اسلام آباد(سٹیٹ ویوز، شہزاد خان)مسلم لیگ ن آزادکشمیر اختلافات کا شکار،صدر جماعت پارٹی چلانے میں مکمل ناکام،نظریاتی کارکنان نظر انداز،پارٹی صدر کا من پسند لوگوں میں جماعتی عہدہے تقسیم کرنے کے الزامات کی بوچھاڑ کی گئی ہے۔ مسلم لیگ ن آزادکشمیر کی سینئر قیادت کا سوشل میڈیا پر پارٹی صدر کے فیصلوں پر سخت ناراضگی اور تنقید کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ممبر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر ایک سال قبل مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے صدر بنائے گئے تھے اور سینئر نائب صدر کا عہدہ سابق وزیر حکومت مشتاق منہاس کو سونپا گیا تھا ایک سال گزرنے کے باوجود مسلم لیگ ن آزادکشمیر تنظیم مکمل نہ کر سکی جسکی وجہ سے پارٹی کارکنان شدید تحفظات اور تذبذب کا شکار ہیں اور پارٹی کارکنان اپنے تحفظات کا اظہار سوشل میڈیا پر کرتے ہوئے نظر بھی آئے.
اس سلسلہ میں سینئر لیگی رہنماء و سابق وزیرحکومت فاروق سکندر نے پارٹی صدر شاہ غلام قادر اور سیکرٹری جنرل کے فیصلوں پر سخت خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ایپ فیس بک اکاونٹ پر لکھا کہ مسلم لیگ کی کل تنظیم سازی کی گئی جس کی پہلے سے کوئی اطلاع نہ مجھے دی گئی نہ لوگوں کو بتایا گیا طریقہ کار جمہوری نہیں اپنایا گیا شخص واحد کی خواہش اور ضد کی بنا پر فیصلے کیے جاتے ہیں باقی جنرل نیازی کی طرح سر جھکائے فیصلوں پر دستخط کررہے ہوتے ہیں
صدر جنرل سیکرٹری کو مبارک باد امید ہے وہ بھی پچھلی تنظیم کی طرح گیارہ سال جماعت کی خدمت کریں گے صدر اور جنرل سیکرٹری سے اختلاف نہیں فیصلے ٹھونسنے پر اختلاف ہے.
بہت افسوس ہواکہ اس قابل ہی نہیں سمجھاجاتا کہ کسی مشورے میں شامل کیا جائے ووٹنگ کا بہتر آپشن تھا جو اپنایا نہ گیا ہیوی ویٹس کے نیچے جماعت بھی اور جمہوریت بھی دب جاتی ہے صدر جماعت مرکزی کو بھی مبارک
اسی طرح مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل وسابق وزیر حکومت چوہدری طارق فاروق نے سوشل میڈیا کی پر فاروق سکندر کے اعتراض پر جواب دیا کہ گزشتہ تین ماہ سے میں جماعتی معاملات سے بوجوہ کافی حد تک لاتعلق ھو چکا ہوں ۔
جماعت کی مقامی قیادت سے کچھ جماعتی اور حکومتی امور پر اختلاف رائے ہے جس کا اظہار سوشل میڈیا پر غیر مناسب ہے تنظیمی امور پر صدر پاکستان مسلم لیگ ن آزاد جموں کشمیر جناب شاہ غلام قادر مشاورت کے عمل پر یقین نہیں رکھتے ان تمام معاملات میں وہ اپنے کیے گئے فیصلوں کے خود ذمہ دار ہیں ۔ مجھے اوپر بیان کیے گئے جملہ امور میں ذمہ دار نہ سمجھا جائے میں انہی جماعتی فیصلوں میں شریک ہوں جو باہمی مشاورت اور جمہوری طریقے سے جماعت کے آئین کے مطابق کیے جائیں ۔
تمام جماعتی ساتھی اور کارکنان میرے لیے قابل احترام ہیں ۔ جن کو جس سطح پر عہدیدار منتخب کیا گیا ہےوہ سب مبارکباد کے مستحق ہیں ان کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوں