دفتر خارجہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‌ پر اسرائیلی تنقید پر سیخ‌پاء

44

ترجمان دفتر خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ (یو این) کی کونسل برائے انسانی حقوق میں پاکستان کے خلاف بیان کو سختی سے مستردکیا ہے۔جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے 53 ویں اجلاس میں پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے رپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی نمائندے نے پاکستان پر تنقیدکی اور اجلاس کے دوران پاکستان سے جبری گمشدگیوں، تشدد، پر امن احتجاج پر کریک ڈاؤن اور مذہبی اقلیتوں پر تشدد کو روکنے کے لیے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے اسرائیل کے بیان کو پاکستان کی اندرونی سیاست میں مداخلت قرار دے کر مسترد کردیا۔ترجمان دفتر خارجہ نےکہا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے پاکستان کی یونیورسل پریاڈک رپورٹ متفقہ طور پر منظور کرلی ہے، فلسطینیوں پر ظلم کرنے والے ملک کی نصیحت کی پاکستان کو کوئی ضرورت نہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلسطینیوں پر اسرائیلی ظلم و ستم کی طویل تاریخ کو دیکھتے ہوئے اسرائیل پاکستان کو انسانی حقوق پر نصیحت نہیں کرسکتا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی بیانیےکا سیاسی محرک اقوام متحدہ کے سیشن کے مثبت لہجے اور ریاستوں کی ایک بڑی اکثریت کے بیانات سے متصادم تھا۔اس حوالے سے مزید ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ہمارے داخلی مسائل پر اسرائیل کو بات کرنے کا کوئی حق نہیں، پہلی بار ہوا ہےکہ اسرائیل کا نمائندہ پاکستان کو نصیحت کر رہاہے۔

جن کیلئے اسرائیل نے بات کی،قوم سوچےکہ وہ کون ہیں: طاہر اشرفی
علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کا نام لے کرپاکستان کو بدنام کیا گیا، اسرائیلی نمائندےکے بیان پر وزارت خارجہ کا موقف آچکا ہے، ہم مظلوم فلسطینی بھائیوں کےساتھ ہیں، اسرائیل پہلے اپنی اصلاح کرے، فلسطینیوں پر مظالم بند کرے، پھر کسی کو نصیحت کرے۔ان کا کہنا تھا کہ دیکھنا ہوگا کہ کیا وجہ ہےکہ اسرائیل ہمیں نصیحت کر رہا ہے، جن لوگوں کے لیے اسرائیلی نمائندے نے اقوام متحدہ میں بات کی ہے، قوم سوچےکہ وہ کون ہیں، پاکستان کے اندرونی معاملات میں کسی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں