تحریر: محمد بشارت مغل
: امیدوار کا کردار، خونی رشتوں کی قدر، اور باشعور ووٹر کی تہذیب*
(تحریر محمد بشارت مغل مظفرآباد آزاد کشمیر)
* جب تک سیاسی تربیت نہ ہو گی، وادی ترقی نہ کرے گی*
یہ الیکشن نہیں، ہم سب کا امتحان ہے*
الیکشن کا موسم آ گیا ہے۔ دیواروں پر پوسٹر، گلیوں میں نعرے، اور گھروں میں بحثیں۔
مگر رکیے۔ یہ صرف کرسی کا مقابلہ نہیں۔ یہ کردار کا مقابلہ ہے۔ امیدوار کا بھی، ووٹر کا بھی، اور اس معاشرے کا بھی جس نے دونوں کو پیدا کیا۔
یہ مضمون کسی جماعت کے خلاف نہیں۔ یہ دہائیوں کے اجتماعی زخم کا پوسٹ مارٹم ہے۔ یہ آئینہ ہے۔ اگر چہرے پر داغ نظر آئے تو آئینہ نہ توڑیے گا، چہرہ دھو لیجیے گا۔
1. دہائیوں کی تلخ حقیقت: ترقی کیوں نہ ہو سکی؟*
دنیا مصنوعی ذہانت تک پہنچ گئی، ہماری وادی کے ہزاروں نوجوان آج بھی ایک کلرک کی نوکری کے لیے درخواستیں لیے پھر رہے ہیں۔ کیوں؟کیونکہ دہائیوں سے ہماری سیاست کی بنیاد “نوکر پیدا کرنا” رہی، “خالق پیدا کرنا” نہیں۔
سیاستدانوں کی 3 تاریخی غلطیاں:
غلط پالیسی نتیجہ
*1. معیشت = سرکاری نوکری* نجی شعبہ مر گیا۔ صنعت نہ لگی۔ سیاحت کا جنت نظیر خطہ، مہمان خانوں کو ترس گیا۔ آئی ٹی زیرو۔
*2. سیاسی تربیت کا فقدان* امیدوار کو جلسہ کرنا سکھایا گیا، ادارہ چلانا نہیں۔ اسے تقریر رٹوائی گئی، بجٹ پڑھنا نہیں سکھایا۔ نتیجہ: اسمبلی تقریروں سے بھری، قانون سازی سے خالی۔
*3. احتساب کا کلچر نہ ہونا* “5 سال بعد حساب دو” کا رواج ہی نہ ڈالا۔ جواب دہی نہیں تو کارکردگی کہاں سے آئے؟
یہ کسی ایک پارٹی کا جرم نہیں۔ یہ دہائیوں پر محیط سیاسی کلچر کی اجتماعی ناکامی ہے۔ جب تک ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے، علاج شروع نہیں ہو گا۔
2. امیدوار اور خونی رشتے: کیا کرسی خون سے مقدس ہے؟
الیکشن کا سب سے بڑا نقصان کیا ہے؟ سڑک نہ بننا؟ نہیں۔
سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم 60 دن میں وہ رشتے توڑ دیتے ہیں جو 60 سال میں بنے تھے۔
ایک ہی گھر کے دو بھائی دو جھنڈوں میں بٹ جاتے ہیں۔ باپ بیٹے سے ناراض، چچا بھتیجے سے قطع تعلق۔ کیوں؟ کیونکہ امیدوار نے کہا “جو میرے ساتھ نہیں، وہ میرا دشمن ہے”۔
رکیے اور سوچیے:
1. وہ امیدوار جو آج آپ کو آپ کے سگے بھائی سے لڑوا رہا ہے، کل اقتدار میں آ کر آپ کے گاؤں کو کیسے جوڑے گا؟
2. کرسی 5 سال کی ہے۔ بھائی کا جنازہ بھی آپ نے اٹھانا ہے، اور وہ آپ کا۔
3. ووٹ رائے کا اختلاف ہے، خون کے رشتے کا اختتام نہیں۔
اصول یاد رکھیں: امیدوار بدلیں گے، پارٹیاں بدلیں گی، مگر ماں کی گود، باپ کی دستار اور بھائی کا سایہ نہیں بدلے گا۔ ووٹ ڈالیے، مگر رشتے بچا کر
3. سیاسی تربیت کا فقدان: لیڈر کیسے پیدا ہوں گے؟
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارا امیدوار “الیکٹیبل” ہوتا ہے، “کیپ ایبل” نہیں ہوتا۔
یعنی اسے الیکشن لڑنا آتا ہے، حکومت چلانا نہیں آتا۔
تربیت یافتہ امیدوار کی 3 نشانیاں:
1. معاشی وژن: وہ صرف “نوکری دوں گا” نہیں کہتا، وہ بتاتا ہے “آئی ٹی پارک کیسے بنے گا، سیاحت سے 1 لاکھ نوکری کیسے نکلے گی”۔
2. ادارہ جاتی سمجھ: اسے معلوم ہے کہ سیکرٹری اور کلرک میں فرق کیا ہے۔ وہ DC کو حکم دے سکتا ہے، اور اسکول ماسٹر کا احترام بھی کر سکتا ہے۔
3. زبان کی تمیز: وہ مخالف کو گالی نہیں دیتا، دلیل سے رد کرتا ہے۔ کیونکہ اسے پتہ ہے کل اسی مخالف کے ووٹرز نے بھی اسی شہر میں رہنا ہے۔
جب تک ہماری جماعتیں “ورکر” کی جگہ “ٹرینڈ پالیسی میکر” پیدا نہیں کریں گی، ہم دہائیوں تک نعرے ہی لگاتے رہیں گے۔
4. والدین بھی قصوروار: باشعور ووٹر آسمان سے نہیں اترتا
ہم ہر 5 سال بعد امیدوار کو گالی دے کر فارغ ہو جاتے ہیں۔ کبھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔
والدین سے 3 تلخ سوال:
1. آپ نے بیٹے کو انجینئر بنایا، شہری بنایا؟ اسے حقوق یاد کروائے، فرائض کون یاد کروائے گا؟
2. آپ نے کہا “ووٹ برادری کو دینا”، یہ کیوں نہ سکھایا کہ “ووٹ ضمیر کو دینا”؟
3. آپ نے اسے بتایا “فلاں لیڈر اپنا ہے”، یہ کیوں نہ بتایا کہ “ریاست سب کی سانجھی ہے”؟
بچہ پہلا سبق گھر سے لیتا ہے۔ اگر گھر میں ہی اسے سکھایا جائے کہ سیاست گالی، نفرت اور برادری کا نام ہے، تو وہ کل باشعور ووٹر نہیں، جذباتی ہجوم بنے گا۔ اور ہجوم ہمیشہ استعمال ہوتا ہے، فیصلہ نہیں کرتا۔
آج سے اپنے بچوں کو سکھائیں: “بیٹا، اختلاف رائے کرو، اختلافِ رشتہ نہیں۔ ووٹ امانت ہے، اس میں خیانت نہ کرنا۔ اور لیڈر وہ نہیں جو تمہیں لڑائے، لیڈر وہ ہے جو تمہیں جوڑے۔”
5. باشعور ووٹر: تہذیب اور تمیز کی 5 نشانیاں
الیکشن تہذیب کا تہوار ہے، جنگ کا میدان نہیں۔ باشعور ووٹر گالی سے نہیں، دلیل سے فیصلہ کرتا ہے۔
باشعور ووٹر جذباتی ووٹر
*1. سوال کرتا ہے:* “منشور میں صحت کا بجٹ کتنا ہے؟” *1. نعرہ لگاتا ہے:* “آئے گا آئے گا”
*2. رشتے بچاتا ہے:* مخالف پارٹی والے کزن کو عید پر گلے لگاتا ہے *2. رشتے توڑتا ہے:* “تم نے مخالف کو ووٹ دیا، آج سے بائیکاٹ”
*3. کردار دیکھتا ہے:* “5 سال کہاں تھے؟” *3. چہرہ دیکھتا ہے:* “شکل اچھی ہے”
*4. تحریری وعدہ لیتا ہے:* “اسٹامپ پیپر پر لکھ کر دو” *4. زبانی جمع خرچ:* “وعدہ کر لیا، بس کافی ہے”
*5. 5 سال نگرانی کرتا ہے:* ہر سال کارکردگی رپورٹ مانگتا ہے *5. 5 سال سوتا ہے:* “اگلے الیکشن پر دیکھیں گے”
یاد رکھیں: آپ کی تہذیب آپ کے ووٹ سے زیادہ قیمتی ہے۔ کیونکہ لیڈر 5 سال بعد چلا جائے گا، *آپ نے اسی محلے میں، انہی لوگوں میں رہنا ہے۔*6. ووٹ: مقدس امانت کا درست استعمال
آپ کا ووٹ آپ کے بچے کی نوکری، آپ کی ماں کے علاج اور آپ کی بہن کے اسکول کا فیصلہ ہے۔ اسے ضائع مت کریں۔
مہر لگانے سے پہلے یہ 4 کام لازمی کریں:
1. امیدوار کا پچھلا ریکارڈ: کیا وہ 5 سال حلقے میں نظر آیا؟ یا صرف الیکشن پر اترا؟
2. معاشی پلان: اس سے پوچھیں “نوجوان کے لیے نوکری نہیں، کاروبار کے مواقع کیسے پیدا کریں گے؟” صرف سرکاری نوکری کا وعدہ کرنے والا پرانی فلم دکھا رہا ہے۔
3. زبان کا معیار: جو امیدوار اسٹیج پر گالی دے، وہ اسمبلی میں آپ کی عزت کیا کرے گا؟
4. امن کا ضامن: کیا اس کی مہم بھائی چارے کی بات کرتی ہے یا نفرت کی؟
مہر لگانے کے بعد یہ 4 کام لازمی کریں:
1. رشتے جوڑیں: شام کو مخالف پارٹی والے ہمسائے کے گھر چائے پینے جائیں۔
2. حساب لیں: منتخب نمائندے سے ہر 6 ماہ کھلی کچہری کا مطالبہ کریں۔
3. اولاد کو سکھائیں: سیاست عبادت ہے، اسے نفرت نہ بنائیں۔
4. صبر کریں: ترقی 5 دن میں نہیں آتی۔ اچھے فیصلے کو وقت دیں، برے فیصلے پر آئینی احتجاج کریں۔
وادی کو ووٹ نہیں، شعور بچائے گا*
ہم نے ہر الیکشن پر “مسیحا” ڈھونڈا، اور ہر 5 سال بعد مایوس ہوئے۔ کیوں؟ کیونکہ مسیحا آسمان سے نہیں اترتا، باشعور قوم خود پیدا کرتی ہے۔
1. جب تک ہم برادری سے اوپر اٹھ کر قابلیت کو ووٹ نہیں دیں گے۔
2. جب تک ہم گالی کی سیاست کو دفن کر کے دلیل کی سیاست نہیں لائیں گے۔
3. جب تک ہم امیدوار سے پہلے اپنے بچے کی تربیت نہیں کریں گے۔
اس وقت تک کوئی نیا اسلام آباد، کوئی نیا مظفرآباد، ہماری تقدیر نہیں بدل سکتا۔
یہ الیکشن امیدوار کے کردار کا امتحان ہے۔
یہ الیکشن آپ کے ضمیر کا امتحان ہے۔
اور یہ الیکشن ہم سب کی تہذیب کا امتحان ہے۔
ووٹ دیجیے، مگر نفرت نہ بانٹیے۔
اختلاف کیجیے، مگر رشتے بچا کر۔
لیڈر چنیے، مگر تمیز سے۔
کیونکہ کرسیاں عارضی ہیں، کشمیر دائمی ہے۔
اور کشمیر ہم سب کا ہے۔
امن، بھائی چارہ، تہذیب — زندہ باد۔