مظفرآباد(فیصل جمیل، سٹیٹ ویوز)عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر مظفرآباد ڈویثرن بھر میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف پہیہ جام اور شٹر ڈاون ہڑتال شروع کر دی گئی، دارلحکومت مظفرآباد میں مکمل شٹر ڈاون ہڑتال جاری ہے جبکہ تمام شاہراوں کو ٹائر جلا کر پہیہ جام ہڑتال کی گئی ہے. دارالحکومت کےعلاوہ نیلم اور ہٹیاں ضلع کے ہیڈکوارٹرز سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تاجروں نے رضا کارانہ طور پر شٹر ڈاون ہڑتال کر رکھی ہے جبکہ ٹرانسپورٹ یونین نے پہیہ جام ہڑتال کر رکھی ہے. مظفرآباد ایبٹ آباد شاہراہ کو واپڈا کالونی کے مقام پر بند کر کے مطالبات کے حق میں مظاہرین نے احتجاجی مظاہرہ شروع کر رکھا ہے اور حکومت مخالف نعرے بازی شروع کر رکھی ہے.
عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر ہونے والے اس احتجاج میں ڈویثرن بھر کے تاجر، وکلاء، سول سوسائیٹی سمیت ہر مکتبہ فکر نے حمایت کر رکھی ہے جبکہ آزادکشمیر اسمبلی میں اپوزیشن کی جماعت پی ٹی آئی نے بھی اس احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کر رکھا ہے ، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق نے احتجاج کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اپنے تمام ووٹرز و سپورٹرز سے احتجاج میں شریک ہونے اور کامیاب بنانے کی مہم چلا رکھی ہے. خواجہ فاروق نے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دارلحکومت لاوارث ہے، ہمارے مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ وزیر اعظم آزادکشمیر کو اسلام آباد سے مظفرآباد بھیج کر انہیں ہدایت کی جائے کہ اپنا دفتر دارلحکومت میں لگائیں ، اور اسمبلی اجلاس بلا کر عوامی ایشوز پر ایوان میں بحث کرائی جائے.
عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت کے سامنے چارٹر آف ڈیمانڈ رکھا ہے، جس کے مطابق بجلی بلات سے تمام غیر ضروری ٹیکسز کا خاتمہ کیا جائے، گلگت بلتستان کی طرز پر آزادکشمیر کی عوام کو سستہ آتا مہیا کرتے ہوئے بحران ختم کیا جائے، نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلہ پر عمل درامد کیا جائے. مظفرآباد شہر کیلئے گریٹر واٹر سپلائی اسکیم اور سالڈ ویسٹ منجمنٹ پراجیکٹ کا آغاز کیا جائے اور سلاٹر ہاوس بھی تعمیر کیا جائے. لوہار گلی ٹنل پر کام شروع کیا جائے اور کوہالہ تا مظفرآباد روڈ 12 ماہ کھلے رکھنے کیلئے اقدامات کیے جائیں، وزراء، مشیران ، افسران کو مفت دی جانے والی مراعات ختم کی جائیں، قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے لوگوں کو فوری بحال کیا جائے.
عوامی ایکشن کمیٹی نے آج 31 اگست کی شٹرڈاون اور پہیہ جام کے لیے حکمت عملی مرتب کی تھی، جس کے مطابق مظفرآباد ڈویژن میں مکمل شٹرڈاون کے دوران سوائے ایمبولنس کے تمام ٹریفک مکمل طور پر بند رہکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ شٹرڈاون اور پہیہ جام کو یقینی بنانے کیلئے مختلف کمیٹیاں قائم ہیں جو کوہالہ سے امبور، کنیناں سے رشید آباد، لوہار گلی سے بالا پیر، نوسیری سے چہلہ اور مظفرآباد شہر میں شٹرڈاون اور پہیہ جام کو یقینی بنا رہی ہیں اور امن و امان کے معاملات کی ذمہ دار بھی ہیں۔ ضلع وائز رابطوں کے لیے بھی تین کمیٹیاں بنائی گئی تھی جو باقی تمام کمیٹیوں سے رابطہ رکھ رہی ہیں۔ہڑتال کو کامیاب بنانے میں ضلع مظفرآباد کے کاونسلرز پیش پیش ہیں، مظفرآباد کے میئر سمیت تمام کاونسلرز عوامی احتجاج میں شامل ہیں.
گزشتہ دنوں عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی وزراء کے درمیان مذاکرات ناکام ہوئے، عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران نے وزراء حکومت کہا تھا کہ وہ اپنی عزت کو بحال کریں کیونکہ آزاد کشمیر میں کسی بھی ہائیڈل پراجیکٹ کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کے آئین کی دفعہ 52-سی کے تحت بڑے ہائیڈل پراجیکٹس کو اسمبلی فلور پر پیش کرنا ضروری ہے، مگر آپ کو تو کوئی لفٹ ہی نہیں کراتا۔ اراکین عوامی ایکشن کمیٹی نے وزراء سے کہا کہ پاکستان نے 1970ء اور 1996ء کے مختلف نوٹیفیکیشنز کے ذریعے آزادکشمیر کو وہ تمام حقوق دینے کا وعدہ کر رکھا ہے جو وہاں صوبوں کے لیے پاکستانی آئین کی دفعہ 157 اور 161 میں درج ہے۔
ایکشن کمیٹی نے عوامی نمائندگی کے دعویدار وزراء حکومت کو کہا تھا کہ کم از کم واپڈا کے ساتھ معاہدے تو کریں تاکہ ہم سب کی مسلسل بے عزتی نہ ہو۔ وزراء نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت ایسے اقدامات کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے عام آدمی کو فائدہ ہو۔ البتہ آٹے کی سبسڈی سب لوگوں کو نہیں دی جا سکتی۔ جس پر کمیٹی ممبران نے کہا کہ اگر سبسڈی گلگت میں دی جا سکتی ہے تو آزاد کشمیر میں بھی دی جانی چاہیے۔ منگلا ڈیم اپنا خرچہ پورا کر چکا ہے اور جاگراں پراجیکٹ بھی اپنا خرچ پورا کر چکا ہے۔ ان تمام پراجیکٹس کی بجلی آزاد کشمیر کے لوگوں کو دی جائے۔ اس دوران سابق سیکرٹری اکرم سہیل کی تحریر پر بات ہوئی تو میٹنگ میں تلخی پیدا ہو گئی جس کے بعد کمیٹی کے اراکین سپیکر چیمبر سے باہر نکل گئے ، مذاکرات میں سپیکر اسمبلی چودھری لطیف اکبر، وزراء دیوان علی چغتائی، چودھری رشید، میاں عبدالوحید اور سردار جاوید ایوب جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے شوکت نواز میر سمیت 48 اراکین نے شرکت کی تھی.