مظفرآباد (سٹیٹ ویوز) اقوامِ متحدہ بھارت کے زیر قبضہ جموں کشمیر میں غاصب فوجیوں کے ہاتھوں نہتے شہریوں کے اجتماعی قتل عام کی غیر جانبدار تحقیقات کرے ۔11 جون 1991 چوٹہ بازار سرینگر میں ہوئے قتل عام میں ملوث بھارتی فوجیوں کیخلاف تادیبی کاروائی نہ ہونا! امن ، انصاف اور انسانیت کے دعویداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ پاسبان حریت جموں کشمیر کی طرف سے سانحات کی تحقیقی رپورٹ جاری۔شہدائے سانحہ چوٹہ بازار سرینگر کے بتیسویں یوم شہادت پر پاسبان حریت کے چیئرمین عُزِیر احمد غزالی نے میڈیا سیل کی جانب سے مرتب کردہ تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے ۔
بھارتی حکومت کی ایماء پر قابض فوجیوں کے ہاتھوں مقبوضہ ریاست میں نہتے شہریوں کے اجتماعی قتل عام کے دردناک سانحات پر تحقیقاتی رپورٹ میں 11 جون 1991 کے دردناک سانحے جس میں بھارتی دہشت گرد “سی آر پی ایف” نے سرینگر کے چوٹہ بازار علاقے میں ” تیس” بے گناہ کشمیری شہریوں کو شہید کیا اور سو کے قریب شہری قابض فورسز کی گولیوں سے زخمی ہوئے تھے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے گزشتہ 33 برسوں میں نہتے کشمیری شہریوں پر تیس سے زائد ایسے منظّم فوجی حملے کیئے جن میں “ہزاروں” شہریوں کو اجتماعی طور پر قتل عام کا نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں 6 جنوری 1993 سوپور قتل عام کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں پچپن شہریوں کو شہید کیا گیا۔ 15 جنوری 1990 ہندواڑہ جہاں سترہ شہری، 19جنوری 1991 مگرمال سرینگر میں گیارہ ۔ 21 جنوری 1990 کو گاوکدل سرینگر میں ساٹھ شہریوں کو بھارتی جارح افواج نے شہید کیا۔ 26 جنوری 1998 وندہامہ گاندر بل میں بھارتی خفیہ کارندوں نے چھبیس پنڈت شہریوں کو قتل کیا۔ 27 جنوری 1993 کو کپواڑہ میں تیس شہری بے دردی سے شہید کیئے گئے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ 25 فروری کی رات بھارتی سفاکوں نے آزاد کشمیر کے نکیال سیکٹر کے علاقے لنجوٹ میں شہریوں پر رات کے وقت حملہ کرکے 14 مظلوم شہریوں کو سوتے میں ذبح کیا۔
1 مارچ 1990 زکورہ بائی پاس میں چھبیس اور ٹینگ پورہ سرینگر میں اکیس شہری شہید کیئے۔ 20 مارچ سن 2000 میں بھارتی فورسز نے چٹھی سنگھ پورہ میں پینتیس سکھ شہریوں کو قتل کیا۔ 21 مارچ 1996 کو درگاہ حضرت بل میں بتیس شہری ، 1 اپریل 2017 میں پلوامہ ضلع اور شوپیان میں سترہ کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا۔ 10 اپریل لالچوک میں پچاس سے زائد شہری، اپریل 1991 جب شمس بری کے علاقے دُدّی بہک کے اطراف 90 سے زائد کشمیری نوجوانوں کو ہجرت کے دوران شہید کیا گیا۔ بھارتی دہشت گردوں نے 26 اپریل 1989 کو آزاد کشمیر کے علاقے سماہنی میں سیری بنڈالہ کے مقام پر نہتے شہریوں پر حملہ کیا اور 22 افراد کو شہید کیا۔
8 مئی 1991 پیر دستگیر سرینگر میں اٹھارہ شہری، بھارتی فوج نے 21 مئی 1990 کو حول سرینگر میں ستر سے زائد شہریوں، 11 جون 1991 چوٹہ بازار سرینگر میں بتیس شہریوں، 13 جولائی 1931 کو سرینگر سینٹرل جیل کے سامنے ڈوگرہ فوجیوں کے ہاتھوں 22 نہتے کشمیری شہریوں کی شہادت ہوئی ۔ 3 اگست 1998 کی رات گاؤں سیالاں تحصیل سرنکوٹ ضلع پونچھ میں تین گھروں کے 21 شہریوں اور 22 اکتوبر 1993 کو بیجبہاڑہ میں ساٹھ سے زیادہ نہتے کشمیری شہریوں کو بھارتی غاصبوں نے شھید کیا ۔ پاسبان حریت کے چیئرمین نے مقبوضہ ریاست میں بھارتی قابضین کے ہاتھوں اجتماعی قتل عام کی رپورٹ میں 6 نومبر 1947 کو صوبہ جموں کے مختلف شہروں، علاقوں اور بستیوں میں ساڑھے تین لاکھ مسلمانوں کے قتل عام کو انسانیت کی تاریخ میں بدترین سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں کشمیر میں بھارتی حکمرانوں کی ایماءپر ہوئے اجتماعی قتل عام کے واقعات دراصل جموں کشمیر میں غالب مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کیلئے کھلی جنگ قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں گزشتہ تینتیس برسوں کے اندوہناک واقعات کو کشمیری مسلمانوں کی منظّم نسل کشی سے تعبیر کرتے ہوئے بتایا گیا ہیکہ بھارتی حکومت اور فوجی آفیسرز اور اہلکار تاریخ اور دنیا کی عدالت میں اپنے گھناؤنے جرائم کا حساب دیں گے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں صاف بتایا گیا ہیکہ لاکھوں شہریوں کو قتل کرنے کے باوجود بھارت جموں کشمیر پر اپنی غیر قانونی حاکمیت کو ثابت کرنے میں مکمل طور ہر ناکام ہوچکا ہے جبکہ ریاست کے عوام لازوال قربانیاں پیش کرکے ریاست کی آزادی، حق خودارادیت اور محفوظ مستقبل کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ رپورٹ میں اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل، او آئی سی، یورپی یونین، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا ہیکہ وہ جموں کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم کا نوٹس لیں اور بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں انسانیت کے اجتماعی قتل عام پر مجرموں کو عالمی عدالت انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے .