷫ کی پسندیدہ بحر ہے چونکہ اس میں انکی کم و بیش (۲٠٠)دو سو سے زائد کافیاں ملتی ہیں۔خواجہ فرید نے اس کے علاوہ بھی دیگر بحروں بحر رجز،بحر متدارک،بحر کامل اور بحر ہزج کو بھی استعمال کیا ہے۔

اس کے بعد “اقبالؔ اور اسلامی امّہ” میں اقبال کے امت مسلمہ کو (جو کہ اس وقت زوال کا شکار تھی) بیدار کرنے پر بحث کی گئی ہے۔اقبال کے اس ضمن میں نظریہ وطنیت،قومیت،وحدت الوجود،خودی اور دیگر کو بیان کیا گیا ہے۔کیونکہ اقبال اسلامی امّہ کے قیام کے سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ غلامی کو سمجھتے تھےاس کو بھی بیان کیا گیا ہے۔بقول اقبالؔ
؎ از غلامی لذت ایمان مجو
گرچہ باشد حافظ قرآن مجو
آخر میں “کلام غالب کی تفہیم کا مسلہ” کے سلسلے میں جو مسائل درپیش ہیں ان پر بحث کی گئی ہے۔ان کے کلام کی تمام شرحوں کو یکجا کرنے کے باوجود بھی ان کے افکار کی معنویت میں اختلاف نظر آتا ہے۔یہاں تک کہ خطوط غالب میں غالب نے اپنے کلام کی جو شرح خود بیان کی ہے اس میں اور ان کے شارحین کی شرح میں فرق موجود ہے۔المختصر یہ کہ کلامِ غالب کی اتنی شرحیں ہونے کے باوجود شایدان کے کلام کو اس زاویہ نگاہ سے نہیں دیکھا جا سکا جس سے سب مطمن ہو جاتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں