تحریر :سیماب عارف
اُسے سب کچھ اہتمام سے کرنے کی عادت تھی اور اپنے من پسند کام تو وہ نہایت ہی فرصت اور یکسوئی سے کرتی تھی.چائے پینا ، کتاب پڑھنا، کہیں چیزوں کی سجاوٹ کرنا وغیرہ وغیرہ.اماں سے ڈانٹ بھی پڑتی کہ وقت پہ کھانا کھالو لیکن وہ گھر کے سارے کام مکمل کر کے فرصت میں اہتمام سے بیٹھ کر کھانا کھاتی.اس کے نزدیک کھانا محض پیٹ بھرنے یا چائے محض حلق میں انڈیلنے کی چیز نہیں تھی۔ان سے تو لقمہ در لقمہ اور گھونٹ گھونٹ ذائقہ محسوس کر کے لطف اندوز ہونا چاہئیے۔
وہ صفائی ستھرائی اور نفاست کے معاملے میں بھی نہایت “ٹچی” تھی۔چیزوں کو قرینے سے رکھنا ،استعمال کی سب اشیا اور زندگی کے دوسرے معاملات میں نفاست اس کی ترجیح ہوا کرتی.ذرا سی گندگی پہ اسے کراہت محسوس ہونے لگتی اور وہ سکون سے بیٹھ نہ پاتی لیکن اب وہ ایک ماں تھی.ماں کے قدم گھڑی کی سوئیوں سے بھی تیز بھاگتے ہیں لیکن فرصت کا کوئی لمحہ پکڑ نہیں پاتے.اہتمام سے گرم کھانا کھانے کا تو خیر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ننھے بچے کے موڈ اور مزاج کا کچھ پتہ نہ تھا۔کھانے پینے کی اشیا میں ہاتھ پیر مارنا اور کتابوں کے صفحے پھاڑنا بچے کا دلپسند مشغلہ تھا اور ماں جو پہلے بچے کو کھلا، پلا، نہلا، دھلا کے اپنے کھانے کی طرف آتی تو تب تک سب کچھ ٹھنڈا ہوچکا ہوتا.
اس سے بھی زیادہ یہ کہ ننھے خرگوش کو عین اس وقت پاخانہ آجاتا جب ماں کا لقمہ منہ کی طرف جارہا ہوتا تھا۔نجانے اس میں کیا راز تھا کہ ہمیشہ اس کے کھانے کے وقت ہی بچے کو واش روم جانا ہوتا۔کراہت کا تو خیر اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔بس جھنجلاتی الجھتی وہ یہ کام نمٹاتی تو بچے کے اگلے کھانے کی باری آجاتی.فرصت سے بیٹھ کر کتاب کے اوراق پلٹتے ہوئے چائے کی چسکیاں لینا اور تصور جاناں میں محو ہونا تو ایک عرصے سے خواب ہوا۔۔۔۔اتنا ہی بہت تھا کہ ننھے خرگوش کو سلا کر وہ گھر کے بقیہ کام نمٹا لے جو اس کی موجودگی میں نہیں کرپاتی تھی۔
ایک روز اس نے اماں سے کہا: امی پہلی بار محسوس ہوا ہے کہ ہم نے بچپن میں آپ سے کتنی قربانیاں لی ہوں گی۔۔۔آپ کے کئی پسندیدہ کام چھوٹ گئے ہوں گے۔آپ نے بہت سی خواہشات ماری ہوں گی۔۔۔بہت سی ضروریات قربان کی ہوں گی اور اپنا آپ تو شاید بھول ہی گیا ہو۔
اماں ہنس کر بولیں: ہاں کیا تو تھا.یہ مشکل دریا پار کیا تھا. لیکن اس دریا میں سب سے بڑا سہارا محبت کا پل ہے جو دریا میں اترنے کا حوصلہ دے دیتا ہے۔ففقدرت نے ماں کے دل میں اولاد کی محبت ہی ایسی پیدا کردی ہے کہ وہ اپنا آپ تیاگ دینے کا حوصلہ پیدا کرلیتی ہے.وہ اماں کی بات سن کر مسکرائی، ابھی کچھ دیر پہلے ننھے خرگوش نے پیمپر اتارنے پہ جو کاروائی اس کے کپڑوں پہ کی تھی ان بدبودار کپڑوں کو تبدیل کرتے نہاتے دھوتے شدید غصہ اس پہ سوار تھا، وہ دھیما پڑنے لگا۔
اس نے ایک نظر چارپائی پہ سوئے ننھے خرگوش کو دیکھا اور ہلکا سا مسکرا کے اسے تھپکنے لگی۔