آزادکشمیر کے حکمران طبقہ اس علاقے کی حساسیت کا ادراک کرے اور ریاست کے معاملات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے .رہنماء جماعت اسلامی

111

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)جماعت اسلامی حلقہ غربی باغ کے رہنما راجہ عاشق خان نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ آزادکشمیر کے حکمران طبقہ اس علاقے کی حساسیت کا ادراک کرے اور ریاست کے معاملات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ۔جب تک چہروں کی تبدیلی کا سیاسی کھیل بند نہیں ہوتا اس وقت تک اس خطے میں خوشحالی ممکن نہیں ۔موجودہ حکومت اقرباء پروری سیاسی ایڈجسٹمنٹ اور استقبالیوں سے نکل کر ریاست کے معاملات کو حل کریں عوام سے کیے وعدوں کو پورا کریں لوگوں کو سڑکوں پر آنے کے لیے مجبور نا کیا جاے ریاست کسی بھی انتشار اور ہیجانی صورتحال کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔موجودہ حکومت اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوے جلد چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کرے اور ریاست میں آزادانہ منصفانہ انتخابات کا انعقاد یقیبی بناے. جماعت اسلامی پر اعتماد کیا جاے مایوس نہیں کریں گے ۔

جب تک ریاست میں آئین وقانون کی عملداری نہیں ہوتی نظام میں اصلاحات نہیں لائی جاٹی اس وقت تک یہاں خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ اس خطے کی محرومیوں کو دور کرکے مظفرآباد کو حقیقی معنوں میں تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ بنانا ناگزیر ہوچکا ہے ۔قوم ان حکمرانوں کا محاسبہ کرے ان سب نے 78 سالوں میں ریاست کو محرومیوں کے سوا کچھ نہیں دیا جس کی زندہ مثال حلقہ غربی باغ جہاں چار دھائیوں تک اقتدار رہا لیکن اس حلقہ کی محرومیوں دور نا ہوسکی اور اج بھی یہ حلقہ ریاست کا سب سے ہسماندہ حلقہ شمار ہوتا ہے ۔اس وقت انفراسٹرکچر صحت تعلیم ریاست کی جدید سہولیات کمیونیکشن تک کا نظام درہم بریم اور حکمران عوام کو مذکرات معاہدے کرکے وقت گزارنے کی پالیسیوں میں لگے جو کہ احمقانہ حرکت ہے ۔راجہ عاشق خان کامزید کہنا تھا کہ جموں وکشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تسلیم شدہ مطالبات پر عملی اقدامات کو یقینی بنایا جاے تاخیری حربے ریاست کی عوام کومشکلات میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔

وفاقی حکومت اور اس کی مذاکراتی ٹیم بھی خطے کی حساسیت کا ادراک رکھیں پاکستان اور کشمیریوں کا رشتہ مضبوط ہے اگر وہاں کو دراڑیں پیدا ہورہی ہیں تو کہ ناعاقبت اندیشن حکمرانوں کی وجہ سے خواہ وہ اسلام آباد میں بیٹھے ہیں یا مظفرآباد میں اس وقت ریاست بھر کے ہسپتالوں ڈاکٹرز صرف اسلام آباد راولپنڈی ریفر کرنے کے لیے بیٹھے جو کہ لمحہ فکریہ ۔حکمران اپنے اقتدار کی رسہ کشی سے باہر نکلیں اور عوام کےمسائل حل کریں یا گھر چلے جائیں ۔چوتھا وزیراعظم اچکا لیکن عوام کی مایوسیوں ما مدوا کوئی نہیں کرسکا ۔وہی کابینہ وہی اسمبلی ممبران ووٹر بس وزیراعظم کے تبادلے سے مسائل حل نہیں ہوتے ۔آزادکشمیر میں جمہوریت کے نام ہر جو کھیل کھیلا جارہا ہے اس کی مثال کہیں نہیں ملتی ۔وہی شخص قائد ایوان کا تجویز کنندہ ہے جو کہ بعد میں اپوزیشن لیڈر بن کر اپنے ساتھیوں کو اپوزیشن میں بیٹھا کر جمہوریت کی مثال قرار دیتے ہیں قائد حزب اختلاف خود اپنےمنتخب کردہ وزیراعظم اور حکومت کیخلاف بیانات دے کر عوام کی آنکھون میں دھول جونک رہے ہیں ۔یہ لوگ اپنی اسائشوں عیاشیوں میں مصروف ہیں اور عوام سڑکوں میں اپنے حقوق کے لیے خوار ہورہے ہیں ۔۔جماعت اسلامی کے پاس ایک جامع منشور اور پالیسی موجود ہے جو ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتی ہے قوم اعتماد کرے مایوس نہیں کریں گے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں