کل جماعتی حریت کانفرنس کی سینئر رہنماء اورجموں وکشمیر ماس موومنٹ کی چیرپرسن کا یوم استحصال کے موقع پرپیعام

21

سرینگر ۔اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)مقبوضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی سینئر رہنماء اورجموں وکشمیر ماس موومنٹ کی چیر پرسن فریدہ بہن جی نے پانچ اگست 2019ء کو کشمیر کی تاریخ میں ایک سیاہ ترین دن قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ اگست 2019ء کے یکطرفہ بھارتی اقدامات کشمیریوں کے خلاف کھلی بھارتی جارحیت ہے، پوری کشمیری قوم اس دن یوم سیاہ مناکر فاشسٹ مودی حکومت کے غیرقانونی اقدامات کو مستردکرکے اپنے بنیادی حق خود ارادیت کے مطالبے کو واضح کریں، پانچ اگست کو منائے جانے والے یوم استحصال کے موقع پر اپنے پیعام میں فریدہ بہن جی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ ریاست میں آبادیاتی تبدیلیاں لانے کے مذموم عزائم کے ساتھ جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے کی قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی بھارتی کوشش نے پوری وادی کو دنیا کی سب سے بڑی انسانی جیل میں تبدیل کر دیا ہے جہاں تمام بنیادی حقوق سلب کرنے کے ساتھ شہریوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا گیا .

بھارت نے نہ صرف کشمیریوں کوزندگی کی بنیادی سہولیات تک رسائی سے محروم کر دیا ہے بلکہ انہیں قابض افواج کے ہاتھوں بدترین ظلم و بربریت جن میں ماورائے عدالت قتل، عصمت دری ، گرفتاریاں، بدسلوکی اور دوران حراست تشدد شامل ہے ،کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔، نقل و حرکت کومحدود کرنے کے ساتھ معلومات تک رسائی سے انکار کیا گیا،سیاسی قیادت کا یا تو ماورئے عدالت قتل کیا گیا یا جعلی مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔ فوجی طاقت کے ذریعے ان غیر قانونی اقدامات کو کشمیریوں پر زبردستی مسلط کرنے کے لئے قابض فوجیوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ کیا گیا جس سے کشمیر دنیا کا سب سے بڑا ملٹر ی زون بن گیا ہے جہاں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔کشمیری خاتون رہنماء نے واضح کیا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے حوالے سے آرٹیکلز کی منسوخی بھارتی آئین، اقوام متحدہ کی قراردادوں، جنیوا کنونشن، کشمیری عوام کی مرضی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔بھارتی آئین کہتا ہے کہ آرٹیکل 370 کو یکطرفہ طور پر منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں نے 1947 کے بعد سے بہت زیادہ مصائب جھیلے ہیں اور اب بھی قابض افواج کے ہاتھوں ان کے ظالمانہ قوانین اور جابرانہ ہتھکنڈوں کا سامنا کر رہے ہیں ، کشمیریوں کی لازوال قربانیاں رنگ لا کربھارتی غلامی سے جلدآزادی حاصل ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے چار سال مکمل ہونے پر یوم سیاہ منایا جارہا ہے۔انہوں نے 5 اگست کو مقبوضہ علاقے میں کشمیری عوا م سے مکمل ہڑتال ، سول کرفیو اور بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تاکہ بھارت اور دنیا پر واضح ہوسکے کہ کشمیری بھارت کے ان یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرتے ہیں اور وہ صرف اور صرف اپنا حق خو د ارادیت چاہتے ہیں جس کا وعدہ ان سے خود بھارت نے اقوام متحدہ کی قرارداوں میں کررکھا ہے ،انہوں نے سرکار سطح پر پانچ اگست کو یوم استحصال منانے کا اعلان پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان کشمیریوں کی اپنی حمائت جاری رکھے گا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم وتشد د اور ریاستی دہشت گردی کو عالمی سطح پر بے نقاب کرتا رہے گا۔ واضح رہے کہ نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے 5اگست2019کو بھارتی آئین کی دفعات370اورA۔35منسوخ کر کے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔علاوہ ازیں کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر پاکستان شاخ کے رہنماء منظوراحمد ڈار نے کہا ہے کہ 5اگست 2019 کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جسے کشمیری کبھی فراموش نہیں کرسکتے،بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات سے جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں ہوسکتی ، پانچ اگست،یوم استحصال کے موقع پر اپنے پیغام میں منظور احمد ڈار نے کہا کہ مودی کی فاشسٹ سرکار نے ہندوتوا ایحنڈے کے تحت پانچ گست 2019 کو جن غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے تحت مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت کو ختم کیا وہ اقوام متحدہ کے قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور بھارت ایسے نام نہاد اقدامات سے جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم نہیں کرسکتا، انہوںنے کہاکہ 05اگست کو مقبوضہ کشمیر میں ان بھارتی غیر قانونی اقدامات کو چار سال مکمل ہونے کو ہیں اور بھارت ان غیر قانونی اقدامات کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور اپنے مذموم منصوبے کے تحت کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے .

جس کے تحت مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی شہریوں کو آباد کرانے کے لئے کشمیر کے جعلی سٹیٹ سبجیکٹ جاری کئے جارہے ہیں ، بھارت کی مودی سرکار کشمیر میں اسرائیلی طرز کے منصوبے پر عمل پیرا ہے جس کے تحت کشمیری مسلمانوں کو اپنی سرزمین میں دخل کرکے ان کی جائیدادوں پر قبضہ کیا جارہا ہے ،،پانچ اگست 2019 کا اقدام اسی منصوبے کا ایک حصہ ہے ، حریت رہنماء نے کہا کہ ،پانچ اگست 2019 کا بھارتی غیرقانونی اقدام کشمیر کی خصوصی شناخت پر ایک براہ راست حملہ ہے بھارت میں انتہاپسند مودی حکومت کشمیریوں کی نسل کشی کے بعد اب ان کی شناخت بھی ختم کرنے پرتلی ہوئی ہے،5اگست 2019کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال خطرنا ک حد تک بگڑ چکی ہے،کشمیریوں خاص کر نوجوانوں کے قتل عام میں اضافہ ہواہے ،نو لاکھ سے زائد افواج کشمیریوں پر ظلم وتشدد کررہی ہے اظہار رائے پر پابندی ہے ،کشمیریوں صحافیوں کو ڈرایا دھکایا جارہا ہے اور کئی گرفتار کیا جاچکا ہے تاکہ کشمیر کی حقیقی صورتحال پر پردہ ڈالا جاسکے اور دنیا کو کشمیر کی صورتحال سے لاعلم رکھا جائے۔ منظور احمد ڈار نے بھارتی اقدامات کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی کھلم کھلا خلا ف ورزی قرار دیتے ہوے کہا کہ پانچ اگست کشمیرکی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جسے کشمیری کبھی بھی فراموش نہیں کریںگے۔

کشمیریوں نے کبھی بھی بھارتی کا غاصبانہ قبضہ تسلیم نہیں کیا ہے اور نہ وہ 5اگست 2019کے غیر جمہوری اور غیر قانونی اقدامات کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہوںنے واضح کیا کہ کشمیری عوام کے حوصلے بلند ہیںاور شہادت ،گرفتاریاں و تشد د ان کی جدوجہد میں رکاوٹ نہیں بن سکتے،وہ غاصبانہ بھارتی قبضے کے خاتمے اور حق خود ارادیت کے حصول کی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ پانچ اگست کو کشمیری اور پاکستانی یوم استحصال مناکر دنیا پر یہ واضح پیغام دیں گے کہ وہ بھارت کے پانچ اگست 2019کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کومسترد کرتے ہیں اور عالمی برادری کو بھارت کی جانب سے کشمیر بارے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہیے ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں