لنڈی کوتل (ہجرت علی آفریدی سے)وادی تیراہ کو سیاحتی درجہ نہ دینے کے باوجود بھی ہزاروں سیاحوں نے دیکھنے کے لیے اس خوبصورت وادی کا رخکیا . سیاحوں نے سوشل میڈیا پر وادی تیراہ کی خوبصورتی کو پورے دینا میں اجاگر کیا ۔ وادی تیراہ کی خوبصورتی کا سوشل میڈیا پر دھوم ، قبائلی علاقوں سمیت پشاور اور چارسدہ سے بھی سیاحوں نے وادی تیراہ کا رخ کیا .
صوبائی حکومت کےوادی تیراہ کو سیاحت کا درجہ دینے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔ سیاحوں کا وادی تیراہ میں سہولیات کے فقدان پر حکومت پر شدید تنقید ۔ ضلع خیبر کی حسین وادی تیراہ عید کی چھٹیوں میں مقامی سیاحوں کیلئے خصوصی توجہ کا مرکز رہا ، ملک کے بیشتر علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزارون سیاحوں نے سہولیات کے فقدان کے باوجود وادی تیراہ کیلئے جانا پشند کیا .
معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر سیاحوں کا وادی تیراہ کی خوبصورتی چھائی رہی .ہزاروں سیاحوں نے عید کی چھٹیوں میں وادی تیراہ کا رخ کیا مقامی لوگون نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وادی تیراہ کو سیاحت کا درجہ دے کر اقدامات اٹھائے اور سیاحوں کیلئے یہاں سیولیات پیدا کریں تاکہ وادی تیراہ کو مکمل طور پر سیاحت کیلئے بحال کیا جائے .
ایک مقامی شخص نے کہا کہ اگر یہاں حکومت سیاحوں کیلئے اقدامات اٹھایئں تو مقامی لوگوں کو روزگار کے کثیر مواقع پیدا ہو سکتے ہیں جس کی بناء پر یہاں کے لوگوں کی محرومیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے.سیاحوں نے بھی حکومت سے اپیل کی کہ وادی تیراہ کو مکمل طور پر سیاحت کیلئے بحال کیا جائے اور راستوں میں رکاوٹوں کو فوری ختم کیا جائے تاکہ سیاحوں کو وادی تیراہ کی جانب روجہ مبذول ہو سکے ۔یاد رہے کہ مقامی سیاحوں نے تیراہ کے راستے میں چیک پوائنٹس پر سیاحوں کی چیکنگ کے سلسلے میں کھڑے لمبی قطاروں پر بھی تنقید کی اور اسے سیاحت دشمن قرار دے دیا تھا ۔