مظفرآباد(سٹیٹ ویوز)حکومت اگربزنس کمیونٹی کو اعتماد میں لے تو آزادکشمیر کے بجٹ کا حجم 15سو ارب روپے تک بڑھایا جاسکتاہے، 160ارب روپے کے بجٹ میں 120ارب روپے غیرترقیاتی بجٹ ہوتا ہے ریاست میں کیا ترقی ہوگی،دنیامیں اب لڑائی ہی معیشت پر ہو رہی ہے، بھارت اور چین اپنی کامیاب معاشی پالیسیوں اور مضبوط ہوتی معیشت کی وجہ سے سپر پاور کی دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں،ہمیں اپنے احتساب کا نظام بہتربنانے کی بھی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار صدر بزنس فورم عمران عزیز چیف آرگنائزر تاجر جائنٹ کمیٹی تنویر احمد قریشی، چیف آرگنائزر ہوٹل اینڈ گیسٹ ہاؤس ایسوسی ایشن سردار عامر نے مرکزی ایوان صحافت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت آزادکشمیر کو بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ مظفرآباد ہمارا مرکز ہے اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کے مسائل کو یہاں سے اجاگر کیا جائے۔
ہم نے بجٹ کے حوالہ سے سفارشات مرتب کرنے کیلئے مظفرآباد میرپور اور راولاکوٹ میں سیمینار کا انعقاد کیا جس میں سیاسی وسماجی اور تاجر برادری سمیت معاشرے کے اہم لوگوں کو مدعو کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بنیادی نقطہ یہ ہے کہ آزاد کشمیر کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کیلئے کام کیا ہی نہیں گیا۔خطے کو معاشی طور پر مضبوط کرنا ضروری ہے کوئی بھی قوم یا علاقہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک اس خطے کے لوگ علم اور ہنر سے آراستہ نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنی ریاست کے اندر اگر بہتر حکومت قائم کریں تو یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی جماعتوں سے بھی کہتے ہیں کہ وہ بھی اپنے منشور میں بزنس کمیونٹی کو شامل کریں یہاں سے بھی چیزیں پاکستانی جانی چاہیں۔ہر ضلع میں چیمبر آف کامرس قائم ہونا چاہیے۔لوگوں کے وفود کے تبادلے ہونے چاہیں۔فیڈرل چیمبر آف کامرس میں ہماری نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے اس کمی کو دور ہونا چاہیے۔
ڈویژنل سطح پر سبزی منڈی قائم کی جائے اس کے مقامی تاجروں کے حوالے کیا جائے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز کے ٹیکسز معاف کیے جائیں۔انہیں بجلی سستی دی جائے انڈسٹریل سٹیٹ کے الاٹ شدہ پلاٹ پر جو لوگ کام نہیں کرتے ان کی الاٹ منٹ منسوخ کی جائے ٹیکنیکل ایجوکیشن کو بزنس فورم کے ساتھ منسلک کر کے ان اداروں کو چلایا جائے۔
انسویسٹمنٹ بورڈ پاکستان میں متحرک ہے اگر یہاں کام کرے تو ہمارا ڈائس پورا سرمایہ کاری لا سکتا ہے۔انویسٹمنٹ بورڈ میں سیاسی ایڈجسٹمنٹ نہیں ہونی چاہیے۔انویسٹمینٹ کانفرنس اگر بلائی جائے تو ڈائس پورا کو سرمایہ کاری کے لیے بلایا جا سکتا ہے اس میں تاجروں کو نمائندگی ملنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں کوئی سیاحتی پالیسی نہیں ہے فوری طور پر سیاحتی پالیسی مرتب کی جائے اور اس پر عمل درآمد سختی سے کیا جائے .
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں آئی ٹی پارکس میں سب سے زیادہ کام کیا جا سکتا ہے اس کو ہر ڈویژن سطح پر بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ کاروبار آسان کرو لوگوں کو ہنر مند اور کاروبار پر لگاؤ کے سلوگن کے ساتھ بے روزگاری میں کمی لائی جا سکتی ہے ہمارے ہاں لوگ صرف ملازمتوں کو ہی روزگار کا ذریعہ سمجھتے ہیں اسی وجہ سے بے روزگاری کی شرح 50فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے حکومت کو فوری توجہ دینی ہوی گی۔