آزاد کشمیر کے معروف تجزیہ نگار، سیاسی و سماجی راہنما ڈاکٹر راجہ زاہد خان نے آزاد کشمیر میں جاری انتخابی عمل کے تناظر میں ووٹر لسٹوں میں سنگین بے ضابطگیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے بالخصوص وسطی باغ اور کفل گڑھ میں سامنے آنے والی صورتحال کو ایک منظم سازش قرار دیتے ہوئے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈاکٹر راجہ زاہد خان نے کہا کہ محکمہ مال کی ٹیموں نے ہر وارڈ کا باقاعدہ سروے مکمل کرتے ہوئے نئے ووٹرز کا اندراج کیا اور نظرثانی شدہ ووٹر لسٹ الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام کو جمع کروائی، تاہم انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ وہ فہرست بوجوہ غائب کر دی گئی۔ مزید برآں، ایک منظم اور ٹیکنیکل طریقے سے پرانے ووٹرز کو کفل گڑھ اور دیگر علاقوں سے خارج کر کے پراسرار طور پر منتقل کر دیا گیا، جو کہ انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے فوری طور پر ایک بااختیار فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی جائے، جس میں تمام مکاتب فکر کے نمائندوں، مقامی سٹیک ہولڈرز اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کو شامل کیا جائے تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔ڈاکٹر راجہ زاہد خان نے کہا کہ اس مبینہ سازش کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جو کسی بھی وقت اشتعال میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو عوام احتجاج پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔انہوں نے الیکشن کمیشن آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کہ ووٹر لسٹوں کی درستگی کے لیے دی گئی مدت میں فوری توسیع کی جائے اور یہ عمل اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک مکمل شفافیت اور درستگی یقینی نہ ہو جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کفل گڑھ باغ ان کا ہوم اسٹیشن ہے جبکہ وسطی باغ ان کا انتخابی حلقہ ہے، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ڈاکٹر راجہ زاہد خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عوام کے ووٹ کے تحفظ اور شفاف انتخابی عمل کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔