اسلام آباد(محمد شہباز سے)مقبوضہ جموں وکشمیر سے تعلق رکھنےوالے صحافیوں کی تنظیم (اوکجا ) کے وفد کی تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی کے ساتھ ملاقات۔ملاقات میں مسئلہ کشمیر پر برطانیہ میں مقیم کشمیریوں اور پاکستانی برادری کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔راجہ فہیم کیانی نے کشمیری صحافتی وفد کو ان تمام کوششوں سے اگاہ کیا جو وہ برطانیہ اور پورپ کے دوسرے ممالک میں کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے نہ صرف برطانوی ممبران پارلیمنٹ بلکہ کونسلرز سطح تک سرگرمیاں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے انہیں اگاہ کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں برطانوی پارلیمنٹ کے اندر مسئلہ کشمیر پر ایک کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس میں متعدد ممبران پارلیمنٹ نے حصہ لیکر کشمیری عوام کو حق خود ارادیت کی کھل کر حمایت کی ہے۔
مذکورہ کانفرنس میں ممبران پارلیمنٹ سے لیکر کونسلرز کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے کیلئے کوششیں تیز کی جائیں۔برطانوی عوام کو مسئلہ کشمیر سے متعلق اگاہی ضرور ہے البتہ انہیں بھارتی مظالم سے اگاہ کرنا ناگزیر ہے تاکہ بھارتی دہشت گردی کو بے نقاب کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ 05 اگست 2019 کے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کو واپسس لینے کیلئے بھارت پر دباو ڈلوانے کی کوشش جاری ہے اور اس سلسلے میں ہر سال برطانیہ بھر میں یوم استحصال منایا جاتا ہے۔
پورے برطانیہ میں جگہ جگہ احتجاج کرکے برطانیہ اور عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب مبذول کرائی جاتی ہے جبکہ بھارتی سفارتخانے کے سامنے بھرپور احتجاج اور یاداشت پیش کی جاتی ہے۔اوکجا کے وفد نے راجہ فہیم کیانی کو پاکستان کے الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی اپنی کوششوں سے باخبر کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے 05 اگست 2019 کے بعد اپنے ظالمانہ حربوں میں تیزی لائی ہے۔کشمیری عوام کی جائیداد و املاک کو ضبط اور رہائشی مکانوں کو مسمار کیا جاتا ہے۔05 اگست کے بعد 800 کے قریب کشمیری شہید اور 25000 گرفتار کرکے بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں مقید کیےگئے ہیں البتہ ظلم و جبر کے باوجود مودی اور اس کے حواری کشمیری عوام کو تحریک آزادی کشمیر سے دستبردار نہیں کراسکے جو بھارت کی شکست کے مترادف ہے۔اوکجا کے وفد میں محی الدین ڈار’ نعیم الاسد’ ارشد حسین میر ‘ عبدالطیف ڈار ‘ مقصود منتظر اور آزاد کشمیر کے سینئر صحافی راجہ بشیر عثمانی بھی شامل تھے.