ویمن یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر باغ میں پاکستان کے پہلے ویمن سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کے قیام کے لیئے منظوری

48

باغ (سٹییٹ ویوز)پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ نے ویمن یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر باغ میں پاکستان کے پہلے ویمن سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کے قیام کے لیئے منظوری دے دی. اس سلسلے میں وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی آف آزاد جموں وکشمیر باغ میرٹیوریس پروفیسر ڈاکٹر عبد الحمید کی زیر صدارت پاکستان کی جامعات کے پہلے ویمن سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کے قیام کے سلسلے میں ویمن یونیورسٹی آف آزاد جموں وکشمیر باغ اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے عہدیداروں کے درمیان ویمن یونیورسٹی باغ میں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا اور پراجیکٹ پر عملدرآمد کرنے کے لیے لائحہ عمل طے کیا گیا۔

PSEBکی طرف سے پراجیکٹ کے لیے 31ملین کی خطیر رقم مختص کر دی گئی ہےاور بہت جلد ویمن یونیورسٹی باغ اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ مل کر اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھیں گے ۔ وائس چانسلر ڈاکٹر عبد الحمید نے کہا کہ اس طرح کے پراجیکٹ بیروزگاری کو کم کرنے کے ساتھ اداروں کے استحکام کے لئے انتہائی ضروری ہیں . انھوں نے کہا یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ بڑی آئی ٹی کمپنیوں نے ویمن یونیورسٹی باغ کے ٹیکنالوجی پارک میں اپنے دفاتر کھولنے کی خواہش ظاہر کی ھے. . ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ سے معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل اور وقت کی ضرورت تھا.

چونکہ آزاد کشمیر کی جامعات میں اس طرح کا کوئی میکنرم موجو د نہیں ہے کہ طلبہ و طالبات کو جامعات سے پاس آوٹ ہونے کے بعد روزگار کے مواقع دستیاب ہوں۔ آج اس مشکل دور میں والدین انتہائی مشکل حالات میں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں اور اپنی زندگی کی ساری جمع پونجی اس اُمید پے اپنے بچوں کی تعلیم پے لگا دیتے ہیں کہ کل ان کا سہارا بنیں گے۔ لیکن ہزاروں کی تعداد میں طلبہ و طالبات سالانہ پاس آوٹ ہو رہے ہیں اور حکومت کے پاس ان کے لیے کوئی پلان نہیں ہے اور بیروزگاری کی وجہ سے معاشرے میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔اس پراجیکٹ کی بدولت تعلیم معیار میں بھی مزید بہتری آئے گی.

ملک کی موجودہ صورتحال میں اس طرح کے پراجیکٹ ملک کو معاشی و اقتصادی طور پر مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ مالی مشکلات کے شکار ملک بڑی انوسٹمنٹ نہیں کر سکتے ان کے لیے اس طرح کے پراجیکٹ سود مند ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ اس پرکاسٹ کم آتی ہے اور آپ کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوتا ہے جس کے باعث ملک کی کرنسی مضبوط ہوتی ہے۔ میٹنگ میں ڈائریکٹر انفراسٹریکچر پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ عامر احمد اور سنیئر منیجر محمد اکبر نے شرکت کی اور بعد ازاں بنی پساری کے مقام پر سائٹ کا دورہ بھی کیا۔ پراجیکٹ کے فوکل پرسن ڈاکٹر گوہر رحمان چغتائی نے سائٹ پر بریفنگ دی اس موقع پر ڈائریکٹر فنانس صاحبزادہ محمد زاہد ،ڈاکٹر انیس عباسی اور فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے ۔وائس چانسلر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ پراجیکٹ ریاست کو خود کفیل بنانے اور بیروزگاری کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں