پاکستان ، تعلیم اور اکیسویں صدی, جدید تعلیمی رجحانات اور امکانات

140

تبصرہ: محمد تیمور خان
ادبی دنیا میں بطور نقاد ,دانشور ,ماہر تعلیم ناول نگار اور محقق جانے جاتے ہیں آپ گزشتہ چار دہائیوں سے تعلیم کے شعبہ سے وابستہ ہیں وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز نمل یونیورسٹی میں اپنے فرائض سرانجام دے چکے ہیں. زیر نظر کتاب میں آپ نے پاکستان کے تعلیمی نظام اور آنے والے چیلنجز کو زیر بحث لایا ہے. یہ کتاب لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب کو شدت سےا حساس ہوا کہ تعلیم پر بہت کم لکھا گیا ہے اور جو لکھا گیا وہ بہت کم ہے. اس لیے آپ نے یہ کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا. پاکستان کے نظام تعلیم میں مختلف تجربات کیے گئے جو سیاسی جماعتوں اور آمریت نے اپنے مقاصد کے لیے کیے .جس کی وجہ سے ہمارا نظام تعلم آج اکیسویں صدی میں بھی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے. آج دنیا نے تعلیم کے میدان میں نئی نئی تھیوری ایجاد کی ہیں اور ہم آج بھی اسی گھسے پٹھے نطام کی ڈگر پر چل رہے ہیں. ہماری کمزور تعلیمی حکمت عملی ہمارا فرسودہ امتحانی نظام تعلیم اور صنفی مساوات کو زیربحث لایا ہے. آپ نے اس نظام تعلیم کو بہتر کرنے کے لیے مفید مشورے بھی دیے ہیں اس کتاب کو اپ نے دس ابواب میں تقسیم کیا ہے.

پہلے باب میں تعلیم اور جدید مباحث, تعلیم کا جواز. نظریہ تعلیم تعلیم کلچر انڈسٹری اور شخصی آزادی, تعلیم اور ازادی کا اظہار تعلیمی عدم مساوات تعلیم اور معاشی انصاف, تعلیم کے میکانکی عمل سے آگے کو زیر بحث لایا ہے دوسرے باب میں تعلیمی نارسائی, یہ بچے کس کے بچے, تعلیمی حکومت عملی معیار کا مسلہ سرکاری سکول کیا تھے اور کیا ہوگئے, پاکستان اور تعلیمی ترقی کا دشوار ہدف اکیسویں صدی اور ہمارا فرسودہ امتحانی نظام تیسرے باب میں اکیسویں صدی کا چیلنج اور ہمارا تعلیمی نطام اکیسویں صدی کے تعلیمی تقاضے اور ہم کہان کھڑے ہین اکیسویں صدی اور موثر کلاس روم کا تصور اکیسویں صدی اور تربیت اساتذہ کا چیلنج ہمارا کمرہ جماعت اور اکیسویں صدی چوتھے باب میں معاشرہ تعلیم اور تبدیلی انتہا پسندی اور تعلیم کا معاشرتی کردار یکساں نصاب خواب سے تعبیر تک پانچویں باب میں پنجابی زبان اورمعاشرتی رویے تعلیمی اداروں میں ادبیات کی اہمیت, سکول اور سزا روح کے ذخم کون دیکھے گا چھٹے باب میں تعلیم غیر اہم ترجیع تعلیم ہماری ترجیح کب بنے گی؟

بجٹ تعلیم کے لیے پیسے کیون نہیں تعلیمی اصلاحات کیوں ناکام ہوتی ہیں نیشنل اکیڈمی فار ہائیرایجوکیشن نفاذ کا چلینج, تعلیم اور پائیدار ترقی کا تصور تعلیم قومی ترجیحات کی صف بندی, تعلیم کا شعبہ ڈھلون کا سفر جاری ہے ساتویں باب میں زبان تعلیم مسلہ کیا ہے, جب زبان ہمیں تقسیم کرتی ہے زبان ترجمہ اور ترقی زبانیں مر رہی ہیں تعلیم زبان اور غیر سنجیدہ تعلیمی پالیساں آٹھویں ابواب میں سرکاری جامعات بقا کی جنگ تعلیمی اداروں میں فاسٹ فوڈ کا خطرناک رجحان سرکاری یونیورسٹیاں بنیادیں لرز رہی ہیں اکیسویں صدی اور گونگے معاشرے کی تشکیل نویں باب میں معاشرہ استاد اور دانشور تعلیم استاد اور تبدیلی نصاب کا جدید تصور اور استاد دسویں باب میں استاد تعلیم اور تبدیلی تعلیم ورکشاپ کلچر اور تبدیلی کا سراب مائیکل ایپل اور تحریر میں تاثیر کو زیر بحث لایا ہے پاکستان کے تعلیمی نظام پر یہ ایک مستند کتاب ہے جو ایک ماہر تعلیم نے لکھی ہے اس سے پہلے تعلیمی نظام پر جو کتب لکھی گئی ایک تو وہ جن لوگوں نے لکھی ان کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں تھا اس لیے وہ کتب اتنی اہم نہیں ہیں جتنی کہ ڈاکٹر شاہد صدیقی کی کتاب ہے اس کا مطالعہ ہر اس شخص کو کرنا چاہیے جو تعلیم کے شعبہ سے وابستہ ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں