بلال ہسپتال راولاکوٹ کے سرجن کی مبینہ غفلت غریب محنت کش کی جان لے گئی
ہاڑی گہل(عمر ریاض ،سٹیٹ ویوز) بلال ہسپتال راولاکوٹ کے سرجن کی مبینہ غفلت نے غریب محنت کش کی جان لے لی، مرحوم محمد ظریف کی معصوم بچیوں اور بھائی کی ارباب اختیار سے داد رسی کی اپیل.
مذکورہ ڈاکٹر کے خلاف عوام علاقہ اور ورثاء میں شدید غم و غصہ احتجاج کی دھمکی۔ تفصیلات کے مطابق محمد ظریف کی بچیوں اور بھائی نے پریس کلب ہاڑی گہل کے صحافیوں سے گفتگو اکرتے ہوئے بتایا کہ محمد ظریف کو پتھری کے معمولی سے اپریشن کے لئے سی ایم ایچ راولاکوٹ لے جایا گیا جہاں انہیں ڈاکٹر احسان نے چیک اپ کے بعد سی ایم ایچ میں اپریشن کے لئے دو ماہ کا وقت دیا.
جبکہ اپنے ہی پرائیویٹ ہسپتال میں 2دن میں اپریشن کے لئے کہا جس کی فیس مبلغ 80ہزار روپے ڈیمانڈ کی گئی. یوں دو دن بعد یعنی 8.1.2026کو محمد ظریف خود چل کر بلال ہسپتال گیا. جہاں ڈاکٹر احسان نے 2mmپتھری کا اپریشن کر دیامحمد ظریف کسی اور بیماری میں مبتلا نہیں تھا. آپریشن سے ان کا درد بڑھتا گیا .محمد ظریف کے بھائی کے بقول انہوں نے ڈاکٹر احسان کو بتایا کہ اس کا گلوکوز اور فالتو خون ٹیوب میں پاس نہیں ہو رہا.
تاہم ڈاکٹر نے بغیر دیکھے اسے روٹین کا مسئلہ قرار دیا دوسرے دن صبح دس بجے ڈاکٹر احسان نے خود ایمبولینس منگا کر مریض کو سی ایم ایچ شفٹ کر دیا ڈاکٹر احسان جو سرکاری ملازم بھی ہے اور سی ایم ایچ میں اپنی ڈیوٹی کرتا ہے سی ایم ایچ پہنچے پر ڈاکٹر احسان تسلیاں دیتا رہا کہ کوئی بڑا ایشو نہیں ہے سی ایم ایچ میں موجود لیبارٹری ملازم نے بتایا کہ گندا خون پاس نہ ہونے کی وجہ سے مریض کے گردے مکمل ناکارہ ہو چکے ہیں اور محض 10سے 15فیصد کام کر رہے ہیں.
سی ایم ایچ میں اپریشن کرکے پیٹ سے پہلے پیشاب نکالا گیا پھر ناک کے ذریعے انڈوسکوپی سے کی گئی اور پھر ایک مرتبہ پھر سے پیٹ کا اپریشن کیا گیا اس دوران مخیر حضرات سول سوسائٹی کے تعاون سے 16سے 17بوتل تازہ خون بھی لگایا گیا کئی دن کی مسلسل کوشش کے باوجود محمد ظریف جانبر نہ ہو سکا یوں ایک چلتے پھرتے محنت کش کو موت کی وادی میں دھکیل دیا گیا جس کی تمام تر ذمہ ڈاکٹر احسان کے اوپر عائد ہوتی ہے.
مرحوم کی بچیوں اور بھائی نے وزیر اعظم آزادکشمیر، چیف سیکرٹری آزادکشمیر اور وزیر صحت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈاکٹر احسان کے خلاف فی الفور ایکشن لیتے ہوئے اسے نوکری سے فارغ کریں اور انکوائری کے بعد اسے قرار واقعی سزا دیا جائے انہوں نے کہا کہ محمد ظریف تو واپس دنیا میں نہیں آسکتا مگر بلال ہسپتال میں موجود ڈاکٹر احسان مزید زندگیوں کا چراغ گل کرے گا.
اس لئے اس کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کیا جائے جس کی غفلت سے ایک غریب انسان کی جان گئی محمد ظریف کے دیگر ورثاء اور عوام علاقہ نے اس پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے کہا کہ اگر انکوائری کمیشن تشکیل دے کر مذکورہ ڈاکٹر کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا تو ہم بھرپور احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے مرحوم کے پسماندگان میں ایک بیوی 2بچے اور 2بچیاں شامل ہیں بچیوں کی عمریں بالترتیب 19،16،14اور 12سال ہے مرحوم کوسٹر ڈرائیور تھا اور بڑی مشکل سے بچوں کا پیٹ پالتا تھا.