بھارتی حکومت اپنی عدالتوں کو کشمیری قیادت کے خلاف گھناؤنا ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ ڈاکٹر محمد طاہر تبسم

65

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)انسانی حقوق اور ہم آہنگی کی سرگرم تنظیم انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انسپاڈ کے صدر ڈاکٹر محمد طاہر تبسم نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت اپنی عدالتوں کو کشمیری قیادت کے خلاف گھناؤنا ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔بھارتی عدالتیں کشمیرکی موثر آوازوں کو دبانے کے لئے غیر انسانی، غیر قانونی اور انتقامی ہتھکنڈے آزما رہی ہے۔

ایک بیان میں ڈاکٹر طاہر تبسم نے کہا ہے کہ کشمیری قاہدین کے خلاف قاہم تمام مقدمات جعلی جھوٹے اور سیاسی انتقام کے لئے فرضی بناہے گے ہیں یسین ملک شبیر احمد شاہ، فاروق احمد ڈار، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، مسرت عالم، ظفر اکبر بٹ اور دیگر تمام لیڈروں کو بے جا جیلوں میں حبس بے جا میں رکھ کر انہیں علاج معالجہ کی سہولتوں سے دور رکھا گیا ہے ان سب کو ناقص مضرصحت خوراک دے کرنقصان پہنچایا جارہا ہے جو بھارتی قوانین اور عالمی چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیری لیڈر شپ کی جان بچانے کے لئے فوری کردار ادا کریں .انہوں نے حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ کشمیری لیڈرشپ کی بے جا سزاؤں کے خلاف فوری سفارتی و سیاسی کوششیں کرنی چاہئے۔ یاسین ملک آزادی پسندوں کے خلاف بھارتی مظالم اور انتقام کا نشانہ ہیں۔

دخترانِ ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کی سزا خواتین کو جبر سے دبانے کے حربے ہیں جو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے،انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمییر میں مساجد، اقلیتی عبادت گاہوں میں مداخلت اور ذاتی جائیدادوں پر قبضہ کرنا مذہبی اور ذاتی آزادی میں سراسر مداخلت ہے.1989 سے اب تک 96,481 بے گناہ کشمیری شہید کئے گے ہیں.

جن میں 7,409 افراد کو حراستی اور جعلی مقابلوں میں شھید کیا گیا ہے جبکہ 180,018 شہری گرفتار کیے گئے، 110,562 مکانات اور عمارتیں مسمار کی گئی۔ 22,991 خواتین بیوہ اور 108,007 بچے یتیم ہو چکے ہیں، جبکہ 11,269 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہندو توا کی پالیسی پر گامزن بی جے پی کی بھارتی حکومت انسانیت بھول کر پاگل ہو چکی ہے اور انتقام و دشمنی پر اتر آئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں