مظفرآباد کوہالہ روڈ سفر کیلئے انتہائی خطرناک قرار، جہلم فالٹ لائن پر مزید لینڈ سلائیڈ سے دریا پر مصنوعی ڈیم بننے کا امکان، جیالوجی ماہرین کی رپورٹ

47

مظفرآباد(بیورورپورٹ)آزاد کشمیر یونیورسٹی مظفرآباد کے شعبہ جیالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد بشارت نے اپنے ٹیم ممبران ڈاکٹر محمد طیب ریاض اورخواجہ شعیب احمد کے ہمراہ ایس ڈی ایم اے کی تحریک پر دومیشی لینڈ سلائڈ کا ابتدائی سروے کیا. سروے کے مطابق یہ لینڈسلائیڈ ایکٹیو جہلم فالٹ لائن پر واقع ہوئی ہے جس نے ہزارہ اور مری فارمیشنز کے درمیان چٹانوں کو تباہ کیا ہوا ہے.

شدید بارشوں کی وجہ سے مری فارمیشن کی مٹی نے پانی جذب کر کے پھیلنا اور بیٹھنا شروع کیا جس کی وجہ سے لینڈ سلائیڈ نے ایک بڑے رقبے کو متاثر کیا ہے. 12 گھر مکمل تباہ ہو چکے ہیں جبکہ اس کے قریب مذید گھر بھی خطرے میں ہیں.

فوٹو : فرحان خان تصویر: فرحان خان

رپورٹ کے مطابق لینڈ سلائیڈ مسلسل جاری ہے ، مسلسل جاری بارشوں کی صورت میں مزید علاقہ زد میں آسکتا ہے. علاوہ ازیں مسلسل حرکت کی صورت میں بڑی مقدار میں مٹی کے تودے دریا میں گرنے کی صورت میں مصنوعی ڈیم بننے کے امکانات بھی موجود ہیں جس سے مین کوہالہ روڈ متاثر ہونے اور نشیبی علاقوں میں سیلاب کی صورت حال پیش آسکتی ہے.

اس رپورٹ کے دو دن بعد سلائیڈ کا ملبہ دریا تک پہنچ چکا ہے. رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ لینڈ سلائیڈ سے متصل تمام آبادی کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے اور بارش اور چشموں کے پانی کو لینڈ سلائڈ ایریا سے باہر نکاسی کا انتظام کیا جائے.پروفیسر بشارت کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں اس لینڈ سلائیڈ پر مفصل جیولوجیکل سروے کروایا جائے جس کی روشنی میں اس لینڈ سلائیڈ کی روک تھام اور تدارک کے لئے مناسب تیکنیکی اقدامات تجویز کئے جا سکیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں