آئی ٹی سیکٹر میں نوجوانوں کے لیے فری لانسنگ سے پیسے کمانا کتنا آسان ہے؟

32

پاکستان کے شہر گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی فوزیہ عطاالرحمان اپنی دونوں ٹانگوں سے معذور ہیں۔ وہ آئی ٹی سیکٹر میں فری لانس کام کرنے والے ان نوجوانوں میں سے ہیں جو اپنی کام کرنے کی صلاحیت سے زرمبادلہ پاکستان میں لا رہے ہیں۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’میری سپیشلائزیشن ورڈ پریس اور گرافک ڈیزائننگ ہے۔ میں ایک ویب کے ڈیزائن سے لے کر ہوسٹنگ اور پھر اس کی مینٹینس سمیت سارے کام بخوبی جانتی ہوں۔ میرے سارے کلائنٹس پاکستان سے باہر کے ہیں۔ اور مجھے فری لانسنگ کام کرتے ہوئے پانچ سال ہو گئے ہیں۔ اب اپنے پورے گھر کا خرچہ میں خود اٹھاتی ہوں۔‘
فوزیہ نے سرگودھا یونیورسٹی سے کمپیوٹر میں گریجویشن کی، تاہم نوکری نہ ملنے کی وجہ سے انہیں کچھ وقت بے روزگاری میں گزارنا پڑا۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے جب پڑھے لکھے نوجوانوں کو تربیت دینے اور فری لانسنگ کے لیے ای روزگار پراجیکٹ متعارف کروایا تو وہ بھی اس کا حصہ بن گئیں۔
اپنی کہانی بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’پہلے سے جو پڑھ رکھا تھا وہ پریکٹیکل نہیں تھا۔ فری لانسنگ کیسے کرتے ہیں۔ فارن کلائنٹس کو کیسے ڈیل کرنا ہے۔ کام کہاں سے لینا ہے یہ سب نہیں پتا تھا۔ جب یہ ساری مہارت سیکھی تو اس کے بعد سے آج تک روز بروز ترقی ہی کر رہی ہوں۔ اب میں نے حال ہی میں موبائل ایپلی کیشن بنانے کا کورس مکمل کیا ہے اور ایک اور مہارت حاصل کر لی ہے۔‘
طلحہ رؤف پتافی کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے انہوں نے گریجویشن الیکٹریکل انجینیئرنگ میں کی تھی۔ جب نوکری کا حصول مشکل ہوا تو فری لانسنگ کا سوچا۔ ڈیجیٹل مارکٹنگ کی مہارت حاصل کی۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’جب میری ڈیجیٹل کانٹنٹ اینڈ مارکیٹنگ کی ٹریننگ مکمل ہو رہی تھی تو میرے پاس دو بڑے پراجیکٹ آ چکے تھے جو مجھے تربیت کے دوران ہی ملے تھے۔ گذشتہ دو سالوں میں 36 ہزار ڈالر کما چکا ہوں۔ اور ابھی لگتا ہے کہ یہ شروعات ہے۔‘
ایسی بہت سی کہانیاں آپ کو سننے کو ملیں گی۔ ایسے افراد جنہوں نے نوکری کرنے کے بجائے آئی ٹی کے شعبے کی کوئی مہارت سیکھ کر فری لانسنگ کو اپنا روزگار بنایا۔ پاکستان میں اس وقت مختلف ایسے پراجیکٹ چل رہے ہیں جن میں حکومت خود نوجوانوں کو آئی ٹی کے شعبے میں مہارت سیکھنے کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں