اسلام آباد(کاشف میر) آزادکشمیر حکومت کے اتحادیوں میں اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ وزیراعظم انوار الحق نے پیپلزپارٹی کو لوکل گورنمنٹ اور شاہرات کی وزارت دینے سے صاف انکار کر دیا۔
تین ماہ میں وزیراعظم نے کسی وزیر کو اختیارات نہیں دئیے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا حکومت سے علیحدہ ہو کر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا امکان۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے خلاف دوسرے مرحلے میں عدم اعتماد لایا جائے گا۔ مسلم لیگ نواز آزادکشمیر کو بھی حکومت سے علیحدہ ہونے کیلئے راضی کرنے میں مصروف۔
تفصیلات کے پی ٹی آئی سے منحرف ہو کر پی ڈی ایم کی مدد سے وزیراعظم منختب ہونے والے چوہدری انوار الحق نے پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری یاسین کے فرزند عامر یاسین کو لوکل گورنمنٹ اور جنرل سیکرٹری فیصل راٹھور کو شاہرات کی وزارت دینے سے صاف انکار کے بعد پیپلز پارٹی نے حکومت سے الگ ہونے پر حتمی مشاورت شروع کر دی۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے اراکین جنہیں وزارتیں دی گئیں ہیں اختیارات نہ دئیے جانے پر پہلے سے ناراض ہیں اور اب وزیراعظم نے پیپلز پارٹی کو من پسند وزارتیں نہ دینے کا صاف جواب دے دیا ہے۔
مسلم لیگ نواز بھی حکومت سے علیحدہ ہونے کیلئے مشاورت کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق چوہدری انوار الحق دونوں جماعتوں کی حکومت سے علیحدگی پر بھی مطمئین ہیں اور انہیں اعتماد ہے کہ 27 سے زائد اراکین کا انہیں اعتماد حاصل ہے۔