کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں کی آڑ میں انسانی سمگلنگ کو روکا جائے۔ایف آئی اے کو درخواست

63

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) بیرون ملک منعقد کھیلوں میں شرکت کے لیے کھلاڑیوں کی ٹیم بھجوانے کی آڑ میں ان گنت غیر منظم گرو جن کی سپورٹس بورڈ میں نہ ہی کوئی قانونی رجسٹریشن موجود ہے اور نہ ہی انہیں متعلقہ سپورٹس ایسوسی ایشنز اور فیڈریشنز کی حمایت حاصل ہے ۔ ایسی جعلی اور غیر رجسٹرڈ فیڈریشنز پاکستان سے باہر بلخصوص جاپان، امریک ،کینیڈا اور یورہی ممالک میں دوران سال منعقد مقابلوں میں شرکت کرنے کے لیے ٹیمز لے کر جاتے ہیں جبکہ عہدہ داران پیسوں کے عوض ویزہ دلوانے کے لیے غیر متلقہ لوگوں کو کھلاڑیوں کی ٹیم کا حصہ بنا کر ساتھ لے جاتے ہیں اور وہاں جا کر ان میں سے کچھ کو سکپ کر کے باقی ٹیم جو کہ سیلف سپانسرڈ ہوتی ہے اور انٹرنیشنل مقابلے کے لیے تربیت یافتہ نہیں ہوتی اس کی مقابل میں شرکت کی وجہ اکثر ناقص کاردگردگی کا مظاہرہ کر کے انٹرنیشنل لیول پر پاکستان کی ساکھ خراب کرنے کا باعث بھی بنتے ہیں۔

ایسی ہی ایک آرگنائزیشن کے جاپان میں نومبر 2023 میں ہونے والے ورلڈ گڈول ٹورنامنٹ کے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ٹرائلز کے ایونٹ سیکریٹری قمر ندیم کی ایف آئی اے میں دی جانے والی درخواست کے مطابق یہ غیر رجسٹرڈ آرگنائزیشن جو کہ خود کو ورلڈ سو کیوکیوشن فیڈریشن پاکستان کہلواتی ہے انہوں نے چند سال پہلے جاپان سے ورلڈ سو کیوکیوشن آرگنائزیشن جاپان کی ایفیلیشن لے رکھی ہے جبکہ سپورٹس بورڑ اور کراٹے فیڈریشن پاکستان اِس غیر رجسٹرڈ فیڈریشن کو کسی بھی سطح پر آنر نہیں کرتی۔ اس جعلی فیڈریشن نے نومبر میں جاپان میں ہونے والے ورلڈ ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں کی شرکت کے لیے جعلی ٹرائلز کا اہتمام کیا اور ان جعلی ٹرائلز میں شرکت کے لیے آنے والے لوگوں میں کھلاڑیوں کے علاوہ کچھ تعداد ان سپانسرز کی بھی تھی جو پیسوں کے عوض جاپان کے ویزے کے متمنی تھے جبکہ افغانی باشندوں سمیت کئی غیر متعلقہ لوگوں کو انٹرنیشنل ٹیم میں شامل کیا گیا ۔

انسانی سمگلنگ کا یہ انوکھا اورمکروہ دھندہ اس جعلی فیڈریشن کے صدر راجہ خالد جنجوعہ جو کہ امریکن نیشنل ہے اور وہیں پر مستقل رہائش پزیر ہے اور وہ اپنے فائنل سلیکشن کے اختیارات کے حق کو استمال کرتے ہوئے کر رہا تھا جبکہ ان کے فرنٹ مین تصدق جو اسلام آباد میں موجود ہے اور ویزوں کی بابت پیسوں کی ڈیلنگ کرتا ہے انہوں نے ٹرائلز کے پروٹوکولز فالو نہ کرتے ہوئے غیر متعلقہ لوگ مبینہ طور پر مالی مفادات کے تحت ٹیم کا حصہ بنائے جبکہ اصل کھلاڑی سپانسرز کی عدم دستیابی کے باعث مقابلوں میں شریک نہ کئے گئے۔قمر ندیم کا کہنا ہے کہ ایف آہی آے کے نوٹس میں آنے کے بعد محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے جبکہ اس قسم کے لوگوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان سے باہر مقابلوں میں لے جانے والی فیڈریشنز کی رجسٹریشن کے حوالے سے تصدیق بھی ضروری ہے۔

ایف آئی اے کو انٹرنیشنل مقابلوں میں شرکت کے لیے جانے والوں کا ڈیٹا اکھٹا کر کے ان کی واپسی پر اتھارٹی کو باقاعدہ انفارم کرنے کے میکنزم کی تشکیل کی ضرورت بھی ناگزیر ہے۔قمر ندیم کا کہنا ہے کہ ایف آہی اے ایسے عناصر کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا جلد آغاز کرنے کا اعادہ کرے اور رجسٹرڈ آرگنائزیشن کے آفیشلز سمیت کسی بھی کھلاڑی کے مقررہ وقت میں واپس نہ آنے یا سکپ ہو نے کی صورت میں ارگنائزیشن کو بلیک لسٹ قرار دے کر ان کے عہدہ داران کے خلاف ہیومن ٹریفکنگ ایکٹ کے تحت ایف آہی اے میں مقدمہ کا اندراج کر کے آفیشلز کے خلاف سخت قانونی کارواہی ناگزیر ہے جبکہ ایسے میکنزم کی تشکیل بھی ضروری ہے جس کے تحت انٹرنیشنل مقابلوں میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کی ٹیکنکل ویلیویشن کے بعد ان کو اجازت دی جا سکے کہ وہ پاکستان کی نمائندگی دوسرے ہلیٹ فارمز پر کریں اور اچھی پرفارمنس کے باعث پاکستان کا نام روشن کریں اور پاکستان کا جھنڈہ غیر ملکی سر زمین پر لہرائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں