معاشرتی و معاشی عروج و استحکام سے تنزلی و عدم استحکام اور بحیثیت قوم ہماری ذمہ داریاں

153

تحریر: انجینیئر شکیل احمد راولاکوٹ

معزز قارئین میرا آج کا عنوان قیام پاکستان سے لے کر گزشتہ 75 سالوں میں مملکت خداداد پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر کی معاشرتی و معاشی عروج و استحکام سے معاشرتی تنزلی و انحطاط و معاشی عدم استحکام باریے ہے۔دنیا کی کسی بھی ترقی یافتہ یا ابھرتی ہوئی معاشی قوت و طاقت کا اگر اپ تقابلی جائزہ لیں تو کسی بھی معاشرے اور قوم کے عروج و استحکام اور خوشحالی کے پس پردہ دو محرکات اور عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔اول معاشرتی اقدار اور دوم معاشی استحکام۔

معزز قارئین پوری دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کے معاشرے اور معاشی استحکام انہیں دو عوامل کے گرد گھومتا ہے۔میں بالعموم مملکت خداداد پاکستان اور بالخصوص ریاست جموں و کشمیر کے عوام سے مخاطب ہوں۔ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو کئی صدیاں پیچھے نہیں بلکہ محض 50 سے 60 سال یعنی نصف صدی پیچھے اپنے اور آپ کے آباواجداد کی زمانہ اور دور میں لے جانا چاہتا ہوں۔کیا وجہ ہے کہ آج سے 75 سال قبل جب ریاست میں ایک بھی سرکاری محکمہ تک کا وجود نہ تھا اور نہ ہی روزگار کے کوئی متبادل ذرائع اور مواقع موجود تھے۔

محض چند سو یا ہزار گھرانے تھے جن کے سربراہ برٹش آرمی میں ملازمت اختیار کیے ہوئے تھے۔جن کی آمدن سے ان کے گھروں کا کسی حد تک گزارا چلتا تھا۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ برٹش آرمی میں ملازمت اختیار کرنے والے چند ہزار گھرانوں کے سربراہان بھی اپنی کل آمدن اور بجٹ کا نصف سے زائد حصہ اپنی زمینوں سے ہی کماتے تھے۔مگر آج کے مقابلے میں ہم سے بہتر زندگی گزار رہے تھے۔پیسہ ناپید تھا۔جنس کے بدلے جنس کا تبادلہ ہوتا تھا۔چاول پیدا کرنے میں خود کفیل اپنے سال بھر کا چاول علیحدہ کر کے بقیہ چاول کو گندم یا کسی دوسری اشیائے خود نوش یا اناج جو زمینوں سے حاصل ہوتا تھا کے ساتھ ایکسچینج کرتا تھا اور اپنے پورے سال کے لیے چاول,گندم اور دیگر اجناس اور اشیائے خوردونوش کو ایک دوسرے کے ساتھ تبادلے اور تعاون سے اپنا نظام زندگی اور معیشت کا پہیہ چلاتے تھے۔خوشیاں اور غم سانجے تھے شادی بیاہ میں عروسی ملبوسات کے جوڑے تک ایک دوسرے کو فراہم کیے جاتے تھے۔

کچے امکانات کی تعمیر سے لے کر گھاس کٹائی اور دیگر ہر طرح کے رسم و رواج اور معاملات گاؤں اور دیہاتوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ باہم تعاون اور مدد کے ساتھ سر انجام دیتے تھے۔روایتی تعلیم کی کمی ضرور تھی۔مگر دینوی تعلیم و تربیت ,اخلاقی اقدار, اعتقاد و یقین,ایمان اور عمل پر پختہ یقین رکھتے تھے۔رزق حلال کما کر کھانے والے,بظاہر کم علم کے ساتھ زیادہ با عمل,محنتی,جفا کش,خوددار,مہمان نواز,صاف گو ,توکل علی اللہ پر یقین رکھنے والے اور اللہ کی رضا میں راضی رہنے والے لوگ تھے۔نیک اور سادہ طبیعت و مزاج کے لوگ تھے۔انسانی ضروریات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں۔آج کے لوگوں سے بہت بہتر اور صاف گو ہونے کے ساتھ ساتھ پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے ہر انسان کی ضرورت دوسرے انسان کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔

ان کی باہم ضرورتوں نے بھی انہیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے رکھا ہوا تھا۔پنچائیت کی عملداری تھی۔لوگ معاشرتی اقدار اور قدروں کا لحاظ اور پاس بھی رکھتے تھے اور معاشرتی اقدار اور رسم و رواج کے ساتھ بغاوت کے انجام سے بھی خوب واقف تھے۔پیسا ناپید تھا۔ہر انسان دوسرے انسان کے ساتھ اپنی ضروریات کی وجہ سے جڑا ہوا تھا۔اس لیے چاہتے ہوئے بھی کوئی کسی کی حق تلفی اور زیادتی کا مرتکب نہیں ہو پاتا تھا۔کیونکہ وہ سوشل بائیکاٹ اور پنچائتی فیصلوں کے نتیجے میں سنگین رد عمل سے بھی واقف تھا۔اس کے مقابلے میں آج کا انسان جو مادیت,پرستی,طاقت اور اثر و رسوخ پر یقین رکھتا ہے۔وہ خوشی و غمی سے لے کر اپنی تمام ضروریات کو پیسے اور طاقت کی بنیاد پر حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔کسی بھی معاشرے کی اخلاقی اقدار کی تنزلی و معاشی زوال کی اس سے بدترین کیفیت اور کوئی بھی نہیں ہو سکتی۔

معزز قارئین یاد رکھیں کسی بھی معاشرتی بہتری و معاشی استحکام کا سفر اجتماعی نہیں بلکہ انفرادی تبدیلی و انفرادی خود انصاری سے اجتماعی معاشی و معاشرتی بہتری کی طرف جاتا ہے۔آپ بے شک دنیا کی کسی بھی ابھرتی ہوئی معاشی قوت اور عروج پانے والے معاشرے کا مشاہدہ فرما لیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کےحکومتیں اور ریاست ماں جیسی ہوتی ہے یا ہونی چاہیے اور کچھ بنیادی قوانین کا اطلاق اور بنیادی سہولتیں حکومتی اقتدار و اختیار سے عوام تک پہنچنے ناگزیر ہوتے ہیں۔کسی بھی ریاست کے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی و خوشحالی میں حکومتوں کا کلیدی کردار ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔مگر یاد رکھیں کسی بھی انقلابی معاشی و معاشرتی تبدیلی کا آغاز کسی بھی شخص یا فرد کی انفرادی تبدیلی اور انفرادی خود انحصاری سے جڑا ہوتا ہے۔

اگر ایک شخص 25 سے 30 لاکھ کی خطیر رقم رسک اینڈ کاسٹ پر کسی گمنام ایجنٹ کو دے کر اپنی جان داؤ پر لگا کر دیار غیر اور یورپ جانے کا رسک لے سکتا ہے۔جس کے بدلے میں اس فرد کو 10 سے 15 فیصد بھی امید و گمان نہیں ہوتا کہ وہ اس ملک اور ریاست میں پہنچ بھی پائے گا یا نہیں۔تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہی فرد اپنے شہر,قصبہ یا گاؤں میں پانچ سے اٹھ لاکھ تک کی سرمایہ کاری کرنے اور اپنے اور اپنی قوم و ملک کی بہتری میں کردار ادا کرنے کو کیوں تیار نہیں۔اپنی زمین میں سرمایہ کاری,کھیتی باڑی گلہ بانی,کاشتکاری اور تجارت جو سوا لاکھ انبیاء کا پیشہ اور ذریعہ معاش تھا کو اختیار کر کے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی زندگیوں میں بہتری,خوشحالی و سدھار لانے کو کیوں تیار نہیں۔

معزز قارین یاد رکھیں کوئی بھی اجتماعی تبدیلی حکومتی ایوان و اقتدار وا اختیار سے نیچے کی طرف نہیں آئے گی۔اآج بھی ہماری عوام کی اکثریت ایک ایماندار اور حب الوطن جرنیل اور کسی سیاسی,انقلابی رہنما کی متلاشی اور منتظر ہے۔یہ قانون قدرت بھی ہے اور رب کا فرمان بھی ہے۔کہ اللہ تبارک و تعالی اس قوم کی حالت کبھی تبدیل نہیں کرتے جو اپنی حالت اور کیفیت کو خود تبدیل کرنے کے لیے کوشاں اور خواہاں نہ ہوں۔دنیا میں ایسی کسی بھی تبدیلی اور معاشرتی اقدار کی بہتری کی کوئی نظیر نہیں ملتی جو انفرادی تبدیلی اور انفرادی خود انحصاری سے اجتماعی تبدیلی اور اجتماعی خود انصاری اور معاشی بہتری کی طرف نہ گئی ہو۔

70 سال پہلے جب جنس کے ساتھ جنس کا تبادلہ ہوتا تھا اور پیسہ ناپید تھا تو زیادہ آسودگی اور خوشحالی کیوں تھی۔آج ہم نے اپنی ہر طرح کی ضروریات کو جس پیسے کے ساتھ جوڑ دیا ہے وہ پیسہ نا اہل ,بددیانت اور کرپٹ حکمرانوں کی ناقص حکومتی پالیسیوں معاشی چیلنجز ,بگڑتی ہوئی ملک کی معاشی صورتحال,غربت ,بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے عام عوام سے ایک مرتبہ پھر دور ہوتا چلا جا رہا ہے۔لیکن اس کے باوجود کوئی بھی ایسا فرد نہیں کہ جو اپنی ضروریات کو 100 فیصدی پیسے اور کرنسی کے بجائے متبادل ذرائعوں سے متوازن کرے۔

مثال کے طور پر اگر ایک شخص کی ماہانہ آمدن 50 ہزار روپے ہو اور اس کے اخراجات 80 ہزار روپے ماہانہ ہوں تو عام حالات میں کوئی ایسا فرد جو اپنی زمین اور گھر بار کا مالک بھی ہو وہ اپنے اخراجات کو اپنی زمین میں کاشتکاری یا پیسے کے متبادل ذرائعوں سے پورا کرنے کے بجائے 50 ہزار سے زائد اضافی 30 ہزار روپے لوگوں سے قرض اور ادھار لے کر بیلنس کرے گا مگر نہ تو وہ کبھی اپنے اخراجات کو اپنی آمدن سے بیلنس اور متوازن کرنے کی کوشش کرے گا اور نہ ہی اپنے 30 ہزار روپے کے اضافی فرق کو روپے کے متبادل ذرائعوں سے پورا کرنے کی کوشش کرے گا۔

نتیجتا جہاں وہ شخص قرضوں کے بوجھ تلے دبتا چلا جائے گا دوسری طرف پیسے کی طلب اور رسد کا اضافی بوجھ ریاست کے اوپر بھی پڑتا ہیے جس سے ریاست کبھی بھی معاشی طور پر مستحکم اور خوشحال نہیں ہو سکتی۔کیا وجہ ہے کہ ہم سبزیاں, دودھ, گوشت, مرغیاں ,انڈے, چاول اور گندم اپنی ملکیتی زمینوں کو زیر استعمال لاتے ہوئے کاشتکاری اور مال مویشی رکھنے کو تیار نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کی ہماری معیشت و نظام زندگی 100 فیصدی پیسے کا محتاج ہو چکا ہے اور ہم اس طرز زندگی اور نظام معیشت میں بری طرح سے جکڑے جا چکے ہیں۔مگر اس کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی آمدن اور اخراجات کو متوازن نہیں کر سکتے۔اس کا ہرگز یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم ماہانہ حاصل ہونے والی آمدن سے زائد اخراجات کو اپنی زمینوں اور دوسرے متبادل ذرائعوں سے حاصل نہیں کر سکتے۔

حقیقت یہی ہے کہ ہم کاہل, سست اور نکمے ہو چکے ہیں۔سہل پسندی اور کام نہ کرنے کی عادت نے ہمیں ناکارہ بنا دیا ہے۔بشمول میرے ہم لوگوں کی اکثریت محنت اور کام کرنے کو تیار نہیں۔میں سب لوگوں کی بات نہیں کر رہا 10 سے 15 فیصد لوگ آج بھی اپنی زمینوں سے محنت مزدوری کر کے اپنا نظام زندگی اور معیشت کا پہیہ چلا رہے ہیں۔میں ان لوگوں کی عظمت,محنت اور ہمت کو سلام پیش کرتا ہوں۔ایسے خوددار اور محنتی لوگ معاشرے کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں۔میرے ہی گاؤں کے ایک محنت کش جو پیشے کے اعتبار سے الیکٹرانکس ور الیکٹرک آلات کے ٹیکنیشن ہیں نے گزشتہ دنوں اپنے ہی گھر کے ایک کمرے میں 14 کلو سے زائد ریشم کی پیداوار کی۔جس کی مالیت 45 ہزار روپے سے زائد بنتی ہے۔

محترم ارشد غازی صاحب کا کہنا تھا کہ وہ نہ صرف اس پیداوار میں اضافہ کریں گے بلکہ اگلے وقتوں میں ریشم کا دھاگہ تیار کرنے کی بھی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔میں محترم ارشد غازی صاحب کو ان کی محنت اور خود انحصاری کی طرف پہلے قدم پر انہیں مبارکباد اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔اگر ہم محنت, کاشتکاری,گلہ بانی اور اپنی زمینوں کو آباد کرنا شروع کر دیں تو آپ یقین مانیں اس سے جہاں آپ کی اور میری زندگیوں میں معاشی طور پر انقلاب آ جائے گا وہیں پر بحیثیت قوم اور ملک ہم دنیا کی خوشحال و ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔مگر اس کے لیے ہمیں کام ,کام اور صرف کام کرنا ہوگا۔

اگر ہم نے اپنے معاشرے اور ملک کو ترقی یافتہ ملک اور کارآمد معاشرہ بنانا ہے اور ہمیں اپنی ریاست اور اپنی معیشت کو بہتری اور خوشحالی کی طرف لے کر جانا ہے تو پھر ہمیں معاشرتی تبدیلی کو بھی اپنی ذات سے شروع کرنا ہوگا اور معاشی تبدیلی کے لیے بھی اپنی ذات کو خود انحصاری کی طرف لے کر جانا ہوگا۔تبھی ہم اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر پائیں گے۔ہمیں اپنی اصل اور ماضی کی طرف جانا ہوگا۔سوا لاکھ انبیاء سمیت اپنے آبا اجداد کے پیشوں,کھیتی باڑی ,گلہ بانی اور تجارت کو اپنانا ہوگا۔انفرادی معاشی خود انصاری سے اجتماعی خود انحصاری اور خودکفالت کا سفر اختیار کرتے ہوئے ہم اس ریاست اور مملکت خداداد پاکستان اور اس کی معیشت کو استحکام اور سنبھالا دینے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

معاشی و معاشرتی بہتری و استحکام کے لیے شروع کی جانے والی کسی بھی ایسی تحریک کی نظیر اقوام عالم میں نہیں ملتی اور نہ ہی یہ قانون قدرت ہے کہ جس تبدیلی اور معاشی استحکام کا آغاز بحیثیت انفرادی ہماری ذات سے نہیں ہوگا۔اس معاشرے کی اخلاقی اقدار میں بہتری اور معاشی ترقی اور خوشحالی کا خواب دیکھنا مردوں کے شہر میں کفن بیچنا اور اندھوں کے شہر میں آئینے بیچنے کے مترادف تو ہو سکتا ہے۔مگر اس سوچ اور کیفیت کی کوکھ سے کبھی بھی قومی خوشحالی اور بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی۔مجھے یقین کامل اور امید واثق ہے کہ جس دن مجھ سمیت ہر شخص نے تنزلی و انحطاط کے شکار معاشرے کی بہتری اور معاشی استحکام کی بہتری کا سفر اپنی ذات کی اصلاح اور انفرادی خود انحصاری سے شروع کر دیا اس دن ریاست جموں و کشمیر اور مملکت خداداد پاکستان کو دنیا کی خوشحال و ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں شامل ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں