اسلام آباد(رپورٹ:سید خالد گردیزی/سٹیٹ ویوز/6 جون 2023) آزاد جموں و کشمیر میں نافذ عبوری آئین 1974 میں 15 ویں ترمیم کے باعث اتحادی حکومت میں شامل ممبران اسمبلی اور عوام کی بے چینی میں اضافہ ہو گیا۔مسلم لیگ کے دور حکومت میں وزراء کی تعداد پر لگی آئینی قدغن ختم کرنے بارے مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی “نہ”اور “ہاں”کی اندرونی کہانی بھی سامنے آگئی۔
عبوری آئین میں 15 ترمیم کا پس منظر کیا ہے؟
آزادکشمیر میں قائم مسلم لیگ کی حکومت نے 30 جون 2018 کو عبوری آئین 1974 میں 13 ویں آئینی ترمیم کی جس کے آرٹیکل 14 کے سب آرٹیکل 1 کے تحت وزراء کی تعداد ایوان کا 30 فیصد مقرر کر دی گئی تھی۔اس قدغن کے مطابق وزیر اعظم 4 مشیران اور معاونین خصوصی سمیت 16 وزراء پر مشتمل کابینہ تشکیل دے سکتے تھے تاہم مسلم لیگی حکومت نے کمال ہوشیاری سے اپنی کابینہ کے اراکین کی تعداد 26 تک بڑھائے رکھی اور اس آرٹیکل کے اطلاق کا بوجھ 2021 میں بننے والی حکومت پر ڈال دیا تھا جبکہ عبوری آئین میں ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت بھی لازمی قرار دی تھی۔
وزراء کی تعداد پر پابندی کی وجہ
13 ویں آئینی ترمیم میں وزراء کی تعداد پر قدغن کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ تقریباً 4 ہزار مربع میل علاقے اور مبینہ طور پر 30 لاکھ آبادی پر مشتمل خطے میں قائم ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت کو کابینہ کے غیر ضروری حجم۔بے ہنگم مشینری۔عوام کی بد حالی اور اخراجات کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔مسلم لیگی حکومت نے یہ ترمیم کر کے سیاسی طور پر داد بھی سیمٹی اور اس کے اطلاق کا بوجھ بھی نہ اٹھایا۔
دو سالوں کے اندر دو وزراء اعظم کیسے تبدیل ہوئے؟
2021 کے عام انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو پہلے پہل سابق وزیر اعظم سردار عبدالقیوم خان نیازی اور بعد ازاں سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان کی حکومتوں کو 16 وزراء پر مشتمل کابینہ کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ تحریک انصاف کے 3 دھڑوں پر مشتمل 32 ممبران اسمبلی میں سے ہر ایک کی خواہش تھی کہ اسے وزارت دی جائے۔وزیر بن جانے والے ممبران اسمبلی خوش جبکہ باقی رہ جانے والے ممبران اسمبلی اپنی ہی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لئے 19 اپوزیشن ممبران کے ساتھ ساز باز میں مصروف ہو جاتے تھے۔دونوں وزراء اعظم کو گڈ گورننس اور استحکام کے لئے بجٹ میں مختص رقم سے بڑھ کر اخراجات کرنا پڑے مگر دونوں کو ہی دو سال کے اندر وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے۔دونوں وزراء اعظم وزراء کی تعداد پر لگی قدغن ختم کرنا چاہتے تھے تاکہ اپنے ممبران کو ایڈجسٹ کر سکیں لیکن دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے عبوری آئین میں ترمیم نہ کر سکے۔ سابق وزیر اعظم عبد القیوم خان نیازی کو اپنے ہی پارٹی ممبران کی جانب سے عدم اعتماد کا سامنا کرتے ہوئے مستعفی ہونا پڑا جبکہ سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان کو شدید مشکل حالات میں ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے ہٹا دیا گیا۔
تیسرے وزیراعظم کے ساتھ کیا ہوا؟
تقربباً دو سالوں کے اندر 2 وزراء اعظم تبدیل ہونے کے نتیجے میں 20 اپریل 2023 کو منتخب ہونے والے تیسرے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق سیاسی حالات کے پیش نظر فاروڈ بلاک بنا کر اپوزیشن کی مدد سے 52 میں سے 48 ووٹ لیکر وزیر اعظم منتخب تو ہو گئے لیکن تقربباً ڈیڈھ ماہ کابینہ تشکیل دینے حتیٰ کہ اپوزیشن سے وعدے کے مطابق پیپلز پارٹی کا سپیکر منتخب کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے کیونکہ ایک جانب انہیں وزراء کی تعداد پر قدغن کا سامنا تھا اور دوسری جانب انہیں متوازن حکومت کے قیام کے لئے وزراء کی تعداد پر لگی قدغن ختم کرنے کیلئے دو تہائی اکثریت چاہیے تھی جو اتحاد میں شامل مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی کی تائید لیکن مسلم لیگ کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی “نہ” کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گئی۔
میاں نواز نے نہ کیسے کی؟
اتحاد میں شامل مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کو 15 ویں آئینی ترمیم کے لئے زبان دی تو پارلیمانی پارٹی سے باہر مسلم لیگی راہنماؤں نے آئینی ترمیم کا حصہ بننے کی مخالفت کرتے ہوئے میاں محمد نواز شریف سے رجوع کر لیا اور انہیں بذریعہ پرویز رشید اور مریم تواز قائل کر لیا کہ 13 ویں ترمیم اور وزراء کی تعداد پر پابندی مسلم لیگ کا کریڈٹ ہے۔اس کو ڈس کریڈٹ نہ کیا جائے۔وزراء کی تعداد بڑھانے کی ترمیم میں شامل ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔نواز شریف نے پارلیمانی پارٹی کو بذریعہ وائس میسج باز رہنے کی ہدایت کر دی ۔
نواز شریف کیسے مان گئے؟
میاں نواز کا پیغام ملنے کے بعد مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق سے 15 ویں آئینی ترمیم کیلئے ووٹ دینے سے معذرت کرلی تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ کی معذرت کے باعث کابینہ کی تشکیل تعطل کا شکار ہونے کے پیش نظر مقتدر قوتوں نے میاں نواز شریف کو 15 ویں آئینی ترمیم کا حصہ بننے کے لئے راضی کر لیا لیکن اپنی فیس سیونگ کے لئے نواز شریف نے کہا کہ چونکہ میں پہلے منع کر چکا ہوں اس لئے اب دوبارہ احکامات جاری کرنا مناسب نہیں اس لئے یہ کام وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور اسحاق ڈار کے ذریعے کر لیں۔
نواز شریف نے فیس سیونک کیلئے کیا کیا؟
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ میاں نواز شریف نے براہ راست ہاں کرنے کی بجائن اندرون خانہ شہباز شریف کو ہدایت جاری کی کہ آزادکشمیر کے عبوری آئین میں 15 ویں ترمیم کا معاملہ فوری نمٹائیں۔نواز شریف کی ہدایت پا کر شہباز شریف نے آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی کو مدعو کیا اور اس ترمیم کے خلاف موقف اختیار کرنے والے لیگی قائدین کو صرف نظر کرتے ہوئے فوری طور پر ترمیم کا حصہ بننے کی ہدایت کردی۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدر مسلم لیگ آزادکشمیر شاہ غلام قادر نے شہباز شریف کو وزیر اعظم آزاد کشمیر سے اسمبلی کے اندر اور باہر معاملات طے کرنے کی بات کی لیکن انہوں نے یہ بات کمیٹی کے ذمہ ڈال کر فوراً ترمیم کا حصہ بننے پر زور دیا۔
نواز شریف کو کام میں لانے کی ایک ناکام کوشش
دریں اثناء ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ایک مسلم لیگی رہنما نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا جھکاؤ دیکھ کر میاں نواز شریف سے ملاقات کر کے انہیں آئینی ترمیم کے مضمرات سے آگاہ کیا لبکن پوری بات سننے کے بعد میاں نواز نے انہیں صرف اتنا جواب دیا کہ یہ معاملہ شہباز شریف اور اسحاق ڈار دیکھ رہے ہیں۔
دلچسپ۔حیرت انگیز اور مضحکہ خیز سین کیا بنا؟
مسلم لیگ کی حمایت حاصل ہونے کے بعد قانون ساز اسمبلی کے 52 میں سے 40 ممبران اسمبلی کی حمایت سے 15 ویں آئینی ترمیم 2 جون 2023 کو ہو گئی۔اس ترمیم کے حق میں حیرت انگیز طور پر سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان اور بظاہر فاروڈ بلاک میں شامل نہ ہونے والے ممبر اسمبلی محمد حسین کے ووٹ بھی شمار کئے جا رہے ہیں جبکہ ترمیم کے فوراً بعد پیپلز پارٹی کے منتخب سپیکر چوہدری لطیف اکبر کو صرف 19 ووٹ ملے جو پی ڈی ایم کے ممبران کے ووٹ شمار کئے جاتے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ فلور کراسنگ کے قانون کے خوف سے پی ٹی آئی اور فاروڈ بلاک کے ممبران نے سپیکر کو ووٹ نہیں دیئے حالانکہ موجودہ حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے فلور کراسنگ کے قانون کو غیر موثر کرنے کے جتن کر رکھے ہیں۔دوسری جانب یہ بھی دلچسپ اور مضحکہ خیز ہے کہ سپیکر کے انتخاب کے لئے ایوان میں موجود سادہ اکثریت چاہیے جبکہ سپیکر کو ہٹانے کے لئے ایوان کی ایک تہائی اکثریت ضروری ہے۔
ممبران اسمبلی میں بے چینی کیوں پھیل گئی؟
15 ویں آئینی ترمیم کے بعد بظاہر متوازن اور مستحکم حکومت کے قیام کا راستہ ہموار ہو گیا ہے لیکن نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر فاروڈ بلاک۔پیپلز پارٹی۔اور مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے ایک درجن سے زائد ممبران اسمبلی نے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ متذکرہ ترمیم کے بعد ممبران اسمبلی کی امیدیں پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔اتحادی حکومت میں شامل ہر ممبر اسمبلی وزیر بننے کا خواہش مند ہے۔خواہش پوری نہ ہونے والے ممبران کا ایک گروپ بن جائے گا جو حکومت کی مشکلات میں اضافے کیلئے کردار ادا کریگا۔فاروڈ بلاک میں شامل ممبران اپوزیشن سے رجوع کر لیں گے۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگی پارلیمانی پارٹیوں اور قیادت کو اسمبلی سے باہر بیٹھے ہوئے رہنماؤں کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ممبران نے بتایا کہ یوں یہ کمپنی چلتی ہوئی نظر نہیں آرہی۔
عوام کیوں شدید تنقید پر اتر آئے ہیں؟
15 ویں آئینی ترمیم کے باعث عوام خصوصاً منتخب بلدیاتی نمائندوں میں بھی اضطراب اور بے چینی کی کیفیت نمایاں ہے۔15 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والوں کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔سوشل میڈیا صارفین کے مطابق وزراء اور مراعات یافتہ طبقے کی فوج ظفر موج کی وجہ سے فنڈز کیصورت میں ثمرات عوام تک نہیں پہنچ پا رہے۔صحت اور تعلیم سے متعلق شعبہ جات تباہ ہو چکے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ ذاتی مفادات کے لئے مسلم لیگ اپنی ہی ترمیم کی حمایت میں کھڑی نہ رہ سکی جبکہ منتخب ممبران اسمبلی کیوجہ سے فنڈز بلدیاتی اداروں کو منتقل نہیں ہو پا رہے۔سوشل میڈیا صارفین اس امر کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ مبینہ طور پر محض 30 لاکھ کی آبادی میں سے 15 لاکھ ریاست سے باہر ہیں۔15 لاکھ کی آبادی والے شہروں کو ڈپٹی کمشنر چلاتا ہے جبکہ آزادکشمیر میں تقریباً ایک لاکھ سرکاری ملازمین اور وزراء کی فوج ظفر موج عوام کے ساتھ ہی نہیں بلکہ نمائندہ حکومت کے طور پر مقبوضہ کشمیر والوں کے ساتھ بھی زیادتی کی جا رہی ہے۔سوشل میڈیا صارفین کے مطابق یہ حکومت ڈیڈھ ماہ میں ہی اخلاقی جواز اور ساکھ کھو چکی ہے۔
وزیر اعظم کیا کررہے ہیں؟
تیسری جانب معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم 26 وزراء پر مشتمل کابینہ تشکیل دینے کے عزم کا اظہار کر چکے جبکہ ہر وزیر کیلئے دو کی بجائے ایک گاڑی کا انتظام کرنے کا کہہ چکے ہیں۔یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم نے جس طرح وزیر اعظم سیکریٹریٹ کے اخراجات کم کئے ہیں اسی طرح وہ ماضی کے وزراء اعظم کی نسبت بھاری بھر کم کابینہ پر اٹھنے والے اخراجات میں بھی کمی لانا چاہتے ہیں تاکہ گڈ گورننس کے قیام کے ساتھ عوام میں مقبولیت بھی حاصل کر سکیں۔