سی ڈی اے معطل ملازمین چک شہزاد نرسری میں روزانہ حاضری کیلئے پابند،مزدور یونین قائد چوہدری محمد یاسین کی فیصلہ کی مذمت

21

اسلام آباد :سی ڈی اے کے مختلف شعبوں سے معطل کئے جانے والے ملازمین کو سزا کے طور پر چک شہزاد نرسری میں روزانہ حاضری کے لئے پابند کر دیا گیا، ڈائریکٹر جنرل سے لے کر عام ملازم تک کو ایک حکم نامے کے ذریعہ صبح سے شام تک قیدیوں کی طرح پابند کرنا انتہائی شرم ناک اور ذلت آمیز فعل ہے جس پر سی ڈی اے مزدور یونین(سی بی اے)نے مرکزی عہدیداران کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا جس میں راجہ شاکر زمان کیانی، صوفی محمود علی، حاجی محمد صابر، محمدسرفراز ملک، سردار نسیم ممتاز، چوہدری منیر، ملک محمداسلم، صفدر عباسی، زاہد حسین بھٹی، سردار شوکت، ملک خلیل اعوان، گوہر الٰہی سمیت دیگر عہدیداران نے شرکت کی،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مزدور یونین (سی بی اے) کے قائد چوہدری محمد یاسین نے کہا کہ ملک کے اندر جمہوریت ہے جبکہ سی ڈی اے میں مارشل لاء کے ضابطے لاگو ہیں، افسر شاہی کی دھاک اورافسران کا ملازمین سے رویہ ہتک آمیز ہے جو کسی صورت میں قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے مزدور یونین کی سیاست ہمیشہ امن کی رہی ہے، سی ڈی اے میں مخصوص افسران کے نا مناسب رویے سے ادارے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو رہی ہے جس پر مزدور یونین نے تفصیلی غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان غیر قانونی احکامات کے خلاف پوری قوت سے مزاحمت کی جائے گی اور اس کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت اور سی ڈی اے کے ادارے میں جو بد امنی پیدا ہو گی اس کی تمام تر ذمہ داری سی ڈی اے انتظامیہ کے ان افسران پر عائد ہو گی جو خود کو حاکم اور ملازمین کو رعایا سمجھتے ہیں،اس موقع پر مزدور رہنماؤں نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، چیئرمین سی ڈی اے کیپٹن(ر) نورالامین مینگل سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قسم کے خلاف قانون کارروائیاں کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں جو موجودہ حکومت اور ادارے کے سربراہ کی نیک نامی پر بد نما دھبہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں