اسلام آباد(کاشف میر، سٹیٹ ویوز)بھارتی جیل میں قید کشمیری حریت لیڈر یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کو پاکستان میں عبوری وفاقی حکومت میں وزیر اعظم پاکستان کا معاون خصوصی برا ئےانسانی حقوق نامزد کیا گیا ہے۔ مشعال ملک کے والدین کا تعلق چکوال پنجاب سے ہے جبکہ سال 1988 انکی پیدایش کراچی میں ہوئی، ابتدائی تعلیم اسلام آباد کی بیکن ہاوس سکول میں جبکہ انہوں نے بیچلرز آف کامرس لندن سکول آف اکنامکس سے کیا ۔
مشعال ملک کے والد حسین ملک اکنامکس کے پروفیسر تھے اور جرمنی میں نوبل پرائز کا جیوری ممبر بننے کا اعزاز حاصل تھا، انکی وفات 2002میں ہوئی،مشعال کی والدہ ریحانہ حسین سیاسی خاتون ہیں، یہ پاکستان مسلم لیگ کی ویمن ونگ کی سیکرٹری جنرل رہیں، انکے بھائی حیدر ملک امریکہ میں مقیم ہیں اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ فروری 2009میں مشعال ملک کی شادی جموں کشمیر کے مقبول آزادی پسند رہنما یاسین ملک سے ہوئی ، شادی کے بعد یہ دو مرتبہ مقبوضہ کشمیر جا چکی ہیں،سال 2012میں انکے ہاں ایک بیٹی کی پیدایش ہوئی جس کا نام رضیہ سلطانہ ہے،
مشعل ملک پیس ایند کلچر آرگنائزیشن کو بطور چیرپرسن چلاتی آئی ہیں، یہ خود آرٹسٹ بھی ہیں اور انسانی حقوق بارے پینٹنگ بناتی ہیں، مشعال ملک اپنے آرٹ ورک کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو اجاگر کرتی ہیں، معصوم کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو سامنے لانے کیلئے انکی اپنی بنائی پینٹنگز کی نمائشیں بھی منعقد ہو چکی ہیں۔ یہ جموں کشمیر کے موضوع پر مختلف سیمینار بھی منعقد کراتی ہیں اور مختلف اہم مواقوں پر کشمیر کیلئے پروگرام منعقد کراتی ہیں، قومی و بین الاقوامی میڈیا پر یِسین ملک کے کیس کو سامنے لانے سمیت مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر اپنی آواز اٹھاتی ہیں۔ مشعال ملک کو پاکستان میں 2018 میں نیشنل ویمن رایٹس ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ سال 2020میں انہیں اقوام متحدہ نے ویمن ایکسی لینس ایوار فار پیس اینڈ ہیومن رایٹس سے نواز ا.
یاسین ملک بھارتی مقبوضہ کشمیر کے معروف آزادی پسند لیڈر اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین ہیں۔یاسین ملک منقسم ریاست جموں کشمیر کی مکمل آزادی اور وحدت کی علمبردار ہیں۔ یہ نظریہ جموں کشمیر کے عظیم شہید مقبول بٹ کا دیا ہوا ہے، یاسین ملک اپنے نوجوانی کے دور سے ہی آزادی پسند سیاست میں سرگرم ہو گئے تھے، انہیں کئی بار قید کا سامنا بھی کرنا پڑا، نوے کی دہائی کے وسط تک یسین ملک کی جماعت انڈیا کے خلاف مسلح کاررائیوں کو درست سمجھتی تھی تاہم 1994 میں اس جماعت نے عدم تشدد پر مبنی سیاسی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں یاسین ملک نے انڈین زیرانتظام کشمیر میں ایک دستخطی مہم بھی چلائی تھی۔واضح رہے کہ گزشتہ سال نئی دہلی کی ایک عدالت نے یاسین ملک کو جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک کو نئی دلی کی تہاڑ جیل میں مارچ 2019 میں گرفتار ی کے بعد قید کیا گیا تھا،گزشتہ سال عدالت نے یاسین ملک کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمے میں عمر قید سنائی تھی،عدالت نے یاسین ملک کو دو مرتبہ عمر قید کے ساتھ دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کا موقف رہا ہے کہ یاسین ملک کشمیریوں کے ہیرو اور فریڈم فائیٹرہیں، ان کو ناجائز سزا سنائی گئی، انڈیا کی عدالت کے فیصلے کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا جائے گا، مشعال ملک نے یاسین ملک کی سزا کے فیصلے کو انصاف کا قتل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ ناقابل قبول ہے اور ہم ہار نہیں مانیں گے۔‘ ’یکطرفہ فیصلہ کشمیری عوام کو کسی صورت قبول نہیں جو جھوٹ پر مبنی ہے۔