پروفیسر ذولفقار احمد ساحر کی دیباےحیات

49

جاگتی آنکھیں،پروفیسر سردار کامران غلام
پروفیسر ذولفقار احمد ساحر ایک خوش پوش،خوش وسادہ ،ٹھنڈے اور دھیمے مزاج کی شخصیت کے حامل ہیں۔ہمیں یہ شرف حاصل رہا کہ ایک ہی ادارے میں رہے اور ادبی گفتگو کا ایک طویل سلسلہ جاری رہا۔پروفیسر ذولفقار احمد ساحر اور ہماری خوش بختی رہی کہ ہمارے ساتھ پروفیسر وزیر حسین صاحب اور پروفیسر غلام مصطفی صاحب (مرحوم) جیسے ادبی غوطہ زن،ادبی بوندوں اور ادبی شبنمی قطروں کوبکھیر کر ہمارے ادبی ذوق کی تسکین کا کچھ ساماں کرتے تھے۔پروفیسر ذولفقار احمد ساحرجب ہجیرہ سے راولاکوٹ آے تو زلزلہ کی وجہ سے راولاکوٹ کالج کی عمارت نہیں تھی اور کلاسز بھی ڈبہ نما شیڈوں میں ہوتیں رہیں۔کلاسز لینا آسان نہیں تھیں مگر کچھ ایسے لیجنڈز پروفیسرز تھے جن کی وجہ سے مکالمہ،بحث،گپ شپ اور طنز و مزاح سے بھرپور قحقے راولاکوٹ کالج کے گراؤنڈ میں گونجنے لگتے۔ان میں پروفیسر سردار ممتاز،کالج کمیونٹی کے المعروف چوہدری صاحب کی خوش گپیاں،کٹ ماسٹری اور پروفیسر اشرف چوہان صاحب (مرحوم) کی ہنسی اور چوہدری صاحب کی باتوں کے سلسلے کو جاری رکھنے کیلے شرارتوں کا طویل سلسلہ کسی ساتھی کی کٹ کی انتہا پہ رکتا۔وقت کی خوبی بھی یہی ،خامی بھی یہی کہ یہ ایک جگہ رک کے نہیں رہتا۔یہ لوٹ کے بھی نہیں آتا مگر انسانی تخیل بھی کیا کمال ہے،انسانی صلاحیت بھی کیا ہی کمال ہے کہ انسان ماضی کو تخیل سے چرا کر لکھنے کی صلاحیت سے کاغذ پر بکھیرتا ہے اور ہمیشہ کیلے جاویدانی عطا کرتے ہوے،وقت کو شکست فاش دے دیتا ہے۔

پروفیسر ذولفقار احمد ساحر وہ شخصیت ہیں جو اپنا بہت خیال رکھتے ہیں اور وہ ہم سب میں منفرد نظر آتے رہے۔انفرادیت کی اور بہت ساری وجوہات تھیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ راولاکوٹ کی ٹھنڈی دھوپ میں چھتری لیے آپ کو جو بھی واحد شخص نظر آتا،وہ کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا وہ نازک مزاج پروفیسر اور درست معنوں میں پروفیسر ذولفقار احمد ساحر ہی ہوتے۔ واحد شخصیت تھے جو دھوپ میں چھتری لیتے تھے۔پروفیسر سید حسین خاموش (مرحوم) کی اگر انفرادیت رہی کہ وہ برفوں کے ڈھیر میں اور منفی درجہ حرارت میں بھی سویٹر نہیں پہنتے تھے ،پروفیسر ذولفقار صاحب کی انفرادیت یکسر مخالف تھی،وہ گرمیوں اور راولاکوٹ کی ٹھنڈی گرمی اور ٹھنڈی دھوپ میں بھی چھتری رکھنے کی انفرادیت رکھتے تھے۔پروفیسر ذولفقار احمد ساحر ایک شاندار شخصیت کے حامل ہیں،مطالعہ اور کتابوں سے محبت ان کی زندگی ہے ۔گھر میں بھی لایبریری بنا رکھی ہے اور اس کا نام ‘گوشہ عزلت’رکھا ہے۔

ان کی آب بیتی موصول ہوئی،بے حد خوشی ہوئی کہ ایک صاحب مطالعہ جس کی تمام عمر مطالعہ اور تدریسی عمل میں گزری ہے۔ذولفقار صاحب کی محبت اندلس سے بے پناہی رہی۔اقبال اور اندلس سے محبت ان کے ایمان کی پختگی کی طرف اشارہ بھی کرتی ہے اور وہ مسلمانوں کے عروج کے دور میں تخیلاتی طور پر زندہ رہتے ہیں اور اکثر مسلمانوں کے حال سے بیزار رہتے ہیں۔ڈبلیو۔بی۔ییٹز کی طرح جیسے وہ عیسائیت کے عروج کے انتظار پر شاعری کرتے ہوے بازنٹین ایمپائر کی عظمت کا دلدادہ ہے اسی طرح ذولفقار صاحب مسلمانوں کے نثری ڈبلیو۔بی ییٹز معلوم پڑتے ہیں۔ذولفقار صاحب کی کتاب “دیباے حیات” ایک سفر کی کہانی ہی ہے،ایک انفرادی سفر جو والدہ کی گود سے شروع ہوتے ہوے جسمانی، علمی،ثقافتی اور ادبی بالیدگی تک پہنچتا ہے۔ایک عام انسان کا سفر ہے جو نا معلوم منزل کی طرف چلتے چلتے اردو کا شاندار پروفیسر بنا اور کہیں نسلوں تک علم کی مشعال نئی نسلوں کے ہاتھوں میں تھماتے ہوے ریٹاہر ہو گیا۔یہ کتاب تو ہے ذولفقار احمد ساحر کی زندگی کی مگر ہے ہر عام و خاص کیلے،وہ کیسے؟وہ ایسے کہ ہر شخص کیلے آپ بیتی میں زندگی کے راز و نیاز،تلخ تجربات،غلطیاں،خوشگوار یادیں،حسیں لمحات،نفسیاتی رجحانات،حقیقی کرداروں سے ملاقات،سیاسی اتار چڑھاؤ،سماجی رویے غرض ہر طرح کا مواد ڈرامائی انداز میں تو نہیں مگر حقیقی انداز میں پایا جاتا ہے۔

ذولفقار صاحب کی کتاب میرے لیے بہت اہمیت کی حامل اس لیے ہے کہ میں ذولفقار صاحب کے مطالعہ سے باخوبی آگاہ تھا۔جب کتاب ہاتھ لگی تو صحرا کے پیاسے کو پانی کا جیسے ایک قطرہ میسر آیا ہو۔آب کا ایک قطرہ اس لیے کہ ادبی آبشار سے راقم کو امید ہے یہ ایک قطرہ ہی ہے جو ٹپکا ہے ابھی مزید کا انتظار باقی ہے۔صاحب قلم کی زندگی میں برکت ہو اللہ کرے گا کہ مزید قلم کاسفر جاری رہے گا۔گو کہ میری توقعات ذولفقار صاحب سے بہت زیادہ رہی ہیں کہ وہ کتاب جب بھی لکھیں گے شاندار لکھیں گے مگر بحثیت ادبی قاری کے کچھ شکوے بھی ہیں جن کا زکر میں نے پروفیسر ممتاز صادق صاحب سے بھی ایک محفل میں کیا۔ذولفقار صاحب کی زندگی جس طرح سادی رہی،کتاب بھی اتنی ہی سادہ دکھائی دیتی ہے۔میرے نزدیک زندگی بہت پیچیدہ ہے اور نفسیاتی کشمکش اور اظطراب سے بھری ہوئی ہے،اتنی سادہ نہیں جیسے ذولفقار صاحب نے لکھی ہے۔پھر خیال آتا ہے کہ یہ تو لکھنے والے کی خوبی اور برداشت بھی ہو سکتی ہے کہ تمام تلخیوں کو زندگی کی پی بھی گیا،جی بھی گیا اور لکھتے ہوے نظر انداز بھی کر گیا۔کیا خوب شخص ہے ،کمال ضبط ہے اور ہمالائی حوصلہ ہے جس کے آگے پریشانیاں،ذہنی اضطراب اور نفسیاتی کشمکش چونٹیوں کی طرح پست۔

صفحہ نمبر 36پہ لکھتے ہیں” معیادی بخار نے آلیا۔باہیس روز نیم بے ہوشی کا عالم رہا”مزید لکھتے ہیں کہ ان کی زندگی سے سب مایوس ہو چکے تھے۔اپنی نفسیاتی کیفیت نہیں لکھی ماسوائے ایک موقع پر کہ وہ والدہ کو روتا دیکھ کر سہم گئے ۔میرا ماننا یہ ہے کہ کرداروں اور خاص طور پر اپنا نفسیاتی تجزیہ آپ بیتی ہو یا کہ تخیلاتی ادب ضرور ہونا چاہیے۔خیر سے ہر وہ پہلو جو زندگی میں گزرے اس طرح بیان ہونا چاہیے جیسے واقع ہوے اگر ممکن نہیں تو اشاروں اور کنعاووں میں بیان کر لیے جاہیں۔یہ میرا ماننا ہے مگر ضروری نہیں ہر ادیب ایسا ہی کرے۔دیباے حیات پہلی آپ بیتی نہیں جو ہمارے خطہ میں لکھی گئ اس سے پہلے بھی خان اشرف مرحوم (سابق منسٹر آزادحکومت)،رفیق محمود صاحب مرحوم (سابق چیرمین احتساب) کی “مت لکھو” سابق وزیراعظم اور صدر حاجی یعقوب صاحب کی”یعقوب سے یاقوت تک”اور اسی طرح اور بھی لکھی گئی ہیں۔
آپ بیتی ہوتی فرد واحد کی ہے مگر اس میں بکھرے ہوے بے شمار کردار ہیں جو ہر کسی کی زندگی میں پاے جاتے ہیں۔ان کرداروں کے بے شمار رولز ہوتے ہیں اور یہ سب آفاقی ہوتا ہیں جس کی اہمیت ہر خطہ میں بسنے والوں کیلے ایک سی ہوتی ہیں۔مخصوص جغرافیہ،حالات،ثقافت اور زبان کے باوجود یہ ہر فرد کی فطرت کے قریب ہوتی ہے جو اسے آفاقی بنا دیتی ہے۔ذولفقار صاحب کی آپ بیتی ایک پروفیسر کی آپ بیتی کے ساتھ ساتھ ایک شفیق باپ اور شانداراور کامیاب شوہر کی بھی ہے جس میں ہم کم عقل لوگوں کیلے نشانیاں موجود ہیں۔آپ بیتی ہمارے لیے کیوں اہمیت رکھتی ہے اس کے بارے میں ہنری فیلڈینگ اپنے شہرہ آفاق ناول جوزف اینڈریو زکے پریفیس میں یوں لکھتا ہے
“It is a trite but true observation, that examples work more forcibly on the mind than precepts:and if this be just in what is odious and blamable,it is more strongly so in what is amiable and praiseworthy.
Here emulation most effectually operates upon us, and inspires ourImitation in an irresistible manner. A good man therefore is a standinglesson to all hisacquaintances, and of far greater use in that narrowCircle than a good book.

But as it often happens that the best men are but little known, andconsequently cannot extend the usefulness of their examples a great way;The writer may be called in aid to spread their history farther, and toPresent the amiable pictures to those who have not the happiness ofKnowing the originals; and so, by communicating such valuable patternsto the world, he may perhaps do a more extensive service to mankind than.The person whose life originally afforded the pattern.”
ایک اچھے آدمی کی زندگی اگر کتابی شکل میں موجود ہے اور وہ انسان ایک معلم،اہل دانش اور اہل کمال ہو تو ہر فرد کی زندگیوں میں ایسی کتاب روشنیاں بکھیرے گی۔پروفیسر ذولفقار احمد ساحر کی یہ آپ بیتی ہر فرد کیلے دلچسپیوں سے بھر پور بھی ہے اور مثالی زندگی کا تجربہ بھی ہے۔اس کھیتا میں رومانی کہانیا ں تو نہیں مگر حقیقتوں کی سنگلاخ چٹانیں موجود ہیں جن سے ہر سانس لینے والا گزرتا ہے۔اس کتاب کو پڑھنے کے بعد آپ ادب سے،ادیب سے اور اقبالیات سے محبت کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔اس کتاب کے اندر صاحب مطالعہ کی زندگی کا نچوڑ ہے جس سے ہر قاری کی معلومات اور تجربات میں اضافی ہوتا ہے۔یہ کتاب کتابوں سے محبت کرنے والے کا ایک اور رومانس ہو سکتا ہے شرط صاحب نظر،صاحب مطالعہ اور صاحب عشاق ہونا ہے۔کیونکہ،پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا چگر،مرد ناداں پہ ہے کلام نرم و نازک بے اثر۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں