سیاسی جماعتوں میں دھڑے بندی: حالات کا جبر یا اقتدار کی خواہش؟

36

پاکستان تحریک انصاف کے بطن سے جنم لینے والی استحکام پاکستان پارٹی کا ظہور سیاسی جماعتوں کی تقسیم کی طویل تاریخ کا تازہ باب ہے۔
ماضی قریب کی حکمراں جماعت کے قد آور رہنماؤں کے نئی پارٹی تشکیل دینے سے اس بحث کا آغاز ہو گیا ہے کہ مستقبل قریب کے متوقع انتخابی عمل میں نومولود جماعت کیا نتائج اور اثرات پیدا کر سکتی ہے؟
کیا پی ٹی آئی پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی تخریب و تشکیل کے تاریخی تسلسل کا شکار ہوئی ہے یا اس کے زوال کے اسباب و عوامل کچھ اور ہیں؟
اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہے کہ خود پی ٹی آئی کی سیاسی قوت میں اضافہ کِن سیاسی گروہوں اور شخصیات کے شامل ہونے سے ہوا ہے۔
حالیہ عرصے میں چودھری پرویز الٰہی کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت سے تو قارئین واقف ہیں، مگر بہت کم لوگوں کے علم میں ہو گا کہ ماضی کے کئی نامور سیاست دان اور تاریخی کردار کے حامل سیاسی گروہوں اور پارٹیوں نے اپنا وجود پی ٹی آئی میں ضم کر رکھا ہے۔
پاکستان میں اپوزیشن کی سیاست کا سلیقہ سکھانے والے نوابزادہ نصراللہ خان کی جماعت پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی 1969 میں قائم ہوئی۔ یہ جماعت ضیا الحق اور بینظیر بھٹو دور میں شریک اقتدار بھی رہی۔
نوابزادہ صاحب کے انتقال کے بعد نوابزادہ منصور علی خان کے ہاتھ جماعت کی قیادت آئی۔ انہوں نے 2012 میں اپنی پارٹی پاکستان تحریک انصاف میں ضم کر دی تھی۔
نامور سیاستدان ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان نے 1968 میں جسٹس پارٹی تشکیل دی۔ عمران خان کی طرح انہیں افواج اور عدلیہ کے ریٹائرڈ افراد اور سماجی خدمات کی نامور شخصیات کا ساتھ میسر آیا۔
اصغر خان کی جسٹس پارٹی اور دیگر گروہوں کے اتحاد سے پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی تشکیل پائی مگر وہ جلد ہی اس سے الگ ہو گئے۔
انہوں نے 1970 میں تحریک استقلال کے نام سے سوشل ڈیموکریٹک تحریک شروع کی۔ انتخابات میں آزادانہ حیثیت میں ناکامی کے بعد تحریک استقلال کو باقاعدہ سیاسی جماعت کا درجہ دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں