مظفرآباد، راولاکوٹ ، کوٹلی، باغ (نمائندگان سٹیٹ ویوز) آزادکشمیر بھر میں عوامی ایکشن کمیٹیوں کی کال پر حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی ریلیاں، مطاہرے، شٹر ڈاون ہڑتال کی گئی، ریاست بھر کے وکلاء نے احتجاجی مظاہروں میں شرکت بھی کی اور عدالتوں میں پیش بھی نہ ہوئے، سب سے بڑے مظاہرے راولاکوٹ اور کوٹلی میں ہوئے جہاں ہزاروں افراد نے شہر بند کر کے ریلیاں نکالی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی.
راولاکوٹ میں بجلی بلات پر ناجائز ٹیکسز،آٹے پر سبسڈی،حکمران طبقے کی مراعات کے خلاف، راولاکوٹ میں انجمن تاجران راولاکوٹ،آل پارٹیز پونچھ ڈویلپمنٹ فورم اور سول سوسائٹی کے زیر اہتمام ہزاروں افراد کا احتجاج،سپلائی بازار سے جلوس شروع ہوکر احاطہ کچہری میں جلسہ عام کی صورت اختیار کرگیا ،دس اگست سے بجلی بلات نا دینے کا اعلان سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان،اور احاطہ عدالت میں دھرنا دے دیا جبکہ تین ماہ سے جاری دھرنا سپلائی بازار میں بھی جاری رہے گا.
جلسہ عام سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مظفرآباد میں موجود حکمران طبقہ محض عیاشیوں میں مصروف ہے اور غریب عوام بجلی بلات دینے کے علاوہ مہنگا آٹا خریدنے کی سکت نہیں رکھتے،دنیا کے ترقی یافتہ ممالک محض چند وزرا کے ساتھ ملک چلاتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں مظفرآباد آباد میں وزار کی ایک فوج ظفر موج ہے جن کو بس کرسی سے پیار ہے عوام جیئے مرے اس سے انکو کوئی غرض نہیں،حکمران طبقے کو عوام کے ووٹ بس سیڑھی کے طور پر چاہیے ہوتے ہیں.
ہزاروں میگا واٹ بجلی پیدا ہونے کے باوجود آزادکشمیر کی چار سو میگا بجلی نہیں دی جارہی جو عوام دشمنی پالیسی ہے اب حکمرانوں کی کوئی بھی چال نہیں چلے گی عوام اپنے بنیادی حقوق جان چکے ہیں آج کا احتجاج اس بات کا ثبوت ہے کہ پونچھ ہی نہیں پورا آزادکشمیر اپنے بنیادی حقوق کیلیے جاگ چکا ہے،اس احتجاجی مظاہرے سے راولاکوٹ انجمن تاجران کے صدر سردار عمر نذیر کشمیری،راجہ امتیاز رحمت،خان افتخار،صمد شکیل،امجد یعقوب ایڈووکیٹ،امتیاز اکبر ایڈووکیٹ،ساجد اعظم،ارباب ایڈووکیٹ،جاوید جان،مہران معروف،اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
تتہ پانی میں بدترین مہنگائی، آٹے کی قلت وسبسڈی کے خاتمے،بجلی کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ، وولٹیج کی کمی، بجلی بلات پر ناجائز ٹیکسیز کیخلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ ، سینکڑوں کی تعداد میں تاجروں وشہریوں اور سول سوسائٹی کے افراد کی شرکت،شہر بھر میں مکمل شٹرڈائون اور پہیہ جام رہا، مظاہرین کے حکومت کیخلاف نعروں سے شہر گونج اُٹھا ،
آل آزادکشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی بدترین مہنگائی، آٹے کی قلت وسبسٹڈی کے خاتمے،بجلی کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ، وولٹیج کی کمی، بجلی بلات پر ناجائز ٹیکسیز کیخلاف احتجاجی کال پر تتہ پانی میں بھی عوام باہر نکل آئی ،انجمن تاجران ، عوامی ایکشن کمیٹی اورسول سوسائٹی تتہ پانی کے زیر اہتمام ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیاگیاجس میں تاجروں وشہریوں اور سول سوسائٹی کے افراد نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی، اس دوران شہر بھر میں مکمل شٹرڈائون اور پہیہ جام رہا، مظاہرین حکومت کیخلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے،ظلم وستم ہائے ہائے، ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے، نااہل حکومت ہائے ہائے،ہمارے مطالبات پورے کرو،ساڈا حق ایتھے رکھ ،آٹا مہنگا، بجلی مہنگی، نامنظور نامنظورکے فلک شگاف نعروں سے شہر گونجتا رہا،
مظاہرین نے شہر بھر کا چکرلگایا ، بعدازاں میلاد چوک تتہ پانی پہنچے جہاں یہ احتجاجی مظاہرہ ایک احتجاجی جلسہ کی شکل اختیار کرگیا، احتجاجی جلسہ سے ڈسٹرکٹ کونسلر ملک عبدالرحیم ایڈووکیٹ،جنرل سیکرٹری انجمن تاجران تتہ پانی خواجہ ساجد حسین،ضلعی صدر لبریشن فرنٹ ایاز کریم مغل، صدر انجمن تاجران سلطانیہ مارکیٹ سردار عبدالوحید جنہال،سردار خضر عباس،ملک غلام عباس،انجینئر عدیل نسیم ، انجینئرعدنان سلطانی، محسن رضا چوہدری ،عبدالوحید چوہدری سردار احسن آفتاب، حمزہ ملک،قاضی نسیم احمد ،سردار الطاف خان،حمزہ طارق،حافظ ریاست احمد اور دیگرنے خطاب کیا
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بدترین مہنگائی کا عوام کا جینا محال کردیا ہے، سیلز ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، سرکاری اداروں میں رشوت خوری کا خاتمہ، نااہل آفیسران کا فوری تبادلہ کیا جائے، منگلا ڈیم میں زیادہ پانی بھرنے سے حکمران باز رہیں، رٹھوعہ ہریام پل کو فوری مکمل کیا جائے، متاثرین منگلا ڈیم کے معاوضہ جات میں اضافے سمیت تمام مسائل حل کئے جائیں، سرکاری اداروں میں لوٹ مار بند کی جائے، سستے داموں آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے، بن خرماں سمیت پورے ضلع میرپور کو سوئی گیس فراہم کرتے ہوئے گیس کی لوڈشیڈنگ بند کی جائے، حکمران عیاشیاں تک کریں. اوورسیز کشمیریوں کی جائدادیں کا تحفظ کیا جائے، ریاست کے ہر شہری کو مفت صحت و تعلیم اور روزگار فراہم کیا جائے.
کامران طارق ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ ہم حکومت اورانتظامیہ کو 2 ہفتے کا الٹیمیٹم دیتے ہیں کہ فوری طور پر مسائل کے حل کیلئے اقدامات کئے جائیں وگرنہ ہم تمام شہری نمائندگان اور تنظیمیں کی مشاورت سے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، ہم عوامی مسائل کے حل کیلئے ہر حد تک جائیں گے، سٹیج سیکرٹری کے فرائض سردار فضل رازق ایڈووکیٹ نے ادا کئے، نائب صدر چوہدری عاشق حسین ایڈووکیٹ نے قرار داد منظور کروائی،غریب عوام بنیادی سہولیات کیلئے ترس رہی ہے جبکہ حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے،عوام سے کوئی دلچسپی نہیں ،حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کیلئے مشکلات میں اضافہ کررہی ہے،اب عوام کے صبرکا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے وہ کوئی زیادتی برداشت نہیں کرینگے،ہر ظلم وزیادتی کیخلاف بھرپور آواز اٹھائینگے،اپنے حقوق چھین کر لیں گئے.
انہوں نے پرزورمطالبہ کیا کہ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات اٹھائے ، آٹے پر سبسٹڈی کو بحال رکھتے ہوئے وافرمقدار میں فراہمی کو یقینی بنائے،بجلی کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ فوری ختم اوروولٹیج کی کمی دور کی جائے، بجلی بلات پر ناجائز ٹیکسیزکو فوری ختم کیا جائے،انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے آزادکشمیر کے شہریوں کو فری بجلی فراہم کی جائے،ڈسٹرکٹ کونسلر ملک عبدالرحیم ایڈووکیٹ نے احتجاجی مظاہرہ/جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت وقت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ آل آزادکشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے جملہ مطالبات پورے کئے جائیںگے ،عوام کوبنیادی سہولیات فراہم کی جائیں محکمہ برقیات سمیت دیگر ادارے فوری اپنی اصلاح کریں ، عوامی حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گئے،کسی بھی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کرینگے۔
کوٹلی(بیورورپورٹ)عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر تاریخ ساز احتجاجی مظاہرہ۔تاجروں کا تمام بازاروں میں رضا کارانہ طور پر مکمل شٹر ڈان۔ایک بڑا جلوس نکلا اور ابشار چوک میں غیر معینہ مددت تک دھرنا شروع کر دیا۔شہر میں پانی کی عدم دستیابی،مہنگی بجلی،مہنگا آٹا،ڈگری ہولڈر نوجوانوں کا نوکریاں نہ ملنا،کوٹلی کے وسائل کو لوٹنے والوں،دیگر ایشوز پر کوٹلی کے عوام کا بالاآخر میٹر شاٹ ہو گیا،عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر کوٹلی کی تاجر برادری،وکلا،این جی اوز،سول سوسائٹی ہائے ہائے کرتی سڑکوں پر نکل آئی،کالج گراونڈ سے شروع ہونے والا احتجاج شہید چوک سے ہوتا ہوا آبشار چوک میں جلسہ عام کی شکل اختیار کر گیا .
جلسہ عام سے کمیٹی کی صدر امتیاز اسلم چوہدری ،سید شفقت گیلانی،کامران جازم،کرامت حیدری۔ کامریڈ قاسم،عامر کاشمیری، لبرشن فرنٹ زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی،امیدوار اسمبلی ملک یوسف ایڈووکیٹ،صدرڈسٹرکٹ بار سردار غلام مصطفی ایڈووکیٹ،صدر تاجران ملک یعقوب احمد منہاس،سابق صدر پریس کلب شاہنواز بٹ،متحدہ ایکشن کمیٹی کے چیرمین لیاقت مغل ایڈووکیٹ،سیکرٹری جنرل انوار بیگ،اعجاز مغل،صدر پریس کلب یاسر حسن،میڈم تعظیم عزیز ایڈووکیٹ،افر شبیر ایڈووکیٹ،ملک شاہنواز زراعت ایڈووکیٹ،نصیر احمد راٹھور،راجہ عبدالرحیم،پہلوان ذوالفقار جنجوعہ،عاطف اکرام جرال،عبدالرحیم زبیر ب، عارف ناز،اسرار بٹ،ملک وقاص کشمیری،تبارک سید ایڈووکیٹ،پروفیسر حبیب ملک،راجہ رضوان،سردار معروف طفیل سمیت سیاسی و سماجی طلبا تاجر تنظیموں نے اپنے قافلوں کے ہمراہ شرکت کی اور خطاب کیا۔
مقررین نے حکومت کے خلاف دل کھول کر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی عیاشیاں بند کرے،عوام کو سستا آٹا فراہم کیا جائے،بجلی کے بلات پر لگے ٹیکسیز فوری طور پر ختم کیے جائے،پڑھے لکھے نوجوانوں کو روز گار مہیا کیا جائے،کوٹلی کے شہریوں پہلی بات کہ پانی ملتا ہی نہیں ہے اگر ملے تو وہ پانی انسان تو دور کی بات جانور بھی نہ پیئے،پبلک ہیلتھ کے دفتر کو فوری طور ختم کر دیا جائے اور وہاں پر بینھسوں کا باڑہ بنایا جائے ،آج ہر شہری حکومت سے تنگ ہے اور اپنے حقوق کی خاطر باہر نکلے ،کوٹلی میں افسر شاہی بنی ہوئی ہے بہت سارے آفیسران کام ہی نہیں کر رہے ہیں۔