اسلام آباد (سٹیٹ ویوز)ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے سابق صدر اور ممتاز قانون دان سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنانے کا فیصلہ غیر ضروری عجلت میں کیا گیا ہے جو آئین میں دئیے گئے فیئر ٹرائل کے بنیادی حق سے متصادم ہے .
انھوں نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ کیا تھا .جس کے بعد ٹرائل کورٹ کو فریقین کو دلائل دینے کے لئے مناسب موقع فراہم کرنا چاہئے تھا اور آزادانہ ذہن سے اس مقدمہ کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے معاملے کا ازسر نو جائزہ لینا چاہئے تھا لیکن جس طرح عجلت میں فیصلہ کیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ تھا اور جج پر وکلا صفائی کے اعتراضات درست تھے.
سردار عبدالرازق نے کہا کہ اپنے دفاع میں گواہان پیش کرنا بھی ملزم کا بنیادی حق ہوتا ہے مگر ٹرائل کورٹ نے وہ حق بھی عمران خان کو نہیں دیا انھوں نے کہا کہ اپیل میں یہ فیصلہ برقرار نہیں رہ سکتا اور ہائیکورٹ اسے فیئر ٹرائل کے بنیادی حق کے منافی قرار دے کر کالعدم کر سکتی ہے.